وہ تڑپ کر آگے بڑھا اور اسے اپنی بانہوں میں بھر کر بے اختیار چومنے لگا .. اس کے نین نقش کسی کومل اور نازک لڑکی کے سے تھے .. ایک غلاظت بھری زندگی جینے پر مجبور

عنبرین ولی……….شام کے سائے رات کی سیاہی میں مدغم ہورہے تھے ۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا خود کو سجانے میں مصروف تھا ۔ بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل کی موٹی لکیروں  نے حسن کو بڑھا دیا تھا۔ چست لباس اس کے نازک بدن پر خوب جچ رہا تھا ۔ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا اور  تھک کر سنگھار میز کے قریب دھرے اسٹول پر بیٹھ گیا ۔ پچھلے کچھ دن سےاسکی کیفیت  عجیب سی تھی ، وہ اپنے احساسات کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔ بھیڑ میں،  لوگوں کی تالیوں کی گونج میں ، اسے اپنی ہی درد بھری آواز بار بار سنائی دیتی ۔ اس کا تھرکتا وجود ساکت ہوجاتا ، مگر پھر اسے یاد آتا کہ وہ یہاں صرف اور صرف اسلئے بلایا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے قبیل کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف ہے۔ لوگوں کو ایسی تفریح دیتاہے کہ دس رقاصائیں مل کر بھی اسکے فن کی اونچائی تک نہیں پہنچ سکتیں ۔ اسی لئے تو وہ ایک خواجہ سرا ہونے کے باوجود ان بڑی بڑی محفلوں کی جان تھا ۔ پہلی نگاہ میں تو کوئی پہچان ہی  نہیں پاتا تھا کہ یہ ایک نازک اور چھریرے بدن کی عورت نہیں بلکہ خواجہ سرا ہے ۔

اس کے نین نقش  کسی کومل اور نازک لڑکی کے سے تھے ۔ مگر چال اور آواز کا بھاری پن بھانڈا پھوڑکر رکھ دیتا۔  اسی حقیقت کی وجہ سے تو وہ گھر سے دور تھا ۔ ایک غلاظت بھری زندگی جینے پر مجبور ۔ اس کے ماں باپ جانتے تھے کہ خواجہ سراؤ ں کی زندگی کوٹھے پر رہنے والی ، چوبارے سے جھانک  جھانک کر گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے والی طوائف سے بھی بدتر ہے۔ مگر وہ کیا کرتے ، ان کی معاشرے میں عزت تھی ۔ ایک مقام تھا ۔ وہ چھ بیٹوں کے باپ تھے ۔ ان کی بیوی نے بیٹی کی خواہش میں ساتویں اولاد پیدا کی ، مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اولاد نہیں ایک ایسا نامکمل وجود جننے جارہی ہے جسے لوگ انسان تو کیا جانور سے بھی بدتر سمجھتے ہیں ۔ جسے اسکے باپ نے اپنے ہاتھوں سے خواجہ سراؤں کے گروہ کے حوالے کیا ۔

گاڑی کا ہارن بجا تووہ ہڑبڑا کر جیسے ہوش میں آیا ،اور سارا درد اتار کر وہیں سنگھار پر دھر دیا ۔ فنکشن میں اسکی کارکردگی بہترین رہی۔ سارے پیسے اس نے گرو جی کے قدموں میں ڈھیر کردئے ۔ اسکی آدھی رات تو ان کے پیروں کو دباتے اور چومتے ہوئے گزرتی تھی ۔ گرو جی نے چاہے اسے اپنے فائدے کیلئے پالا مگر محبت تو اس پر یوں لٹائی تھی جیسے اس نے ان کے وجود سے ہی جنم لیا ہو ۔ وہی اس کا سب کچھ تھے ۔

اس کے گرو جی ، جن کے دن رات اس پریشانی میں گھلتے تھے کہ وہ بڑھاپے میں کیا کریں گے ۔ زمرد کی شکل میں اس قدر حسین بچہ دیکھ کر انہیں لگا جیسے وہ پھر سے جوان ہوگئے ہوں ۔ ایک طرف اس کے باپ نے دنیا والوں سے یہ کہا کہ ان کے گھر مردہ بچہ پیدا ہوا ہے جسے وہ خود ہی دفنا آئے ہیں ، زمرد کو بے حد چپکے اور انتہائی رازداری سے اسے خواجہ سراؤں کے حوالے کردیاتھا ۔ اس کےباپ نے شکرانے کے نفل ادا کئے تھے کہ کسی کو خبر نہیں ہوئی ۔ جبکہ دوسری جانب اس کے گرو جی دونوں ہاتھ بلند کئے خدا  کا شکر ادا کر رہے تھے کہ جس نے اس کے بڑھاپے کا ایسا حسین وسیلہ پیدا کیا ۔ اس سارے معاملے میں اسکی کیا حیثییت تھی بھلا؟ ایک کیلئے باعث ذلت اور دوسرے کیلئے امیدوں کا نیا جہان؟ ان کے پیروں کو چومتے اسکا دماغ پھر سے بھٹکنے لگا ۔

اس وقت اسکی عمر چودہ سال تھی جب گرو جی نے اسکے لاکھ اصرار پر اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ وہ کس کی اولاد ہے۔ وہ بھاگتا دوڑتا ان کے پاس پہنچا۔ جواب میں اسے دھتکار کے سوا کچھ نہ ملا ۔ وہ چھ بیٹوں کے باپ تھے ۔ اس جیسے بچے کی انہیں بھلا کیا ضرورت تھی ۔ اس جیسوں کی ضرورت  تو صرف ان کو ہوتی ہے  جن کے جسم طلب کی آگ میں جلتے ہیں ۔ ورنہ اس کے علاوہ وہ کس کے فائدےکے ہیں؟ کسی کے بھی نہیں ۔۔ ان کے بھی نہیں جن کی وجہ سے وہ اس دنیا میں آیا ۔ اسی لئے تو دھتکارا گیا ۔

کیا ہوجاتااگر وہ اسی گھر کے ایک کونے میں پڑا رہتا ۔ لوگ معذور اور ذہنی بیماروں کو بھی تو اپنے گھر میں رہنے دیتے ہیں ، ان کا خیال رکھتے ہیں ۔ اسے بھی معذور سمجھ لیا جاتا ۔ ناکارہ سامان سمجھ کر اسٹور میں جگہ دے دی جاتی ، وہ ایک جانب پڑا رہتا ۔ لیکن ایسی زندگی تو نہ گزارتا ،جیسی اب تھی ۔ بھیگی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے اس نے ایک نگاہ آسمان کو دیکھا ۔

مجھے بے حس کردے ، میر ااحساس چھین لے ۔ اسکے کپکپاتے ہونٹوں سے صدا  نکلی ۔ اس تکلیف سے نجات کا یہی تو ایک ذریعہ تھا کہ وہ   اپنی حساسیت کو مردہ کردے ۔وہ ہر رات آسمان تلے آکر بیٹھ جاتا اور یہی ایک دعا مانگتا ۔ اسے اب  ماضی یاد نہیں آتا تھا ، تیزی سے گزرتے وقت نے اسے مستقبل کی فکر میں الجھا دیا ۔ کچھ سالوں  بعد زمرد کو گرو جی نے اپنی جگہ دے دی ۔

ایک رات وہ بستر پر لیٹا بیتے وقت کو سوچ رہا تھا کہ کمرے کا دروازہ بجا ۔ اس نے  دروازہ کھولا تو سامنے ہی ایک ننھا معصوم وجود گہری نیند میں لیٹا فرش پر پڑا تھا ۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھا اور اسے اپنی بانہوں میں بھر کر بے اختیار چومنے لگا ۔ا سے لگا جیسے وہ خود کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ اپنے وجود کو بوسے دے رہا ہے ۔ اس لمحے اپنے دل میں اترتے محبت کے سمندر کو محسوس کر کے اس نے  شکر ادا کیا کہ خدا نے اسکی دعا قبول نہیں کی ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s