ایک کنویں سے نکل کر دوسرے کنویں میں مت پهنسیں..جاوید غامدی نے اپنے مداح سرا کو یہ کیوں کہا؟ آپ بهی جانئے..

اک بهائی کا غامدی صاحب سے پہلی بار مل کر یوں کہنا کہ “میری زندگی کی بڑی خواہش تهی آپ سے ملنا، آج بس پوری ہو گئی. آپ کی شخصیت سے میں نے بہت کچهہ سیکها اور بس اب آپ کے سوا مجهے کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہیں، میں بیان نہیں کر سکتا، آپ سے ملاقات کی خوشی کی کیفیت” اسی مفہوم کا عقیدت نامہ سن کر غامدی صاحب نے فرمایا :

“آپ کی محبتوں کا شکر گزار ہوں.بس ذہن میں رکهیے کہ عقیدت کے لیے رسالت مآب ص کی ہستی کافی ہے. مجهے ایک استاذ کا مقام دیجے بس اس سے زیادہ کچهہ نہیں، اور اپنےدل دماغ کو کهلا رکهیے، ایک کنوویں سے نکل کر دوسرے میں مت پهنس جائیے، بهلائی کی بات جہاں سے ملے قبول کیجے، میری کسی رائے کی غلطی جب واضح ہو جائے اسے ترک کر کے درست بات کو اختیار کر لیجے”

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s