برطانوی خاتون اپنے باپ کو ایک سال تک اپنا دوده پلاتی رهی……اگرچہ لوگوں کو یہ بات بہت عجیب لگے گی، لیکن یہ ایک بیٹی کی کہانی ہے ……

اخبار دی مرر میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں 40 سالہ ہیلن نے اپنے قریب المرگ باپ کی جان بچانے کے لئے کی گئی کوششوں کا احوال تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ہیلن کہتی ہیں کہ ان کے والد آرتھر کو پہلی دفعہ 20099ءمیں کینسر ہوا۔ یہ کینسر ان کی ہڈیوں کے گودے کو ختم کررہا تھا اور وہ دن بدن کمزور ہوتے جارہے تھے۔ ان کے جسم میں پروٹین کی مقدار ابنارمل طریقے سے بڑھ رہی تھی اور ان کی ہڈیاں کمزور ہورہی تھیں۔آرتھر کے پہلے کینسر کا علاج جاری تھا کہ چار سال بعد یعنی 2013ءمیں انہیں پراسٹیٹ کینسر بھی ہوگیا۔… lok3ہیلن کہتی ہیں کہ اپنے والد کی دردناک صورتحال دیکھ کر انہوں نے انٹرنیٹ پر تحقیق شروع کی تا کہ ان کی مدد کے لئے خود بھی کچھ کر سکیں۔ ہیلن بتاتی ہیں کہ انہیں 1995ءمیں کی گئی سویڈن کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق ملی، جس میں بتایا گیا تھا کہ چھاتی کا دودھ قوت مدافعت بڑھا کر کینسر کے خلیات کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ان دنوں وہ اپنے ننھے بیٹے کیسیس کو دودھ پلارہی تھیں جس کی عمر ایک سال تھی۔ ہیلن کے دل میں خیال پیدا ہوا کیوں نہ وہ اپنے کینسر میں مبتلا والد کی مدد کے لئے اپنی چھاتی کا دودھ استعمال کریں۔ انہوں نے اپنی والدہ اور والد کے ساتھ مشورے کے بعد بالآخر اس خیال کو عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور روزانہ دودھ نکال کر والد کو پلانے لگیں۔
ہیلن کا کہنا ہے کہ دوسرے کینسر کی تشخیص ہونے پر ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کے والد چند دن کے مہمان ہیں، لیکن جب انہیں دودھ دینے کا عمل شروع کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر پروٹین میں ہونے والا ابنارمل اضافہ کم ہونے لگا۔کچھ ہی دنوں بعد یہ اضافہ رک گیا اورآرتھر کی حالت بہتر ہونے لگی۔ ہیلن کہتی ہیں کہ اگرچہ ڈاکٹر ان کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے تھے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے والد، جنہیں چند دن کا مہمان بتایا جارہا تھا، بتدریج بہتر ہورہے تھے۔
ہیلن نے مزید ضرورت محسوس ہونے پر اپنی ایک دوست سے بھی درخواست کی، اور بالآخر وہ بھی ان کی مدد کے لئے تیار ہوگئیں۔ جب آرتھر کو چھاتی کا دودھ زیادہ مقدار میں ملنا شروع ہوا تو ابنارمل پروٹین میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور ان کی صحت سنبھلتی دکھائی دینے لگی۔ اگرچہ اس طریقہ علاج سے کینسر کی علامات میں واضح کمی ہونا شروع ہوگئی لیکن کمزوری بہت بڑھ چکی تھی اور دوسرے کینسر کا مقابلہ مشکل ثابت ہو رہا تھا، جس کے نتیجے میں بالآخر ڈیڑھ سال بعد ان کی موت ہوگئی۔
ہیلن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ ان کے والد صرف چند دن زندہ رہیں گے، لیکن وہ مزید ڈیڑھ سال زندہ رہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ چار سال قبل ہی کینسر کے لئے چھاتی کے دودھ کی افادیت سے آگاہ ہوتیں اور اسی وقت اپنے والد کی مدد شروع کردیتیں تو شاید وہ آج ان کے ساتھ ہوتے۔
ہیلن یہ بھی کہتی ہیں کہ اگرچہ لوگوں کو یہ بات بہت عجیب لگے گی، لیکن یہ ایک بیٹی کی کہانی ہے جو اپنے پیارے باپ کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ جس باپ نے انہیں زندگی دی اور اس دنیا میں زندہ رہنے کی طاقت دی، وہ اسے زندہ دیکھنا چاہتی تھیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s