میں کتنی ہی دیر آپکے پاس بیٹھی بالوں میں ہاتھ پھیرتی آپکے بالوں کو الجھاتی سنوارتی رہی، آپ کی ہاتھ کی انگلیوں سے کھیلتی رہی اور آپ کا میرے گالوں پہ اپنے یخ ہاتھوں سے تھپتھپانا……..

 رابعہ خزین

ادھوری یاد کی ایک کڑی

….آپ جو کہتے ہو کہ اپنی یاد تمھارے پاس ہی چھوڑ آتا ہوں, وہ یاد ہی سایہ بن کر تمھاری حفاظت پہ معمور رہتی ہے. یادوں کے اس سائے کو تم اپنا ہم زاد سمجھو. خود کو کبھی بھی اکیلا نا پاؤگی۔ میں آج بھی اس سائے سے پہروں باتیں کرتی ہوں۔ کمرے کی اکلوتی کھڑکی سے آتی چاند کی وہ مدھم روشنی میں بنتا آپکی یادوں کا سایہ میری ایک ایک بات بہت غور سے سنتا ہے, مجھے اکیلا پن محسوس ہی نہیں ہونے دیتا, کمرے میں بہت سے بیتے لمحات کو بکھیر دیتا ہے اور میں باری باری ان لمحات کو بند آنکھوں کی اسکرین پہ ویسے ہی چلتا دیکھتی ہوں جیسے وہ بیتے, مجھے اس کیفیت میں سرور آتا ہے, ایک سکون سا میرے اندر ہی اندر نس نس میں پھیل جاتا ہے, میں اسی تکیے پہ جس پہ آپ سر رکھ کے سوئے تھے پڑی نا جانے کون سے لمحے کی یاد کو سینے سے لگائے سو جاتی ہوں, اور نیند بھی ایسی گہری کے خواب تلک اس میں خلل نا ڈال پائیں-

وہی بستر جس پہ آپ مجھ سے باتیں کرتے کرتے سو گئے تھے اور میں کتنی ہی دیر آپکے پاس بیٹھی بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہی تھی, کتنا برا مناتے رہے, جاؤ جا کے سو جاؤ, اور میں ناراضگی سے منہ بنائے بیٹھی رہی, اور آپ نے بازو سے پکڑ کر مجھے ایک آخری بار کمرے کے دروازے پر لا کر چھوڑا اور کتنے ہی لمحے میں ٹی وی لاؤنج میں صوفے پہ بیٹھی غصہ کرتی رہی, اور اسی پھولے منہ کے ساتھ جب میں واپس کمرے میں آئی تو میری اتری شکل دیکھ کر آپ نے کہا تھا, اچھا بابا بیٹھ جاو, گنتی کی چار باتیں کر کے سو گئے, وہ آپ کی میٹھی سی نیند کے پیارے لمحات جس میں میں آپکے بالوں کو الجھاتی سنوارتی رہی, آپ کی ہاتھ کی انگلیوں سے کھیلتی رہی, آپ کتنے پر سکون انداز سے سوئے رہے, اور وہ ایک کروٹ جو سیدھے رخ پہ لی تھی, میرا بایاں ہاتھ آپکے ہاتھ میں تھا جو کروٹ پہ آپ کے ہاتھ کی انگلیوں میں ایسا پھنسا کے ہائے میں کتنی ہی دیر اپنے ہاتھ کی انگلیاں آپکے ہاتھ سے الگ کرتی رہی, دھڑکا تھا کے آپکی نیند نا خراب ہو جائے, اور ایک آخری بوسہ آپکے ماتھے پہ کیا ,دبے قدموں کمرے سے باہر آ گئی، وہ لمحات میرے لیے میرا مکمل اثاثہ ہیں-

وہ ایک حسین صبح کی یادیں, جب میں آپکے انتظار میں صوفے پہ ہی سو گئی تھی, ناجانے اس نتظار کی تھکاوٹ تھی یا آپکے آنے کی وہ خوشی کے آنکھ ایسی گہری لگی, نا دروازے کے کھلنے کی آواز آئی نا آپکے آنے کا احساس, وہ آپ کا میرے گالوں پہ اپنے یخ ہاتھوں سے تھپتھپانا, میں نے جو آنکھیں کھول کے واپس موند لیں, شاید کے کوئی حسین خواب ہو, یا میرا خیال, پر اگلے ہی لمحے وہ آپ کی پیاری آواز ,ایک لمحہ لگا تھا اٹھ کر بیٹھتے, اور پھر وہ آپکا میٹھا طنز (واہ گہری نیندیں لی جا رہی ہیں, کوئی پرواہ ہی نہیں کے کسی نے آنا بھی تھا) اور میری زبان پہ جیسے چپ کا تالا ہی لگ گیا ہو, وہ لمحات کس قدر حسین لگتے ہیں ,میں اب جو بیٹھ کے ان لمحات میں خود کو دیکھتی ہوں تو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آتا, وہ سب مجھے بس خواب لگتا ہے, کسی پیاری کہانی کے رومانوی حصے جیسا، مگر پھر مسکرا کر خود سے کہتی ہوں ارے پگلی وہ سب تمھارے سمیٹے یادوں کے انمول لمحات ہی ہیں –

سارے لمحات میں ایک لمحہ وہ بھی شامل ہے جب آپکے کہے الفاظ میری سماعت سے ٹکراتے ہیں, (جب مجھے جانا ہوتا ہے ان لمحات میں مجھ سے سو گز دور رہا کرو, میرے لیے قیامت ہوتے ہیں یہ لمحات) اور انہی لمحات میں میں جان بوجھ کر آپ کے قریب رہتی ہوں,ستاتی ہوں, آپ میرا ہاتھ جھٹکتے ہیں, مجھے دیکھ کر نظرانداز کرتے ہیں,جانتی ہوں آپکی آنکھیں نم سی ہونے لگتی ہیں, میں ان میں دیکھتی ہوں, آپکی ناک پکڑ کر کھنچتی ہوں, یاد ہے اتنا ہی کہتی ہوں ہمیشہ کے آپ جاتے ہیں تو میں بس یہ یاد رکھتی ہوں کے آپ واپس لوٹ آنے کو جاتے ہیں, کہنا آسان ہے,پر گاڑی کے دروازے تک میں آپکی شرٹ کھنچتی رہتی ہوں اور آپ کبھی مڑ کر نہیں دیکھتے,شاید یہ جانتے ہیں کہ تب آپکی آنکھیں اگر میں دیکھ لونگی تو سکون نہیں آئے گا, اور آپ بنا مڑے چلے جاتے ہیں,میں بلکل نہیں روتی, خوش رہتی ہوں, کیونکہ آپ کا ایک دفع کہا وہ جملہ کے بس ابھی آتا ہوں میرے لیے حرف آخر ہے, آپ کبھی چھوڑ کے جا ہی نہیں سکتے,آپ تو ہمیشہ آنے کے لیے جایا کرتے ہیں, اور میں ان لمحات میں ہمارے ساتھ کی پیاری یادوں میں زندہ رہتی ہوں, جو مجھے ہمیشہ خوش رکھتی ہیں-

یہ سب بڑا ہی عجیب لگتا ہے, بچپنا سا, بلکل ٹین ایجرز کی طرح کا فلسفہ,شاید لوگ بڑے خشک مزاج ہیں, یا چھپ چھپا کر سب ہی ایسے ہوتے ہونگے, اور سب کے سامنے بڑے سخت مزاج اور ایسے بنتے ہیں جیسے محبت ایک ڈرامہ ہو اور ہم جیسے سب بس ایکٹرز,مگر اسکا اصل بلکل الگ ہے, حساس ہونا اور اس حساسیت پہ ایک سختی کا خول چڑھا کر پھرنا خود کو دھوکا دینے جیسا عمل ہے, محبت فطری سا احساس ہے,اور اسکی ایک صورت آپ ہیں, جسکو دیکھ کر مجھے اپنے ایسا ہونے پہ اچھا احساس ہوتا ہے, مجھے اپنا آپ با معافی لگتا ہے, خود سے بات کرنے کا ڈھنگ, اپنے آپ کو ایک خاص جگہ رکھنے اور سلیقے سے سجائے رکھنے کا طریقہ آپ کے ساتھ سے آیا ہے, مجھے قطعاً حیا نہیں آتی خود کو محبوب کہنے میں, میری ہمت میرا حوصلہ آپ کی ہی ذات ہے, پھر کوئی مجھ پہ طنز کرے یا ہنسے مجھے اس پہ بھی پیار آتا ہے, کیسے معصوم لوگ ہیں, جو محبت کر بھی لیتے ہیں اور محبتوں پہ طنز بھی خوب گڑھ لیتے ہیں, قابل محبت لوگ ہیں جو محبت کو بس خریدا مال سمجھتے ہیں-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s