جہیز مخالف تحریک ، سات سو مسلم کنبوں نے چهے کروڑ روپے جہیز کی رقم واپس کردی

dowery1رانچی : جھارکھنڈ کے مسلمان جہیز کی رسم کے خلاف ایک اچھی تحریک چلا رہے ہیں۔ یہاں مسلم سماج کو جہیز نہ لینے کے لئے بیدار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال مئی میں جب ایک لڑکی کے گھر والوں نے جہیز دے کر بیٹی کی شادی کرنے کی کوشش کی تو کمیٹی کے لوگوں نے وہاں پہنچ کر جہیز کی رقم واپس کروا دی۔یہ شادی لاتیہار ضلع سے 10 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں ہوئی۔ یہاں بانو پروین (20) کی شادی علاقہ کے ہی محفوظ انصاری (25) سے طے ہوئی تھی ۔ محفوظ ویلڈنگ کا کام کرتا ہے۔ بانو کے والد نے اپنی بیٹی کی شادی میں 70 ہزار روپے کیش اور ایک موٹر سائیکل بطور جہیز دینا طے کیا تھا۔

مگر جب اس کی خبر جہیز مخالف تنظیم مطالبہ جہیز وطلاق روکو تحریک کو ہوئی ، تو وہ دونوں کنبوں کے گھر پہنچ گئے۔ اس ملاقات کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکے کے گھر والوں نے جہیز میں دی گئی 70 ہزار روپے لڑکی کے گھر والوں کو واپس کردئے ۔ بانو کے والد عین الحق کا کہنا ہے کہ ‘میں نے ان روپیوں سے اپنی بیٹی کے لئے برتن اور الماری خریدی۔ شادی طے وقت پر بہت اچھے طریقہ سے ہوئی۔ بانو اور محفوظ خوشی خوشی زندگی گزار رہے ہیں۔

جھارکھنڈ میں جہیز کے خلاف یہ کوئی محض ایک واقعہ نہیں ہے ، بلکہ یہ ریاست کے تین اضلاع پلامو، گڑھوا اور لاتیہار میں یہ تحریک بہت اچھی سے کام کررہی ہے۔انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق اس تحریک سے وابستہ علی نامی ایک شخص کا کہناہے کہ اکثر مجھ سے لوگ اپنی بیٹی کی شادی کے لئے قرض مانگنے آیا کرتے تھے، تبھی مجھے لگا کہ ہمارے معاشرے میں جہیز لی لعنت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے خلاف کہیں سے آواز نہیں سنائی دیتی۔ ابھی تک علی 700 مسلم کنبوں سے جہیز کی رقم جو کہ تقریبا 6 کروڑ کے ہے، واپس کروا چکے ہیں۔ بانو کے والد عین الحق نے کہا کہ میں نے 70 ہزار روپے تو واپس لے لئے ، لیکن موٹر سائیکل لینے سے انکار کر دیا۔

وہ میرے داماد کو شادی کے موقع پر میری طرف سے ایک تحفہ تھا ۔ بانو کے والد اپنے گھر میں چائے کی ایک دکان چلاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ غریب کے لئے بیٹی کی شادی کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔انہیں بانو کی شادی کے لئے اپنے رشتہ داروں سے اقتصادی مدد لینی پڑی۔ ان کے بڑے بھائی نے موٹر سائیکل دلوائی جو سورت کی ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ دوسرے رشتہ داروں سے 10 ہزار، 15 ہزار کی مدد کی۔

اب وہ ان روپیوں کو آہستہ آہستہ لوٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بانو کی شادی میں کل ڈھائی لاکھ کا خرچ آیا ، جس میں موٹر سائیکل کی قیمت بھی شامل ہے۔ عین الحق کے والد عثمان انصاری (65) کہتے ہیں کہ یہاں شادی کا یہی ریٹ چل رہا ہے۔ ایک لاکھ روپے اور موٹر سائیکل سے نیچے تو بات شروع ہی نہیں ہوتی۔ آپ کہیں بھی جا کر پتہ کر لیں۔بانو کے سسرال والے تین ایکڑ زمین پر کھیتی کرتے ہیں۔ ان کے سسر ستار کا کہنا ہے کہ جہیز میں ملے 70 ہزار روپے میں سے 50 ہزار روپے انہوں نے لے لئے تھے اور 20 ہزار ان کے دوسرے بھائی نے اپنی ضرورت کے لئے لے لئے تھے۔dowery

مگر جب کمیٹی نے ہم سے رابطہ کیا تو ہم نے روپے لوٹانے کا فیصلہ کرلیا ۔ ستار نے کہا کہ ان کے لئے روپے اکٹھا کرنا مشکل کام تھا۔ ان کی بیٹی عمرانہ حاملہ تھی اور کچھ پریشانیوں کی وجہ سے اسے اسپتال میں داخل کروانا پڑا تھا۔ اس میں کافی روپے خرچ ہو گئے تھے۔ اس سے الگ میں نے کپڑے اور زیورات بھی خرید لئے تھی، مگر یہ ہمارے کنبہ کی عزت کی بات تھی ، تو کسی طرح ہم نے روپیوں کا بندوبست کرکے 70 ہزار واپس بانو کے والد کو لوٹاد ئے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s