کنواری لڑکیوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ…20 لاکھ سے زیادہ غیر شادی شدہ خواتین میں 2 لاکھ ایسی ہیں جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہے۔

جدہ(نیوزڈیسک)سعودی عرب میں اعداد و شمار کی جنرل اتھارٹی کی جانب سے 2016 کے لیے کرائے جانے والے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ مملکت میں 20 لاکھ سے زیادہ غیر شادی شدہ خواتین میں 2 لاکھ ایسی خواتین ہیں جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہے۔ سروے میں سعودی خواتین کے لیے شادی کی تاخیر کی عمر 32 متعین کی گئی ہے۔ سروے
میں تاخیر کی عمر کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ” خاتون کی وہ عمر جس کے بعد اس کی شادی کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں”۔سروے نتائج میں یہ بات باور کرائی گئی ہے کہ شادی میں تاخیر کی شرح خواتین کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ مربوط ہے۔ یونی ورسٹی طالبات اور ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی خواتین میں شادی کی شرح 60% تک پہنچ گئی جب کہ انٹرمیڈیٹ پاس خواتین میں یہ شرح 43% سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ڈیموگرافک سروے کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ کم تعلیم یافتہ سعودی خواتین میں شادی کا تناسب بہت کم ہے۔ صرف لکھنا پڑھنا جاننے والی خواتین (15 برس یا اس سے زیادہ عمر کی) میں شادی کی شرح 6.99% ، ہائر ڈپلومہ کی حامل خواتین میں 19.7% ، پی ایچ ڈی یعنی ڈاکٹریٹ کی حامل خواتین میں 20.03% ، ڈپلومہ کی حامل خواتین میں 22.1% ، یونی ورسٹی گریجویٹ خواتین میں 26.97% اور ماسٹرز کی حامل خواتین میں شادی کی شرح 33.1% ہے۔سروے نتائج سے واضح ہوا ہے کہ 97.2% سعودی خواتین کی شادی (32 برس) یا اس سے کم عمر میں ہوئی جب کہ صرف 2.8% خواتین (32 برس) یا اس کے بعد رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔سروے میں متعین کی گئی شادی میں تاخیر کی عمر کی روشنی میں اس وقت مملکت میں 227806 خواتین کی شادی کی عمر گزر چکی ہے جب کہ مملکت میں 15 برس یا اس سے زائد کی غیر شادی شدہ خواتین کی مجموعی تعداد 2261946 ہو چکی ہے۔سروے کے مطابق زندگی میں تین یا اس سے زیادہ مرتبہ شادی کرنے والی سعودی خواتین کی تعداد 12835 سے زیادہ ہے جب کہ دو مرتبہ اس تجربے سے گزرنے والی خواتین کی تعداد 109484 ہے۔ جہاں تک مردوں کا تعلق ہے تو مملکت میں 107816 مرد تین یا اس سے زیادہ مرتبہ شادی کر چکے ہیں جب کہ دو مرتبہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے مردوں کی تعداد 424756 ہے۔سعودی مردوں اور سعودی خواتین کے درمیان تناسب پر نظر ڈالی جائے تو مجموعی طور پر ہر (100) خواتین کے لیے (104) مردوں کا تناسب ہے۔ اس سلسلے میں سب سے کم شرح الباحہ کے علاقے میں ہے جہاں ہر (100) خواتین کے لیے مردوں کی تعداد (93) ہے جب کہ مشرقی صوبے میں یہ شرح بلند ترین ہے یہاں ہر (100) خواتین کے لیے مردوں کی تعداد (109) ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s