بهارتی صحافی نے انڈین سرکار کو ننگا کر دیا..کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارتی صحافی کے سوالات پر مودی سرکار کو چپ لگ گئی..

کلبھوشن یادیو سے متعلق بھارتی صحافی کے سوالات پر مودی سرکار کو چپ لگ گئ بھارت تو یہی رٹا لگا رہا ہے کہ کل بھوشن یادیو جاسوس نہیں لیکن اس دعویٰ کی دھجیاں خود بھارتی سنئیر صحافی کرن تھاپر نے اڑا کر رکھ دی جس میں انہوں نے کئی ایسے سوال کئے ہیں جن کے جواب مودی سرکار دے بھی نہیں سکتیتجزیہ نگار اور سنئیر صحافی کرن تھاپر نے انڈین ایکسپریس kabushanمیں مضمون لکھا جس میں انہوں نے خود بھارتی حکومت کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کلبھوشن سے متعلق ایسے سوالات کئے ہیں جن کے جوابات تاحال مودی سرکار دینے سے قاصر ہیں ۔کرن تھاپر نے لکھا ہے کہ کل بھوشن یادیو کا معمہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا کردار واقعی پراسراربھی ہےبھارتی صحافی کے مطابق کل بھوشن یادیو کے پاس ایک کے بجائے دو پاسپورٹ کیوں تھے ؟ آخر دو پاسپورٹ الگ الگ ناموں سے رکھنے کا کیا جواز تھا ؟ دوسرے پاسپورٹ کی تجدید دو ہزار چودہ میں کیوں کرائی گئی ؟مسلمان نام سے پاسپورٹ بنانے کی آخر وجہ کیا تھی ؟ اصلی نام سے جاری پاسپورٹ کو کیوں ختم نہیں کرایا گیا ؟ بھارتی حکومت کل بھوشن یادیو تک رسائی مانگ رہی ہے لیکن پاسپورٹ کے نمبرز چیک کرنے سے کیوں کترا رہی ہے؟کل بھوشن یادیو ۲۰۰۷ میں ممبئی میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے اپنی ہی ماں کے ہی فلیٹ میں کیوں کرائے پر رہ رہا تھا ؟ آخر اس کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ اپنے مضمون میں کرن تھاپر نے سوال اٹھایا ہے کہ بھارت جب یہ واویلا کرتا ہے کہ کل بھوشن یادیو کو ایران سے اغوا کیا گیا تو کیا بھارت نے اس سلسلے میں ایرانی حکومت سے رابطہ کیا ؟صحافی کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے فی الحال اس بارے میں ایران سے کوئی رابطہ اور نہ ہی کوئی تحقیقات کی آخر اس کی کیا وجہ ہے مزید سوالات پوچھتے ہوئے کرن تھارپر لکھتا ہیں کہ ایران میں ۴ سے زیادہ بھارتی رہائش پذیر ہیں آخر کل بھوشن یادیو کو ہی کیوں اغوا کیا گیا جس کے ۲ دو پاسپورٹ ہیں ؟ کا کردار مشکوک ہےجس کی سرگرمیاں خطرناک ہیں۔بھارتی حکومت پاکستان میں سابق جرمن سفیر کا حوالہ دیتی ہے کہ انہوں نے کل بھوشن یادیو کے ایران سے اغوا کی بات کہی کیوں مودی حکومت نے سابق جرمن سفیر سے اس سلسلے میں مزید گفتگو نہیں کی ؟ بھارتی صحافی نے را کے سابق چیف اے ایس دلت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کل بھوشن یادیو بھارتی جاسوس ہے کرن تھاپر کے مطابق بھارتی حکومت سچ بتانے کے بجائے اصل صورتحال چھپانے کے لیے مختلف بہانے تراش رہی ہے۔ان کے مطابق سوالوں کے جواب ملنے کے بجائے مزید سوالات کا انبار لگتا چلا جارہا ہے اور بھارتی حکومت کی اس بات کی تصدیق کڑہی ہے کہ کل بھوشن یادیو ایک جاسوس ہی ہے جسے بچانے کے لیے مودی حکومت جھوٹ کا سہارہ لے رہی ہے ۔بھارتی میڈیا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کل بھوشن یادیو ، کراچی اور بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث تھا ۔ اور لیاری گینگ مافیا عذیر بلوچ سے اس کے رابطے تھے عزیر کی گرفتاری کے بعد ہی کل بھوشن یادیو گرفت میں آیا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s