یورپ جاکر فیشن اینڈ ڈیزائن کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمندنوجوان لڑکی داعش کے چنگل میں کیسے پھنسی..اُس پر کیا بیتی..جان کرآپ بهی کانوں کوہاته لگائیں…

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ جاکر فیشن اینڈ ڈیزائن کی تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والی نوجوان مراکشی لڑکی داعش کے ایک کارندے کے جال میں ایسی پھنسی کہ یورپ کی بجائے داعش کے گڑھ رقہ جا پہنچی۔ یورپ کا خواب تو پورا نہ ہو سکا البتہ عمر بھر کا رونا ضرور گلے پڑ گیا۔ داعش کی قید میں دو مزید شادیاں کیں، لیکن اب بیوہ ہے اور دو بچوں کے ساتھ ایک پناہ گزین کیمپ میں زندگی کے دن پورے کر رہی ہے۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اسلام میتات نامی اس لڑکی کا کہنا ہے کہ جب اس نے افغانی نژاد برطانوی بزنس مین خلیل احمد سے شادی کی تو وہ برطانیہ جانے کا خواب دیکھ رہی تھی، مگر اسے کیا خبر تھی کہ وہ اگلے تین سال داعش کی قید میں گزارے گی۔ میتات کی خوش قسمتی تھی کہ بالآخر وہ رقہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور اب کرد شہر کامیشلی کے ایک پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہے۔ اس کی گود میں 10 ماہ کی بیٹی ماریہ ہے جبکہ بڑا بیٹا عبداللہ بھی اس کے ساتھ ہے۔

تئیس سالہ اسلام میتات کا کہنا ہے کہ جب اس کی ملاقات اپنے ہونے والے خاوند سے ہوئی تو وہ سوچ رہی تھی کہ یورپ جاکر فیشن اینڈ ڈیزائن کی تعلیم حاصل کرے گی اور ایک خوبصورت زندگی بسر کرے گی۔ ان دنوں خلیل احمددبئی میں تھا اور ان کی پہلی ملاقات 2014ءکے آغازمیں ہوئی تھی۔ وہ اس سے شادی کرنے کیلئے مراکش گیا اور پھر اسے دبئی لے گیا۔
خلیل احمد اسے برطانیہ لے جانے کے وعدے کرتا رہا، مگر پہلے اسے افغانستان اپنے خاندان سے ملوانے لے گیا۔ اسلام میتات جلد از جلد لندن پہنچنے کی خواہاں تھی لیکن دوسری جانب خلیل احمد کے کچھ اور ہی منصوبے تھے۔ وہ کہنے لگا پہلے ترکی چلتے ہیں کیونکہ وہاں سے یورپ جانا آسان ہو گا۔ چند دن بعد وہ اسے ترک شہر استنبول لے گیا مگر وہاں سے سرحدی شہر غازیان تپ گیا اور پھر سرحد پار کرکے شام میں داخل ہوگیا۔
اسلام میتات کا کہنا ہے کہ غازیان تپ میں اس کی ملاقات کئی اور جوڑوں سے ہوئی جن کا تعلق سعودی عرب، الجیریا، فرانس سمیت کئی مغربی اور مشرقی ممالک سے تھا۔ یہ سب داعش کی خلافت میں پہنچنے کیلئے بے چین تھے۔ شام پہنچنے پر وہ بہت روئی چلائی مگر اب کوئی اس کی آہ و فریاد سننے والا نہ تھا۔

خلیل احمد کو جلد ہی کوبانی کے محاذ پر لڑنے کیلئے بھیج دیا گیا اور 8اکتوبر 2014ءکے روز وہ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوگیا۔ خلیل احمد کی موت کے بعد اسلام میتات نے ایک اور افغانی جنگجو ابو عبداللہ سے شادی کی، مگر وہ بہت بد اخلاق اور تشدد پسند تھا۔ ابو عبداللہ سے اس نے طلاق لے لی اور پھر ایک بھارتی جنگجو طلحہ الہندی سے شادی کرلی۔ خلیل احمد سے اس کا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا تھا اور طلحہ الہندی سے بچی ماریہ پیدا ہوئی۔
تین سال تک وہ طرح کی صوبتیں برداشت کرتی رہی، اور شاید یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا کہ رقہ میں ایک یزیدی لڑکی سے اس کی ملاقات ہو گئی۔ اس لڑکی کو بھی داعش نے اغواءکیا تھا، جس کے بعد ایک جنگجو نے اسے اپنی دلہن بنا رکھا تھا۔ اس لڑکی کو آس پاس کے علاقے اور عراقی سرحد کی جانب جانے والے ایک خفیہ راستے کے بارے میں علم تھا۔ اس لڑکی کی مدد سے اسلام میتات بالآخر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ داعش کی قید سے تو وہ فرار ہو گئی،لیکن عراقی پناہ گزین کیمپ میں اپنے دونوں بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اسے کچھ خبر نہیں کہ مستقبل کیا ہوگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s