اربن فارمنگ…مٹی کے بغیر سبزیاں اگانے کا طریقہ

دنیا کے کئی ممالک کی طرح نیویارک میں بھی اربن فارمنگ یا شہروں میں سبزیاں اور سلاد اگانے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سبزیاں صرف پانی اور اس میں شامل معدنیات اور اجزاء کے ذریعے اگائی جاتی ہیں۔

kilkil9696.jpgنیویارک کے دس کاروباری نوجوان اپنی ان کوششوں میں مصروف ہیں کس طرح مٹی کے بغیر سبزیاں تیزی  سے اگائی جا سکتی ہیں۔ بروکلین کار پارک کے علاقے میں ’ہاٹ ہاؤس‘ کنٹینر نما فارمز میں مقامی لوگوں کے لیے مقامی سطح پر سلاد وغیرہ اگایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد صنعتی سطح پر تیار کردہ غذا کا مقابلہ کرنا ہے، جسے ہزاروں میل کے فاصلے سے امپورٹ کرتے ہوئے دنیا کے مختلف شہروں اور علاقوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

مقامی سطح پر سبزیاں اگانے کا رواج اس وجہ سے بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ لوگ اپنی غذا کے بارے میں فکرمند ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے غذا کون تیار کر رہا ہے؟ اس طرح سبزیاں اگانے کا رواج امریکا میں تو نیا ہے لیکن یورپ کے کئی حصوں، خاص طور پر ہالینڈ میں اس طریقہ کار کا استعمال ایک عرصے سے کیا جا رہا ہے۔

اس طریقہ کارکے ذریعے سبزیوں کو ایک مکمل مصنوعی اور بند ماحول میں رکھا جاتا ہے اور اس ماحول کو خود کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ سبزیاں اگانے کے لیے ہائیڈروپونیک نامی سسٹم استعمال کیا جاتا ہے، جس کے تحت جڑوں کو معدنیات اور غذائی اجزاء کے ساتھ ملا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب یہ سبزیاں ابھی مارکیٹ میں دستیاب سبزیوں کی نسبت مہنگی ہیں۔ اس حوالے سے کورنیل یونیورسٹی میں شہری کاشتکاری کی تعلیم حاصل کرنے والی  ایک گریجویٹ طالب علم ویلی گوڈمین کا کہنا تھا، ’’ اس کا مستقبل اچھا ہے۔ امریکا میں پڑھے لکھے اور دولت مند لوگوں کی کمی نہیں ہے اور یہ لوگ مقامی سبزیوں کے لیے اچھے پیسے دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کیس میں سلاد کا ایک بالکل تازہ پیکٹ صرف سات ڈالر میں آپ کے گھر کے دروازے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔‘‘

نیویارک میں صرف یہ ہی نہیں بلکہ بلندو بالا عمارتوں کی چھتوں پر سبزیاں اگانے کا طریقہ بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ دوسری جانب کئی تجزیہ کار فارمنگ کے اس طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

مرضی کے مطابق ’ان ڈور فارمنگ‘ کے ذریعے اسٹرابیری وغیرہ اگانے کا معاملہ ہوا تو روایتی کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ابھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ طریقہ مستقبل میں زمین پر کاشتکاری کرنے کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s