جعلی پیر کا خاتون کو کپڑے اتارنے کا حکم، انکار پراس کے ساتھ کیا کیا جان کر آپ کو بھی شدید غصہ آئے گا

سرگودھا (ویب ڈیسک) چک 95 شمالی واقعہ کے بعد نام نہاد پیروں کے کالے کرتوتوں کے انکشافات کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ سرگودھا کی تحصیل پرانا بھلوال میں واقع دربار شاہ سلیمان نوری حضوری کے گدی نشین پیر کا اپنے بیٹوں، ملنگ اور نشئی خاوند کے ہمراہ خاتون کو اپنے حجرہ خاص میں بلوا کر کپڑے اتارنے کا حکم، انکار پر ہمراہ مذکوران خاتون پر تشدد، تھپڑوں، ٹھڈوں کی بارش، کپڑے پھاڑ دئیے، پیر کے ایک بیٹے نے دانت سے بازو پر بھی کاٹا، شور و واویلا کرنے پر بھاگ کر عزت بچائی۔ 10 ہزار ،موبائل اور سونے کی انگوٹھی بھی چھین لی۔ عورت ذات ہونے کی وجہ سے کوئی ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ بااثر ہونے کی وجہ سے اہل دیہہ نے چپ کا روزہ رکھ لیا۔روزنامہ خبریں کے مطابق پرانا بھلوال دربارہ شاہ سلیمان نوری حضوری کے عقب میں رہائش پذیر روبینہ بی بی نے غم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ میری 13 سال قبل غلام مصطفیٰ سے شادی ہوئی میرے بطن سے اس کے پانچ بچے پیدا ہوئے جن میں سے 4بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میرا خاوند نشے کا عادی ہے اور آرے پر کام کرتا تھا اور آرے والوں کا 50 ہزار کا مقروض تھا۔ گزشتہ روز صبح کے وقت بچوں کو سکول چھوڑ کر گھر آئی تو میرے خاوند نے مجھ سے کہا کہ چلو دربار پر پیر بلوارہے ہیں کوئی خاص بات کرنی ہے، میں نے گندم کی خریداری کیلئے 10ہزار روپے جمع کررکھے تھے، میں نے سوچا کہ پیروں کی بات سن کر گندم خرید کر لے آﺅں گی، میں اپنے خاوند کے ہمراہ دربار پر گئی تو میں دربار کے صحن میں رک گئی، میرے خاوند نے مجھے مجبور کیا اور کہا کہ اندر حجرہ میں جانا ہے وہیں پر بات ہوگی۔ جب میں اندر حجرہ میں داخل ہوئی تو وہاں پیر ظہور الحسن قادری گیلانی اس کے بیٹے خرم، عنیب اور اس کا خاص ملنگ بیٹھے تھے، میرا شوہر بھی ان کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا۔ پیر ظہور الحسن نے مجھے پکارا کہ اب کیا پروگرام ہے، میں نے کہا کیسا پروگرام، پیر نے حکم جاری کیا کہ کپڑے اتاردو میں نے کہا کیوں اتاردوں۔
اسی اثناءمیں مَیں نے حجرہ سے نکل کر باہر کی طرف بھاگنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے مجھے صحن میں دبوچ لیا اور پیر نے حکم دیا کہ مین گیٹ بند کردو، پیر کے دونوں بیٹوں نے مجھے تھپڑ، ٹھڈے اور زبان سے بازو پر کاٹنا شروع کردیا جبکہ پیر نے مجھے گلے میں کپڑا ڈال کر دم گھوٹ کر مارنے کی کوشش کی۔ میرا نشئی خاوند بھی ان کے ساتھ ملا ہوا تھا، میرے شور و واویلا پر اپنی عزت کے خوف سے مجھے ٹھکارا ملا اور میں نے باہر نکل کر شور مچایا کہ میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مقدمہ درج کراﺅں گی جس پر انہوں نے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ میرا خاوند مجھے گھسیٹتا ہوا گھر چھوڑ گیا اور مجھے زبردستی دھندہ کروانے کی دھمکیاں دیتا رہا، میں نے تھانہ میں درخواست گزاری لیکن بااثر ہونے کی وجہ سے پولیس کارروائی کرنے سے انکاری ہے۔ میرے بچے بھوکے پیاسے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہ ہے۔
اس سلسلہ میں جب پیر ظہور الحسن قادری گیلانی سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے روبینہ بی بی کے خاوند کو فری رہائش کیلئے مکان دیا ہوا تھا اب چونکہ مردم شماری ہورہی ہے تو ہم نے انہیں مکان خالی کرنے کا کہا لیکن یہ عورت بدتمیزی پر اتر آئی اور ہم پر بہتان لگانے شروع کردئیے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s