نفرت پھیلانے والے‘ متنازعہ امریکی پادری اور پانچ مسلمان مبلغین پر پابندی

ڈنمارک (جیوڈیسک) ڈنمارک نے ’

ڈنمارک (جیوڈیسک) ڈنمارک نے ’نفرت پھیلانے والے‘ چھ غیر ملکی مبلغین کے

ڈنمارک (جیوڈیسک) ڈنمارک نے ’نفرت پھیلانے والے‘ چھ غیر ملکی مبلغین کے ملک میں داخلے پر دو سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ ان مبلغین میں پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے نسخے جلانے والا متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے۔

ڈنمارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم نفرت انگیز تقریروں کو روکنے اور امن عامہ کو خلل سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے یا پھر تین سال تک کی سزائے قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس حکم کے نفاذ کی ذمہ داری ملک کی امیگریشن سروس کو سونپی گئی ہے۔

جو چھ مبلغین اگلے دو سال تک ڈنمارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے، اُن میں کینیڈا، سعودی عرب، شام اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے، جس نے سن 2011ء میں قرآن مجید کے نسخے جلا دیے تھے۔

جو چھ مبلغین اگلے دو سال تک ڈنمارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے، اُن میں کینیڈا، سعودی عرب، شام اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے، جس نے سن 2011ء میں قرآن مجید کے نسخے جلا دیے تھے۔

انہوں نے اس فہرست میں شامل چھ افراد کو ’نفرت پھیلانے والے‘ ایسے انتہا پسند مذہبی مبلغین قرار دیا، جو اُن کے بقول ’ہماری جمہوریت کے ساتھ ساتھ آزادی اور انسانی حقوق جیسی ہماری بنیادی قدروں کو بھی کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ان چھ میں سے کسی مبلغ نے حالیہ برسوں میں ڈنمارک کا دورہ بھی کیا تھا۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے البتہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی امام کمال المکّی ماضی میں اسکنڈے نیویا کے اس ملک میں جا چکا ہے جبکہ کینیڈا کا مسلمان عالم بلال فلپس سن 2011ء میں ڈنمارک کے سفر پر گیا تھا۔

چھ مبلغین کی اس فہرست کی تیاری کا محرک خفیہ کیمرے سے بنائی گئی فروری سن 2016ء کی وہ دستاویزی ویڈیو فلم بنی، جس میں ایک انتہا پسند امام کو ڈنمارک کی ایک مسجد میں اپنی تقریر میں یہ کہتے دکھایا گیا تھا کہ بدکاری کے مرتکب افراد کو سنگسار کر دیا جانا چاہیے۔

اس دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد ڈنمارک میں اس موضوع پر ایک وسیع تر بحث شروع ہو گئی تھی کہ کیسے متوازی معاشروں کو وجود میں آنے سے روکا جا سکتا ہے اور کیسے مذہبی انتہا پسندی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

جس قانون کے تحت یہ ’پبلک نیشنل لسٹ‘ جاری کی گئی ہے، اُس کی منظوری دسمبر 2016ء میں دائیں بازو کی حکومت اور اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹس دونوں کی حمایت کے ساتھ عمل میں آئی تھی۔

ڈنمارک اس طرح کی قانون سازی کرنے والا پہلا یورپی ملک نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی ایسے افراد کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، جو جرائم کے مرتکب ہونے پر سزا یافتہ ہوں یا جن کی موجودگی ’عوامی مفاد میں نہ ہو‘۔

عائد کر دی ہے۔ ان مبلغین میں پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے نسخے جلانے والا متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے۔

ڈنمارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم نفرت انگیز تقریروں کو روکنے اور امن عامہ کو خلل سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے یا پھر تین سال تک کی سزائے قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس حکم کے نفاذ کی ذمہ داری ملک کی امیگریشن سروس کو سونپی گئی ہے۔

جو چھ مبلغین اگلے دو سال تک ڈنمارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے، اُن میں کینیڈا، سعودی عرب، شام اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے، جس نے سن 2011ء میں قرآن مجید کے نسخے جلا دیے تھے۔

جو چھ مبلغین اگلے دو سال تک ڈنمارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے، اُن میں کینیڈا، سعودی عرب، شام اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے، جس نے سن 2011ء میں قرآن مجید کے نسخے جلا دیے تھے۔

انہوں نے اس فہرست میں شامل چھ افراد کو ’نفرت پھیلانے والے‘ ایسے انتہا پسند مذہبی مبلغین قرار دیا، جو اُن کے بقول ’ہماری جمہوریت کے ساتھ ساتھ آزادی اور انسانی حقوق جیسی ہماری بنیادی قدروں کو بھی کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ان چھ میں سے کسی مبلغ نے حالیہ برسوں میں ڈنمارک کا دورہ بھی کیا تھا۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے البتہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی امام کمال المکّی ماضی میں اسکنڈے نیویا کے اس ملک میں جا چکا ہے جبکہ کینیڈا کا مسلمان عالم بلال فلپس سن 2011ء میں ڈنمارک کے سفر پر گیا تھا۔

چھ مبلغین کی اس فہرست کی تیاری کا محرک خفیہ کیمرے سے بنائی گئی فروری سن 2016ء کی وہ دستاویزی ویڈیو فلم بنی، جس میں ایک انتہا پسند امام کو ڈنمارک کی ایک مسجد میں اپنی تقریر میں یہ کہتے دکھایا گیا تھا کہ بدکاری کے مرتکب افراد کو سنگسار کر دیا جانا چاہیے۔

اس دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد ڈنمارک میں اس موضوع پر ایک وسیع تر بحث شروع ہو گئی تھی کہ کیسے متوازی معاشروں کو وجود میں آنے سے روکا جا سکتا ہے اور کیسے مذہبی انتہا پسندی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

جس قانون کے تحت یہ ’پبلک نیشنل لسٹ‘ جاری کی گئی ہے، اُس کی منظوری دسمبر 2016ء میں دائیں بازو کی حکومت اور اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹس دونوں کی حمایت کے ساتھ عمل میں آئی تھی۔

ڈنمارک اس طرح کی قانون سازی کرنے والا پہلا یورپی ملک نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی ایسے افراد کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، جو جرائم کے مرتکب ہونے پر سزا یافتہ ہوں یا جن کی موجودگی ’عوامی مفاد میں نہ ہو‘۔

کے ملک میں داخلے پر دو سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ ان مبلغین میں پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کے نسخے جلانے والا متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے۔

ڈنمارک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم نفرت انگیز تقریروں کو روکنے اور امن عامہ کو خلل سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانے یا پھر تین سال تک کی سزائے قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس حکم کے نفاذ کی ذمہ داری ملک کی امیگریشن سروس کو سونپی گئی ہے۔

جو چھ مبلغین اگلے دو سال تک ڈنمارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے، اُن میں کینیڈا، سعودی عرب، شام اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے، جس نے سن 2011ء میں قرآن مجید کے نسخے جلا دیے تھے۔

جو چھ مبلغین اگلے دو سال تک ڈنمارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے، اُن میں کینیڈا، سعودی عرب، شام اور امریکا سے تعلق رکھنے والے پانچ مسلمان مبلغین کے ساتھ ساتھ متنازعہ امریکی پادری ٹیری جونز بھی شامل ہے، جس نے سن 2011ء میں قرآن مجید کے نسخے جلا دیے تھے۔

انہوں نے اس فہرست میں شامل چھ افراد کو ’نفرت پھیلانے والے‘ ایسے انتہا پسند مذہبی مبلغین قرار دیا، جو اُن کے بقول ’ہماری جمہوریت کے ساتھ ساتھ آزادی اور انسانی حقوق جیسی ہماری بنیادی قدروں کو بھی کھوکھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا ان چھ میں سے کسی مبلغ نے حالیہ برسوں میں ڈنمارک کا دورہ بھی کیا تھا۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے البتہ اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی امام کمال المکّی ماضی میں اسکنڈے نیویا کے اس ملک میں جا چکا ہے جبکہ کینیڈا کا مسلمان عالم بلال فلپس سن 2011ء میں ڈنمارک کے سفر پر گیا تھا۔

چھ مبلغین کی اس فہرست کی تیاری کا محرک خفیہ کیمرے سے بنائی گئی فروری سن 2016ء کی وہ دستاویزی ویڈیو فلم بنی، جس میں ایک انتہا پسند امام کو ڈنمارک کی ایک مسجد میں اپنی تقریر میں یہ کہتے دکھایا گیا تھا کہ بدکاری کے مرتکب افراد کو سنگسار کر دیا جانا چاہیے۔

اس دستاویزی فلم کے نشر ہونے کے بعد ڈنمارک میں اس موضوع پر ایک وسیع تر بحث شروع ہو گئی تھی کہ کیسے متوازی معاشروں کو وجود میں آنے سے روکا جا سکتا ہے اور کیسے مذہبی انتہا پسندی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

جس قانون کے تحت یہ ’پبلک نیشنل لسٹ‘ جاری کی گئی ہے، اُس کی منظوری دسمبر 2016ء میں دائیں بازو کی حکومت اور اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹس دونوں کی حمایت کے ساتھ عمل میں آئی تھی۔

ڈنمارک اس طرح کی قانون سازی کرنے والا پہلا یورپی ملک نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی ایسے افراد کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے، جو جرائم کے مرتکب ہونے پر سزا یافتہ ہوں یا جن کی موجودگی ’عوامی مفاد میں نہ ہو‘۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s