سعودی مبلغ نے شدت پسندانہ نظریات اور ان کی اہلیہ نے چہرے کا نقاب ترک کرکے اعتدال پسندانہ طرز فکر کیسےاپنایا….

سعوی عرب کے ایک جید عالم دین اور ان کی اہلیہ نے بہ تدریج پر تشدد خیالات ترک کرکے ہوئے اعتدال پسندانہ طرز فکر اپنایا۔ آج سے 35 سال قبل ان کے خیالات دیکھ کر یہ کہنا ممکن نہ تھا کہ وہ کبھی تبدیل ہوں گے مگر انہوں نے کئی سالہ علمی سفر کے دوران کئی ایسے فتاویٰ بھی صادر کیے جو عموما علماء کرام کی طرف سے کم ہی جاری کیے جاتے ہیں۔

الشیخ ڈاکٹر احمد الغامدی نے بہ تدریج اپنے شدت پسندانہ نظریات تبدیل کیے اور ان کی اہلیہ نے چہرے کا نقاب ترک کیا۔

ان کی اس تبدیلی فکر کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ان سے خصوصی گفتگو کی جس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں۔

ڈاکٹر الغامدی نے اپنے ایک سابقہ فتوے میں موسیقی کو جائز قرار تھا۔ اس ضمن میں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے استفسار کیا کہ آیا انہیں موسیقی کے جواز میں قرآن و احادیث مبارکہ سے کیا دلیل ملی؟

اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے کئی بار سوشل میڈیا پر موسیقی کے حوالے سے اپنی رائے ظاہر کی۔ یہ رائے آج کی نہیں بلکہ بیس سال پرانی ہے۔ میرا خیال ہے کہ موسیقی فی نفسہ کوئی بُری چیز نہیں۔ اس میں برائی اس وقت شامل ہوتی ہے جب اس میں فحاشی، گناہ کی دعوت یا کفریہ کلام شامل ہوتے ہیں۔ میں نے موسیقی اور گانے بجانے کی حرمت کے حوالے سے جتنا بھی مطالعہ کیا تو اس میں موسیقی کو حرام قرار دینے کی وجہ اس کی فسق وفجور کی طرف دعوت یا فحش کلامی ہے۔

جہاں تک قرآن کی آیت “ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم” کا حضرت عبداللہ ابن عباس کی طرف منسوب کرنا انہوں نے اس آیت کو موسیقی کی حرکت کے معنیٰ میں لیا ہے ضعیف قول ہے۔ تاہم آیت کے تفسیر میں مفسرین کے اختلاف کے باوجود وہ اس بات کےقائل ہیں کہ موسیقی تب حرام قرار دی جائے گی جب اس میں فحش الفاظ کا استعمال ہوگا۔ وہ برائی کی طرف بہکانے والی یا گمراہ کی طرف لے جانے والی ہوگی۔ اگر موسیقی میں یہ برائیاں نہیں ہیں تو ایسی موسیقی کے عدم جواز کا کوئی ثبوت نہیں۔

ڈاکٹر الغامدی سے پوچھا گیا کہ آپ نے مردو زن کی مخلوط محافل کوجائز قرار دیا جس پر ملک کے مذہبی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل اور مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اس کا جواب دیتے ہوئے الشیخ الغامدی نے کہا کہ خیرو اصلاح کے کاموں کی مخالفت آج کی بات نہیں۔ انبیاء کرام اور مصلحین ہر دور میں ایسی مخالفت کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے کہ ’’وكذلك جعلنا لكل نبي عدوا #شياطين الإنس والجن يوحي بعضهم إلى بعض زخرف القول غرورا ولو شاء ربك ما فعلوه فذرهم وما يفترون”۔
اللہ تعالیٰ نے حق بات چھپانے سے سختی سے ممانعت کی ہے۔ اس لیے مخالفت کے باوجود انبیاء کرام اور مصلحین نے مخالفت کے علی الرغم حق بات کو دوسروں تک پہنچانے کی سعی جمیلہ جاری رکھیں۔ جہاں تک لوگوں کی جانب سے مخلوط محافل، نماز با جماعت یا چہرے کا نقاب نہ کرنے سے متعلق میری آراء ہیں توان کی مخالفت کا کوئی شرعی جواز نہیں۔ یہ اختلاف صرف غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اگر آپ کی بات دلائل و براہین سے بھرپور ہو تو وہ اپنی سچائی خود تسلیم کرالیتی ہے۔ مخالفین نے کتنے ہی انبیاء کرام کی تعلیمات سے انحراف کیا اور آخر کار کامیابی انبیاء اور ان کی حق کی بات کی ہوئی۔

سعودی عالم دین الشیخ احمد الغامدی کا کہنا ہے کہ مسلمان معاشروں میں کئی ایسی اقدار اور روایات موجود ہیں کا دین اسلام کی تعلیمات کےساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اگر کوئی معاشرتی قدر یا روایت قرآن و احادیث میں موجود نہیں مگر اسے لوگوں نے ایک مذہبی روایت کے طور پر اختیار کررکھا ہے تو یہ بھی دین میں غلو کی ایک شکل ہے۔
میرے خیال میں اسلام نے انسانوں پر اتنی پابندیاں عاید نہیں کیں جتنی خود انسانی سماجی کی پیدا کردہ ہیں۔ میں نے ان غیراسلامی رسوم ورواج کے خلاف آواز بلند کی جنہیں اسلام کی آڑ میں لازمی قرار دیا جا رہا تھا تو اس پر بھی مخالفت اور طعن وتشنیع کا ایک طوفان اٹھا۔ ایسے لگتا ہے کہ لوگ دلیل اور عقل سے کام لینے کے بجائے جذبات کا زیادہ سہارا لیتے ہیں۔

الشیخ احمد الغامدی سے پوچھا گیا کہ آپ کی طرح آپ کی اہلیہ کے طرز زندگی اور فکرمیں بھی غیرمعمولی تبدیلی آئی۔ انہوں نے چہرے کا نقاب ترک کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیلیوں کو بھی کھلا رکھنا شروع کیا۔ آپ کے خیال میں چہرے کا کھلا رکھنے کا شرعی جواز موجود ہے۔
اس پر الغامدی نے کہا کہ میری اہلیہ صاحب علم شخصیت ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ اسلام کی شرعی حدود کیا ہیں؟ اسلامی پردے اور نقاب وحجاب کی قیود کس حد تک ہیں۔ جب ہم دونوں [میاں بیوی] گھر سے باہر نکلتے ہیں تو وہ چہرے کا نقاب نہیں کرتی۔ میں نے اسے کبھی ایسا کرنے سے منع نہیں کیا۔ جمہور علماء چہرے کو کھلا رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ خواتین پر زبردستی حجاب مسلط کرنے کے بجائے انہیں خود اس کا فیصلہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔ اس سے خواتین میں خود اعتمادی پیدا ہوگی اور غور فکر کے کئی دریچے کھلیں گے۔

مسجد میں با جماعت نماز کی ادائی کے وجوب یا مسنون ہونے سے متعلق سوال کے جواب مین الغامدی نے کہا کہ جمہور علماء کا خیال ہے کہ نماز کا اہتمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فریضہ ہے تاہم اگر یہ فریضہ اجتماعی شکل میں ادا کیا جائے تو یہ سنت ہے۔ میں اسے فرض یا واجب کے درجے میں نہیں سمجھتا۔ تاہم اس حوالے سے اگر کوئی شخص مزید دلائل معلوم کرنا چاہے تو سوشل میڈیا پر موجود میری اور دوسرے علماء کی بحث کا مطالعہ کرسکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر الغامدی سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے اپنی کبھی اپنی کسی رائے کو بعد میں غلط تسلیم کرتے ہوئے اس پر ندامت کا اظہار کیا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے سات سال کا عرصہ شدت پسندی میں گذرا۔ سات سال کے بعد میں نے علم کی روشنی میں اپنا طرز فکر بدلا۔ گذشتہ ۔ گذشتہ 35 سال کا عرصہ اس بات کا گواہ ہے کہ میں نے اس سے قبل گذارے سات سال کے بیشتر فیصلوں اور خیالات کو ترک کیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s