متحدہ عرب امارات کا پانی کے حصول کیلئےقطب جنوبی سے برفانی تودوں کو کھینچ کر لانے کاحیران کُن منصوبہ .. تودوں کی اوسط لمبائی 3 کلومیٹر اور موٹائی تقریبا 300 میٹر ہے۔

 

ہمّتِ مرداں مددِ خُدا.. کہتے ہیں کہ اگر انسان عزم کر لے تو قدرت کی مہربانی سے وہ انہونی کو ہونی میں تبدیل کرسکتا ہے۔ کچھ اسی طرح کے عزم اور ارادے کو لے کر دو انجینئر میدان میں اترے ہیں جن میں ایک کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے اور دوسرے کا فرانس سے۔ ان دونوں نے قطب جنوبی میں واقع برفانی تودوں کو بحرِ ہند کے راستے 9200 کلومیٹر کھینچ کر بحرِ عرب میں فجیرہ کی امارت کے ساحلوں تک لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس عمل کے دوران برفانی تودے کا ایک تہائی حصہ گُھل جائے گا جب کہ بقیہ حصہ متحدہ عرب امارات کو ایک بڑے خزانے سے نوازے گا۔ جی ہاں پینے کے لیے 75 ارب لیٹر پانی جو کم از کم 5 برس تک 10 لاکھ اماراتیوں کی ضرورت کو پوری کرے گا جو فی الوقت درآمد شدہ منرل واٹر کی خریداری پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔

فرانسیسی انجینئرGeorges Mougin نے باور کرایا ہے کہ وہ اس دشوار نظر آنے والے خواب کو 45 برس قبل قائم کی جانے والی اپنی کمپنی Iceberg Transport International کے ذریعے حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔ برطانوی اخبار “ٹائمز” کے مطابق جن برفانی تودوں کو کھینچ کر لانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ان کی اوسط لمبائی 3 کلومیٹر اور موٹائی تقریبا 300 میٹر ہے۔ ان تودوں کو فجیرہ کے ساحل سے 24 کلومیٹر دور لنگر انداز کر دیا جائے گا اور پھر اگلے مرحلے پر عمل درامد کیا جائے گا۔

ابوظبی میں قائم ماحولیاتی مشاورت کے نیشنل ایڈوائزر بیورو کے 37 سالہ ڈائریکٹر اماراتی انجینئر عبداللہ الشحی نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک ” سی این این” کو انٹرویو میں بتایا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے برفانی تودے کو 2019 کی پہلی سہ ماہی میں مخصوص جہازوں کے ذریعے آسٹریلیا کے ساحلوں تک لایا جائے گا اور اس کے بعد فجیرہ کے ساحل تک پہنچایا جائے گا۔ اماراتی انجینئر کے مطابق فجیرہ کے ساحل پر برفانی تودوں کی موجودگی سیاحوں کے لیے کشش کا ایک بڑا ذریعہ ہوگا۔ یہ منصوبہ 10 برسوں کے اندر متحدہ عرب امارات کے صحراء کو سبزے میں بدل کر رکھ دے گا جو لاکھوں سال قبل جزیرہ نما عرب کی اصل صورت تھی۔ متحدہ عرب امارت میں سالانہ 78 ملی میٹر سے زیادہ بارش نہیں ہوتی ہے۔

فرانسیسی انجینئرGeorges Mougin نے 1970ء کی دہائی میں سعودی حکام کے سامنے اسی سے ملتا جلتا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت قطب شمالی یا ناروے سے برفانی تودے کو منتقل کر کے سعودی عرب کے ساحلوں تک لایا جانا تھا تاہم اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اگر متحدہ عرب امارات اس منصوبے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یقینا مستقبل میں اس نوعیت کے متعدد منصوبے سامنے آ سکتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s