”مقدس جنگ ” بات چھوٹی سی تھی، بلکہ شاید کچھ تھی ہی نہیں اور جھگڑا شروع ہوگیا تھاجب دونوں طرف کے سپاہی لڑتے لڑتے تھک چکےتو ایک نے کہا۔ ”بس کرویار ۔ بس کرو‘‘۔

بات چھوٹی سی تھی، چھوٹی بھی نہیں بلکہ شاید کچھ تھی ہی نہیں اور جھگڑا شروع ہوگیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ مخالف شخص نے کہہ دیا تھا۔
’’میں رفع یدین ہرگز نہیں کرونگا‘‘۔
پھر تو مخالفین کے لمبے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر تھے۔ جھگڑا بڑھتا گیا منہ اور گریبان پھٹتے رہے۔ اور اس طرح ایک تماشہ تماشہ بین کے لئے موجود تھا تو اہل دل کے لئے اضطراب وبے بسی کے لمحات ۔۔۔!
جب دونوں طرف کے سپاہی لڑتے لڑتے تھک چکے گئے تو ایک نے کہا۔ ’’بس کرویار ۔ بس کرو‘‘۔

’’ہاں ہاں ۔۔۔ٹھیک ہے، صحیح کہتے ہو ‘‘۔ دوسرے نے کہا۔
’’ہم نے انھیں سبق سکھادیا ہے‘‘۔ آواز آئی۔
پھر تو یہ مقدس جنگ ختم ہوگئی اور سب اپنے اپنے گھروں کی طرف ہولئے۔ یہ واقعہ دو مہینہ پہلے کا تھا۔ اور اب جو واقعہ رونما ہوا تھا، وہ انتہائی دردناک تھا، لٹھ ، ہاکی اور پتھروں کی بارشوں کا سامنا ایک دوسرے کو تھا۔ اور ایک طوفان برپا تھا۔
’’تمہارا بڑا امام تو صرف چودہ حدیثیں جانتا تھا۔۔۔ اور ۔۔۔ کی اولاد تھا۔۔۔‘‘
’’اور تم ۔۔۔ تم لوگ تو گستاخ رسول ہو، ادب کسے کہتے ہیں۔ مقام رسول کیا ہے تم کیا جانو؟‘‘
’’او قبر پرستو، مشرکو، تمہاری ماں ۔۔۔‘‘ شاید گالی دینے کی کوشش کی گئی ۔
’’او! ۔۔۔ اماموں کی تقلید کو حرام کہنے والو ۔۔۔ اولیاء اللہ کی عظمت سے کھیلنے کی ناکام کوشش کرنے والے ، مخنثو۔۔۔ آج تمہارا ایک گھر بھی سلامت نہیں رہے گا۔ ‘‘
’’انشاء اللہ ۔۔۔ آواز دور سے آئی تھی۔ شاید کسی اور بات پر انشا ء اللہ کہا گیا تھا۔
پتہ نہیں اس حادثے میں کتنے زخمی ہوئے۔ پولیس کو اس کی اطلاع دینی پڑی۔ تب کہیں جا کر مجمع منتشر ہوا۔ اور لڑائی ختم ہوگئی۔ حالات سنبھلنے میں دو تین دن لگے۔
کوہیر نامی یہ بستی سیتا ندی کے کنارے واقع تھی۔
اس بستی نے اور بستی والوں نے مختلف قسم کی ڈھیر ساری تباہی اپنی اور یہاں رہنے والوں کی دیکھی تھی۔
۱۹؍۲۰؍ سال قبل ندی میں باڑ ھ آنے کے باعث سینکڑوں لوگ ہلاک ہوچکے تھے اور جب ہر سال ندی خطرے کے نقصان کے قریب پہنچتی تو بستی والوں کی راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام ہوجاتا تھا۔ جو کوئی آپس میں ملتا ، ضرور پوچھتا۔
’’ندی کی کیا صورتحال ہے‘‘؟
’’خطرہ بدستور باقی ہے‘‘۔ جواب ملتا۔
وہ پریشان ذہنوں کے ساتھ اپنے اپنے راستوں کی طرف ہولیتے۔ اور جب خطرہ ٹل جاتا تو عظیم الشان خوشیاں منائی جائیں۔ ایک طرف پانی کی دیوی کی پوجا محلے محلے پھیری لگا کر ہوتی تو دوسری طرف حضرت حاجی علیؒ کے نام سے جھنڈے نکالے جاتے۔ ’’نذر اللہ‘‘ کے نام سے بکروں کو ذبح کر کے گوشت غربا میں تقسیم بھی کیا جاتا تھا۔
ایسے ہی ایک خوشی کے مخلوط موقع پر زبردست فساد پھوٹ پڑا۔ ۱۸؍ جانیں چلی گئیں۔ پھر تو ہر سال وہاں انسانی جانوں کی قربانی ندی کے خطرے کے ٹل جانے کے بعددی جانے لگی۔
۵؍سال قبل کی بات ہے۔ ایک فرض شناس پولیس آفیسر نے امن وقانون کی صورتحال کو ان دنوں کسی بھی طرح بگڑنے نہ دیا تو پھر وہاں امن وامان کی روایت بھی چل پڑی ۔ اور اب پچھلے ۵؍سال سے وہاں پر کوئی فساد نہ تھا۔ بستی والے دراصل روایت شکن بھی تھے اور روایت ساز بھی‘‘۔
کہتے ہیں زندگی کا دریا کبھی چین سے نہیں رہتا اور چین کا دوسرا نام موت ہوتا ہے۔ موت ؟ ارے ہاں ۔۔۔ اموات تو وہاں آج پھر دیکھنے میں آئی ہیں یعنی پورے ۵؍سال بعد ۔۔۔ ایک دم حقیقی اموات ۔۔۔
کئی جانیں جاچکی ہیں لڑائی جاری ہے۔ اور لڑائی میں اتنی شدت اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔
ہوا یہ تھا کہ ۔۔۔ کوئی شرپسند نوجوان یا نوجوانوں کی ٹولی نے اس بستی کی معروف درگاہ کو رات کے کسی حصے میں ڈھادیا تھا۔
بستی کے شرفا اپنے آپ کو حملوں سے بچاتے ہوئے لڑنے والوں کے درمیان پہنچے اور لڑائی کو کم کرنے کی کوشش کی تو مخالفین کے درمیان الزام جوابی الزام کا سلسلہ اور تیز ہوگیا۔
’’ان بدمعاشوں نے ہی درگاہ شہید کی ہے کیونکہ یہ اولیاء اللہ کو نہیں مانتے اور ہماری اس درگاہ کو درگاہ نہیں مندر کہتے ہیں اور پچھلے ۵؍۶؍ سال سے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
’’بے شک ہم اس کو مندر کہتے ہیں اور یہ مندر ہی ہے۔ لیکن اس کو توڑنے کا مقدس کام ہم نے نہیں کیا۔ جس کا ہمیں افسوس ہے۔ کاش کہ یہ کام ہمارے ہاتھوں انجام پاتا‘‘۔
’’ثبوت کیا ہے کہ تم لوگوں نے درگاہ شہید نہیں کی ؟‘‘
’’چلو مانا کہ ہماری بے گناہی کا ثبوت نہیں ہے۔ لیکن تم خود بھی تو ثبوت پیش کرو کہ ہم گناہگار ہیں‘‘۔
’’پیارے بیٹو، نوجوانو، ایک منٹ۔۔۔ ایک منٹ ۔۔۔ ہماری بات تو سنو ۔۔۔! بستی کے شرفا چیخے جارہے تھے۔ کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ قریب آدھا گھنٹہ مجمع کو خاموش کرنے میں لگا۔ جب سب لوگ خاموش ہوگئے تو بستی کے شرفا میں سے ایک نے کھڑے ہو کر کہا۔
’’اسلاف میں ایسی اور ان باتوں کے لئے قاتلانہ لڑائیاں نہیں ملتیں۔ نوجوانو ! تمہاری زندگی کا مقصد تخریبی نہیں تعمیری ہے۔ تمہیں اپنے جسم کے چوٹ لگے حصہ کو کاٹ کر پھینکنا نہیں ہے بلکہ خود ڈاکٹر بن کر اس کا علاج کرنا ہے۔ کیونکہ نبی کا فرمان ہے۔ جو ہم سے کٹے ہم ان سے جڑیں‘‘۔
’’لیکن ڈاکٹر بھی تو جسم کے حصہ کو بغرض علاج کاٹ پھینکتا ہے‘‘۔ کسی اور جوان نے جوشیلی آواز میں اپنے حق میں دلیل دینے کی کوشش کی تھی۔
’’ہاں ! وہ ایسا کرتا ہے ‘‘ جواب ملا ’’لیکن یہ کام زیر تربیت ڈاکٹر کا نہیں ہوتا ‘‘۔
’’میں تمام نوجوانوں سے کہوں گا کہ اپنے تمام مسائل کے حل کے لئے قرآن وحدیث کی طرف رجوع کرو تو تمہیں وہاں ایک ہی بات ملے گی۔ وہ یہ کہ شدت پسندی اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے بلکہ اس کی مخالفت بھی کرنا پڑے تو کرتے ہوئے اعتدال کے ساتھ دین کو حاصل کرو اور اس کو پھیلاؤ‘‘۔
’’یہ ہلاکتیں اور اس سے قبل کے واقعات کو بھول جاؤ اور ان واقعات کی اپنے رب کے حضور معافی مانگو اور ساتھ ہی اپنی اولین فرصت میں دینی بنیادوں اور دینی اصولوں کا پتہ لگاؤ۔ اور پھر مل جل کر یہ آپسی چھوٹے موٹے غیر اہم اختلافات کو بھلا کر نص سے ثابت اصلاحی طریقوں کو اپنا کر نئے سرے ۔۔۔‘‘
’’آہ ۔۔۔ خوخ۔۔۔!‘‘
پتھر بڑی تیزی سے اپنے نشانے کی طرف آیا تھا اور آتے ہی بولنے والے کے سر کو سرخ کرگیا۔ بولنے والا اپنی بات پوری کئے بغیر عجیب سی آواز نکالے سر پکڑ کر لڑھک گیا۔
پھر تو سارا مجمع ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑا۔ اور ۔۔۔!
کہتے ہیں اس بستی کے نوجوانوں نے اپنے مذہب کے حیات بخش اصولوں سے روشناش ہونا بھی ضروری خیال نہیں کیا اور ۔۔۔ !!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s