توہین مذہب اور توہین قرآن کا الزام ثابت ہونے پر گورنرکو2 سال قید کی سزا

جکارتہ -انڈونیشیا کی عدالت نے توہین مذہب کاالزام ثابت ہونے پر دارالحکومت جکارتہ کے غیر مسلم گورنر کو دوسال قید کی سزا سنادی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے’ اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کی سپریم کورٹ نے جکارتہ کے گورنر جن کا مذہب عیسائی ہے کو توہین مذہب اور توہین قرآن کا الزام ثابت ہونے پر 2 سال قید کی سزا سنادی ہے ۔

22.jpg

عدالت کے 5 رکنی بنچ نے گورنر بسوکی تجاھاجہ پرنامامہ کو توہین مذہب میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔گورنر نے سزا کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسالہ سزا کے خلاف اپیل کریں گے جبکہ عدالت کے باہر گورنر کے حمایتی رونے لگے اور ایک دوسرے کو گلے لگانے لگے۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت کے باہر فوج اور پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ بسکوی انڈونیشیا کی 50 سالہ تاریخ میں پہلے عیسائی گورنر ہیں۔

33

گورنر پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ برس انتخابی مہم کے دوران ایک متنازع بیان جاری کیا تھا کہ مسلمان ایک قرآنی آیت کے استعمال سے انہیں تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جبکہ بعد میں انہوں نے اپنے اس بیان سے معذرت کرلی تھی :-

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s