خیالات نے اس کے دماغ میں ہلچل مچا رکھی تھی۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سارا دن ثریا نے خوشی اور بے چینی کی کیفیت میں گزار دیا۔ کبھی وہ کمرے میں ٹہلتی، کبھی حیرت زدہ نظروں سے شیشے میں خود کو دیکھتی…………

kijزیبا حسین

                                      اور زندگی اس کی آنکھوں میں مر گئی

لڑکپن میں ڈھل گیا اور لڑکپن نے جوانی کی دہلیز کو چھو لیا لیکن اس کی چھوٹی چھوٹی معسچ تو یہ ہے کہ ثریا اب اکتا سی گئی تھی خود کو بہلاتے بہلاتے۔ اس نے مکمل خواب دیکھے لیکن کوئی مکمل خوشی نہ دیکھی۔ بچپنصوم ادھوری خواہشوں کو قرار نہ ملا۔ جب بھی وہ ماضی کی کتاب کا کوئی ورق الٹتی غمگین ہو جاتی۔

اسے اچھی طرح سے یاد ہے جب چھوٹی تھی تو شہر کے ایک بڑے بنگلے پر ماں کے ساتھ کام کرنے جایا کرتی۔ ماں برتن مانجھتی ، جھاڑو لگاتی ، کپڑے دھوتی ، استری کرتی، فرنیچر صاف کرتی ، بنگلے کی مالکن کو بیگم صاحبہ، بیگم صاحبہ کہہ کر مخاطب کرتی۔ بیگم صاحبہ کے بچوں کے پاس…

View original post 1,788 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s