‘انٹرنیٹ پر میری ایک آدمی سے ملاقات ہوئی، ملنے گئی تو دیکھا کہ وہ تو دراصل 97 سال کا بوڑھا تھا وہ مجهے کہنے لگا جسمانی تعلق کم ہی استوار کرتا ہوں البتہ میں اپنے منہ …..خاتون نے بابے کی شرمناک حرکت کے متعلق بتا دیا..

بوسٹن (نیوز ڈیسک) اکثر بھولی بھالی لڑکیاں بوڑھے مردوں کو دنیاوی لذتوں سے بے نیاز اور ایک بے ضرر مخلوق سمجھتی ہیں لیکن امریکی لڑکی پریا آلکا بوڑھے مردوں کا ذکر سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگا لیتی ہیں۔ وہ نا صرف خود بوڑھے مردوں سے بچ کر رہتی ہیں بلکہ دوسری لڑکیوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ بعض بوڑھے بے حد شریر، بلکہ شیطان صفت ہوتے ہیں۔
دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق بوسٹن شہر سے تعلق رکھنے والی پریا کے ساتھ 2014ءمیں ایک ایسا پریشان کن واقعہ پیش آیا کہ جس کے اثرات اب تک ان کے ذہن پر باقی ہیں۔ ویب سائٹ ’اوکے کیوپڈ‘ کے ذریعے ان کی ملاقات ایک اجنبی شخص سے ہوئی، جس نے اپنے پروفائل میں اپنی عمر کا ذکر نہیں کیا تھا۔ پریا کے ساتھ اس شخص کی بات چیت شروع ہوئی تو انہوں نے مقامی ریستوران میں اس کے ساتھ ملاقات پر رضامندی ظاہر کر دی۔

مقررہ وقت پر وہ ریستوران پہنچ گئیں لیکن وہ شخص وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک جانب کرسی پر کپڑوں کا ڈھیر سا نظر آرہا تھا، لیکن جب یہ ڈھیر ہلا تو پتا چلا کہ یہ ایک بوڑھا شخص تھا جو ان کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ معمر شخص ان کے پاس آیا اور پوچھا ”آپ پریا ہیں؟“ پریا کا کہنا ہے کہ پہلی بار انہیں جھٹکا لگا کہ وہ جس شخص کے ساتھ ملاقات کے لئے آئی تھیں وہ بے حد ضعیف تھا، لیکن بڑے میاں کا دل بہلانے کے لئے انہوں نے وہاں سے بھاگنے کی بجائے کچھ بات چیت کا فیصلہ کیا۔ معمر شخص نے بتایا کہ اس کی عمر صرف 97 سال ہے اور وہ قریب ہی رہتا ہے۔ اس نے کافی کا آرڈر دیا اور پھر ہلکا پھلکا تعارف کرواتے ہی کہنے لگا ”میں روایتی طریقے سے جسمانی تعلق کم ہی استوار کرتا ہوں البتہ میں اپنے منہ کا خوب استعمال کرتا ہوں اور خواتین ہمیشہ مجھے کہتی ہیں کہ وہ اسے بہت پسند کرتی ہیں۔“
پریا کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ سن کر ان کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ یہ انتہائی بیہودہ الفاظ ایک 97 سالہ بوڑھا کہہ رہا تھا جو ان کے دادا کی عمر کا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے حواس ایسے گم ہوئے کہ انہیں بالکل یاد نہیں کہ اس کے بعد کیا ہوا اور وہ کیسے اور کب ریستوران سے باہر آئیں۔

گھر واپس آتے ہی انہوں نے سب سے پہلے سوشل میڈیا ویب سائٹ سے اپنا اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کیا اور توبہ کی دوبارہ کسی بھی ایسی ویب سائٹ کا رُخ نہیں کریں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے باعث شرمندگی تین سال تک کسی سے اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ حال ہی میں وہ یہ سوچ کر سوشل میڈیا کی دنیا میں دوبارہ واپس آئی ہیں کہ اپنی کہانی سنا کر دیگر نوجوان لڑکیوں کو خبردار کر سکیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s