میں کس کی بیٹی ہوں

نظام الدولہ

نظام الدولہ صاحب ،میں یہ کہانی جو آپ کو بھیج رہی ہوں اسکو پڑھنے کے بعد رد نہ کردینا ۔میں ایک بدنصیب لڑکی ہوں جس کو اپنے باپ کی تلاش ہے ۔اور میں بہت الجھی ہوئی ہوں ان دنوں۔
میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ماں نے بیسیوں بار مجھے یقین دلایاہے کہ تم میری بیٹی ہو لیکن مجھ سے اپنے باپ کا نام نہ پوچھا کرو ،لیکن میں نے ہمیشہ اس سے اصرار کیاہے کہ وہ مجھے میرے باپ کا نام بتائے ۔میں جنس بازار میں بیٹھی کسی طوائف اور رنڈی کی بیٹی تو نہیں ہوں کہ اپنے باپ کا نام پوچھنے پر ضد نہ کرسکوں۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں کوئی خبطی اور پاگل لڑکی ہوں جو اپنے باپ کا نام پوچھ رہی اور اسکی ماں اسکو بتا نہیں رہی۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ میرے نام کے ساتھ میرے باپ کا لاحقہ نہیں،البتہ سکول کالج میں ولدیت کے خانے میں جنید باری شخص کا نام لکھا ہے۔کاغذات کی دنیا میں وہ میرا باپ ہے ۔ میں جب بھی ماں سے پوچھتی ہوں کہ جنید باری کہاں ہے؟ وہ کون ہے ۔وہ بتانے سے گریز کرتی ہے۔کیوں ؟ کوئی تو وجہ ہوگی؟ شاید میں یونہی اپنے باپ کے بارے میں پوچھتی رہ جاتی ،پھر اس نے مجھے اس وقت میرے باپ کے بارے میں بتایا جب وہ مرنے والی تھی۔

ماں پیشے کے اعتبار سے نرس تھی ۔اس کے مطابق میرا باپ ایک شکی مزاج انسان تھا ۔شادی کے آٹھ ماہ بعد جب میرا بھائی پیدا ہوا تو اس نے ماں سے پوچھا کہ اتنی جلدی بچہ کیسے پیدا ہوگیا ،بھائی کا رنگ سانولا تھا۔۔۔۔ اور۔۔۔ماں گوری اور سرخ لانبی عورت تھی۔اور اسکا شوہر یعنی میرا نام نہاد باپ سانولا اور درمیانہ قد رکھتا،مڈل فیل تھا۔چار پیسے والا تھا ۔جوڑی سجتی نہیں تھی۔ اس لئے اسکو وہم اور شک رہتا ۔چونکہ اولاد میں پہلا بیٹا پیدا ہوا تھا س لئے اس نے ماں کو زیادہ نہیں کوسا لیکن شک میں پھر بھی پڑا رہا۔ماں کو بات بات پر پیٹتا بھی۔احساس کمتری جو تھا اسکو۔میرا بھائی جب ایک سال کا بھی نہیں ہوا تھا کہ میں پیدا ہوگئی اور میں حمل کے آٹھ ماہ بعد پیدا ہوئی،انتہائی گوری اور سرخ ،گول مٹول۔باپ کو شاک ہوا۔اس نے مجھے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
’’ سچ سچ بتا یہ کس کی اولاد ہے‘‘اسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا اور بیڈ پر لیٹی میری ماں اسکا منہ تکے جاری تھی۔
’’ تیری ہی بیٹی ہے۔تو مجھ پر کیوں شک کرتا ہے‘‘ ماں نے نحیف آواز میں پوچھا۔
’’ مجھے نہیں لگتا ۔اتنی گوری بچی میری کیسے ہوسکتی ہے۔اسکا بھائی تو سانولا ہے ۔مجھے اس پر بھی شک ہوا تھا کہ اتنی جلدی کیسے پیدا ہوگیا ۔لیکن اسکا رنگ دیکھ کر میں نے قبول کرلیا۔مگر یہ تو کہاں سے لیکر آئی ہے۔جو بھی دیکھتا ہے کہتا ہے کہ جنید یہ تیری بچی نہیں لگتی،ماں کی لگتی ہے۔سچ بول دے ورنہ میں تیرا گلا دبا دوں گا،کوئی تو تیرا عاشق ہے‘‘ ماں کے پاس اپنے شکی شوہر کا کوئی علاج نہیں تھا ۔وہ اسکو کیسے رام کرتی اور یہ کیسے بتاتی کہ بچہ تو سات ماہ کے حمل سے بھی پیدا ہوجاتاہے،اس میں کوئی عجیب بات نہیں کہ اس نے آٹھ ماہ بعد دونوں اولادیں کیوں جنیں۔
ماں کے بعد یہ میری پیدائش کے چند دن بعد کا واقعہ ہے ،میرا باپ اس روز گھر تھا اور اس نے سارا دن ماں کو سولی پہ لٹکائے رکھا اور بے شرمی کی ساری حدود کراس کرگیا۔اس نے الزام لگایا’’ میں نے خود تمہیں دیکھا ہے حرام کاری کرتے ہوئے۔راتوں کوجب بھی میں لیٹ آتا تھا تیرے کمرے سے مجھے کسی مرد کی آواز آتی تھی ۔میں دروازہ پیٹنا شروع کرتا تو آواز غائب ہوجاتی تھی،تو دروازہ بڑی دیربعد کھولتی تھی۔اندر آکر دیکھتا تو کمرے میں کوئی نہیں ہوتا تھا ،البتہ کھڑکی کھلی ہوتی تھی۔میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح تیرے عاشق کو پکڑ سکوں لیکن وہ میرے ہاتھ نہیں آیا۔‘‘ ماں قسمیں کھا کرکہتی کہ اسکو صرف وہم ہے،کوئی مرد نہیں جواسکی عدم موجودگی میں اسکے کمرے میں آتا ہے۔ماں کی برداشت جواب دے گئی اور اس نے میرے باپ سے طلاق لے لی۔نوکری میں وہ گزارہ کرسکتی تھی۔باپ نے میرا بھائی اپنے پاس رکھ لیااورمیری طرف اشارہ کرکے کہا’’ اس حرامی کو اپنے ساتھ لے جاؤ‘‘ ۔ابھی میری نام نہیں رکھا گیا تھا مگرمیرے باپ نے مجھے حرامی کا نام دیا تھا۔سنا ہے اور پڑھا بھی کہ ماں باپ کا اپنی نومولود بچے کو پہلا تحفہ اسکا اچھا سا نام ہوتا ہے۔مجھے کیا تحفہ ملا؟ حرامی نام کا۔۔۔
ماں نے مجھے پالا پوسا،پڑھایا لکھایااور اچھا سا نام دیا نوربانو۔۔۔ہاں اب یہ بھی سن لیں۔میں جب تھوڑی سی سمجھدار ہوئی اور راتوں کو میری آنکھ کھل جایا کرتی تھی تو میں بھی کسی مرد کی آواز سنا کرتی تھی۔ماں سرگوشیوں میں اس سے باتیں کیا کرتی اور مدہوش سی آواز میں سسکیاں لیتی ،ان سسکیوں کا مطلب مجھ پر جوان ہونے کے بعد واضح ہواتھا۔لذت میں خود سپردگی سے سسکنا ۔۔۔ماں کسی کی بانہوں میں ہوتی تھی لیکن مجھے کبھی وہ وجود نظر نہیں آتا تھا ۔میں جوں جوں سنبھلنے لگی ماں مجھے الگ کمرے میں سولانے لگی۔آہستہ آہستہ میں پڑھائی میں کھب گئی اور میں یہ بھولتی چلی گئی کہ ماں رات کو کیوں لذت سے سسکا کرتی تھی۔یہ بھید اس نے مرتے سمے بتایا۔’’ تیرا باپ وہمی تھا لیکن وہ اتنا جھوٹا بھی نہیں تھا ۔میں اسکے وہم سے زیادہ اسکے غصہ اور نفرت سے ڈر گئی اور طلاق لے لی ۔راتوں کو جو مرد میرے پاس آتا تھا وہ میرے بچپن کا ایک ساتھی تھااور وہ انسان نہیں جن زادہ تھا۔مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔مجھے اسکا نشہ سا تھا اور میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا کہ ایک جنّ زادہ مجھ پر عاشق تھا اور ہم دونوں محبت کے نشہ میں ڈوب جایا کرتے تھے۔یہ جسمانی محبت بھی تھی اور روحانی بھی۔ہوسکتا ہے تم دونوں بہن بھائی میرے اس عشق کی نشانی ہو‘‘
ماں کی بات مجھے ہضم نہیں ہورہی ۔اگر واقعی ہم دونوں بہن بھائی جن زادے کے تخم سے پیداہوئے تھے تو طلاق کے بعد تو ماں جب آزاد تھی تو وہ مزید اولاد بھی تو پیدا کرسکتی تھی۔میں نہیں مانتی کہ ایک جنّ اورانسان کے ملاپ سے اولاد پیدا ہوتی ہو۔مگر ایک پیر صاحب کے بقول ایسا ہوسکتا ہے۔ میں اب بہت الجھ چکی ہوں اورماں کے بعد دنیا میں اکیلی ہوں ۔میں اپنے باپ جنید باری سے ملنا چاہتی ہوں ،لیکن مجھے ایک وہم کھائے جارہا ہے کہ اگر اب بھی اس نے مجھے قبول کرنے سے انکار کردیا تو میرا کیا بنے گا؟ کیا مجھے باپ کی بات یا ماں کی کہانی پریقین کرنا چاہئے۔؟

نوٹ: یہ تحریرروزنامہ پاکستان میں شائع ہوئ جولکهاری کا ذاتی نقطہ نظر ہے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s