حسن کو تباہ کرنے والی غلطیاں

جلد مرد اور عورت کی خوبصورتی اور دلکشی کا بنیادی حصہ ہے اور اس کی حفاظت کے لیے و ہ مہنگی سے مہنگی کریمیں اور لوشن استعما کرتی ہیں۔ لیکن وہ اپنی معمولات میں چند ایسی غلطیاں کرتی ہیں۔ جو اس کی ساری محنت پر پانی پھیر دیتی ہیں۔ان میں غسل کے دوران کی جانے والی غلطیاں بھی شامل ہیں جو نہ صرف جلد کو نقصان پہنچاتی ہیضں بلکہان کے باعث جلد روکھی اور بے جان لگنے لگنی ہے۔

4fb5d7c41b8cb92a55e7428ce74a3158.jpeg

ماہرین جلد نے ان غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سے بچنے کی ترکیب بتائی ہے۔جن پر عمل کر کے آپ کی جلد خوبصورت اور دلکش بن سکتی ہے۔ ان میں پہلے نمبر پر منہ دھونے کا طریقہ ہے۔ اکثر لوگ نہاتے ہوئے شاور سے گرتے تیز پانی کو اپنے چہرے پر گراتے ہیں جس سے جلد کے خلیوں کو نقصان ہوتا ہے اور جلد خراب ہوتی ہے۔ اس لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے چہرے کو ٹھنڈے یانل کے عام پانی سے دھوئیں۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا مانناہے کہ ٹھنڈا پانی جلد کے سوراخوں کو بند نہیں کرتا لیکن یہ بھی ان کی جلد کے لیے بہتر ہے۔اسی لیے جلد کے ماہر اماڈائین اسنارڈ کا کہنا ہے کہ نہانے کے بعد آجر میں چہرے کو ٹھڈے پانی سے دھونا جلد کے خلیوں کو متحرک کر دیا ہے اور چہرے پر چمک آجاتی ہے۔ اگر پوچا جائے کہ نہانے کے لیے کون سا طریقہ بہتر ہے۔ تو جواب ہو گا شار سے نہانا بہتر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاور کے نیچے نہانا باتھ ٹب سے زیادہ بہتر ہے۔ لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا شاور کتنا تیز چلتا ہے۔ واٹر وائر کی جاب سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ش ار کے نیچے پانچ منٹ ہی نہانا چاہیے۔کچھی لوگ دس منٹ یا اس سے بھی زیادہ دیر نہاتے ہیں۔ دیر تک پانی کے نیچے رہنے سے بھی جلد متاثر ہوتی ہے۔

29 (1)

ایک تحقیق کے مطابق ضرورت سے زیادہ نہانے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ پرانے زمانے میں لوگ روزنہ نہیں نہایا کرتے تھے۔تاہم 1927میں ایسوسی ایشن آف امریکہ سوپ اینڈ گلیسرین پروڈیوسرز نے صابن کی تشہیر کے لیے ایک صفائی کا ادارہ بنایا۔ جس میں سب زیادہ سے زیادہ اور روزانہ نہانے کی پروموشن کی گئی۔ امریکی مصنفہ کیتھرین ایشن برگ اپنی کتاب میں لکھتی ہے ہیں کہ اس تشہیر نے لوگوں پر ایسا اثر کیا کہ وہ ٹوائلٹ سے آنے کے بعد ،کھانے سے قبل اور سونے سے پہلے بھی نہانے لگے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ نہانا بھی جلد کے لیے اچھا نہیں ۔ جلد پر جمنے والے بیکٹریا کی اکثریت اس کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے اور یہ بیکٹریا یا جراثیم کے خلاف جلد کے لیے شیلڈ کاکام کرتی ہے۔ ماہرین جلد کے نزدیک ضرورت سے زیادہ نہانا بعض اوقات جلد انفیکشن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ان کے علاوہ نہانے کے بعد جلد خشک کرنے کی عادت بھی جلد کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ اکثر لوگ نہاتے ہی تولیے سے جلد کو خشک کرلتے ہیں۔ لیکن یہ جلد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ کسی بھی کپڑے یا تولیے پر لگے جراثیم آسانی سے جلد میں داخل ہو جاتے ہیں جو جلدی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ نہانے کے بعد گیلی صحت مند جلد بیکٹریاکو پروان چڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کو نہانے یا منہ دھونے کے بعد تولیہ استعمال کرنے کی عادت ہے تو کوشش کریں کہ ہر تین دن بعد تولیے کو ضرور دھولیا جائے۔ تا کہ آپ کسی بھی قسم کے جلدی مسائل سے محفوظ رہ سکیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s