*آپ کو کیا پتہ ہے؟؟؟ *

آج ایک جگہ بیٹھا تھا تو دو بڑی عمر کے آدمی آپس میں نئی نسل کے بارے میں محو گفتگو تھے۔۔ایک نے دوسرے کو کہا کہ میرا بچہ کہتا ہے کہ ابو! آپ کو کیا پتہ ہے؟ پھر اس بندے نے ایک گالی نکالی اور کہنے لگا کہ دو دو جگہ دیوٹی کر کے ریٹائر ہوگیا ہوں اور اب بچے کہتے تھے تمہیں کیا پتہ ہے۔۔۔یہ سن کر مجھے احادیث مبارکہ میں پڑھا ایک واقعہ یاد آگیا کہ ایک مرتبہ دربار رسالت صلی الله عليه وسلم سجا ہوا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق، حضر عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم سمیت بڑے بڑے اصحاب پیغمبر موجود تھے۔۔آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حاضرین مجلس سے سوال کیا کہ وہ کون سا درخت ہے جس کی مشابہت انسانوں سے ہے؟؟؟ کسی بھی آدمی نے کوئی جواب نہیں دیا تو نبی پاک صلی الله عليه وسلم خود ہی جواب ارشاد فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے جو انسانوں کے مشابہے ہے۔۔پھر مجلس برخاست ہوئی اور ہر ایک اپنے اپنے گھر لوٹ گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ جو ابھی نو عمر بچے تھے وہ بھی اس مجلس میں موجود تھے تو انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جی مجھے اس سوال کا جواب معلوم تھا لیکن مجھے حیاء آئی کہ آپ اور دوسرے بڑے صحابہ کے ہوتے ہوئے کچھ کہوں۔۔یہ تھے وہ درخشندہ ستارے جن کی پیروی کرنے کا ہمیں حکم تھا جواب معلوم ہونے کے باوجود والد کے سامنے کچھ کہنے کی جرات نہ ہوسکی مگر جدید دور کی نت نئی ایجادات نے ہماری نسل نو کو عقل کل کے زعم میں مبتلاء کردیا ہے۔۔دو چار لفظ انگلش یا سائنس کے کیا آجاتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اس کامیابی میں والدین کی محنت بھی شامل ہے جس پر ان کا مشکور ہونے کے بجائے ان کو خدا کی پناہ پاگل و ناجانے کیا کیا کہتے ہیں۔۔ایک واقعہ اکبر الہ آبادی مرحوم کا بھی ہے کہ ان کا بچہ بیرون ملک تعلیم حاصل کر کے لوٹا تو یہ سادہ لباس پہنے بچےکو لینے ایئرپورٹ پر پہنچے تو بیٹے کےساتھ آئے دوستوں نے جب ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ تو بچے کو یہ بتاتے ہوئے شرم آئی کہ میں پینٹ کوٹ میں ملبوس ایک دیہاتی کو والد کہوں انگلش میں کہنے لگا کہ یہ میرا نوکر ہےجس پر اکبر آلہ آبادی مرحوم نے تاریخی شعر کہا تھا کہ*ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیںجن کو پڑھ کر بچے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں*تو آئیے اپنے نفس کو یہ باور کروائیں کہ جس ماں باپ نے ہمیں گویائی کا طریقہ سکھایا، انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا اور سب سے بڑھ کر ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بنے ان کے سامنے ہماری کچھ حیثیت نہیں ہے اپنی تمام تر عقلمندی کو خاک میں ملادیں ان کے آگے خود کو ویسا ہی خیال کریں جیسا کسی کہ بچپن میں کیا کرتے تھے جب کوئی چیز دیکھتے یا سنتے تو ان سے پوچھا کرتے کہ یہ کیا ہے؟؟؟ تاکہ ہمارے بچے ہمارا لحاظ کریں ورنہ جس طرح زمانہ جدت کی طرف جا رہا ہے آج اگر ہم موبائل، کمپیوٹر و دیگر چیزیں استعمال کرنے میں ماہر اور ہمارے والدین ان سے ناآشنا ہیں تو کل کلاں اس سے جدید آلات ایجاد ہوں تب ہم ان سے نابلد اور ہمارے بچے ان کے پرزے پرزے سے واقف ہوں گے۔۔اللہ مجھ سمیت ہر ایک کو والدین کی قدر اور خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔۔۔آمی
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s