میڈیا ، عدالت ، حجامت اور درندے

میڈیا کے ایک بڑے حصے نے یہ طے کرلیا ہے کہ نہ خود چین سے بیٹھیں گے اور نہ عوام کو چین سے بیٹھنے دیں گے ۔عالمی عدالت ِ انصاف میں بھارت کی جانب سے کھل بھوشن یادو کی سزائے موت کے حوالے سے دائر کئی گئی درخواست پہ حکم امتناع یا اِسٹے آرڈرپہ شور شرابہ تاحال جاری ہے۔عقابی نگاہ رکھنے والے اینکر ز نے ‘خفیہ ڈیل’ اور ‘گھنائونی سازِش ‘ بے نقاب کرلی ہے۔تاثر یہ دیا جارہاہے کہ بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے کیلئے ‘ پھندہ’ تیار تھا اور جلاد بس ‘لیور’ کھینچنے ہی والا تھا کہ عالمی عدالت سے کھل بھوشن یادو کی رہائی کا حکم جاری ہوگیا ۔مقدمے میں پاکستان کو شکست ِ فاش ہوچکی ہے۔ سوشل میڈیا پہ بھی حکومت ِ وقت اور وکیلِ موصوف کی خاطر خواہ ‘ عزت افزائی ‘ کا سامان بکثرت دستیاب ہے۔ محب ِ وطن ‘ شہری اِ س کردارکشی کی مہم میں زور وشور سے شریک ہیں۔ بعض خواتین و حضرات تو جذبات کی رو میں آکر یہ مطالبہ بھی کررہے ہیںکہ کھل بھوشن یادو کو فوراََ پھانسی دے کر اُسکی ویڈیو عالمی عدالت ِانصاف کو بھیج دی جائے ۔ ایسے ہی ایک’ سرگرم’ اور ‘سر پھرے’ صاحب سے میں نے دریافت کیا کہ آخر بھارت نے عالمی عدالتِ انصاف میں کیا درخواست دائر کی ہے ؟ موصوف نے جواباََ طویل پیغام ارسال کیا ۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اُس جواب میں بھارتی درخواست کے مندرجات کے علاوہ ہر غیر متعلقہ چیز کا ذکر تھا ۔ اِسی طرح غصّے میں ‘لال پیلے ‘ ہوئے ایک اور واقف کار سے گفتگو ہوئی ۔ موصوف تازہ تازہ ایک ٹی وی ٹاک شو سے فیض یا ب ہونے کے بعد بار بار مکے لہرا لہرا کے بھارتی وزیر اعظم کی ‘ تکہ بوٹی ‘ کرنے کے عزم کا اظہار کررہے تھے ۔ نریندر مودی کی قریبی رشتہ دار خواتین کے متعلق انہوں نے جن ‘ غیرسنسر شدہ ‘ خیالات کا اظہار کیا وہ بھی ضبطِ تحریر میں لانا ممکن نہیں ۔ موصوف کو جنونی کیفیت سے نجات دلانے کے لئے ہم نے وضاحت پیش کی کہ ابھی صرف ‘اسٹے آرڈر’ آیا ہے ۔ مقدمے کی باقاعدہ سماعت تو شروع ہی نہیںہوئی ۔ نیز عالمی عدالتِ انصاف نے بھارت کے مئوقف پہ بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ ‘مرض بڑھتا گیا جو ں جوں دوا کی ‘ کہ مصداق ہمارے اس جواب پہ موصوف نے عالمی عدالتِ انصاف کے جج صاحبان کی مستورات کے متعلق بھی ‘غیر سنسر شدہ ‘ اور’ ناقابلِ تحریر’ عزائم کا اظہار کرتے ہوئے اُلٹا ہم سے سوال داغ دیا’ ‘ اگر بھارت کا مئوقف کمزور تھا تو پھر ‘ اسٹے آرڈر ‘ کیو ںآیا ؟ اسی طر ح رہائی کا آرڈر بھی آجائے گا”۔ ابھی ہمارا یہ مکالمہ جاری تھا کہ ایک مشہور چینل پہ بریکنگ نیوز نمودار ہوگئی کہ پاکستانی وکیل ماضی میں عالمی عدالت ِ انصاف میں بھارت کی پیروی بھی کرچکے ہیں۔اس خبر نے جلتی پہ تیل کا کام کیا ۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس کے بعد ‘ غیر سنسر شدہ ‘ گفتگو کا رُخ کِس کِس کی جانب ہوا ہوگا ۔ میڈیا نے قوم کو ‘سازشی تھیوری ‘ کا نشہ لگادیا ہے ۔ ہم یہ جاننے کو تیا ر نہیں کہ بھارت نے آخر درخواست کیا دائر کی ہے ؟ اسٹے آرڈر یا حکم امتناع جیسے عبوری اقدامات کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ آنے والے دنوں میں مقدمے کی باقاعدہ سماعت کیا متوقع رُخ اختیار کرسکتی ہے ؟ عالمی معاہدات کی پاسداری کے حوالے سے ہم پہ کیا ذمہ ّ داریاں عائد ہوتی ہیں ؟ عالمی عدالت ایک ثالث اور ‘ڈھیلے ڈھالے’ ضامن کا کردار ادا کرتی ہے یا کہ قوّت ِ نافذہ کیساتھ حتمی فیصلے جاری کرتی ہے ؟ اِ ن سنجیدہ سوالات پہ غور کرنے کے بجائے غیر مصدقہ خبروں اور انتہائی قابلِ اعتراض سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے ہیجانی ماحول پیداکیا جارہاہے ۔جس طر ح عادی نشّے باز منشیا ت کے مضّر اثرات جاننے کے باوجود وقتی سکون حاصل کرنے کیلئے اپنی جان پہ کھیل جاتا ہے ۔ بالکل اُسی طر ح میڈیا کہ نشے میں دُھت ہوکے ہم اپنے معاشرتی حُسن اور سکون کو پامال کررہے ہیں۔ اُترپردیش سے خبر آئی ہے کہ مظلوم دلت برداری نے اسلام قبول کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ اُتر پردیش پہ یوگی ادیتیا ناتھ کی حکومت کی صورت میں جو تازہ افتاد نازل ہوئی تھی اُس کے بعد کسی بُری خبر کی ہی توقع کی جارہی تھی ۔ یہ خبر توقع کے عین مطابق بُری بھی ہے اور عجیب و غریب بھی ۔ ‘یوگی جی ‘کٹر ہندو ہیں ۔ ہندو معاشرے میں دلت کا مقام ایک ‘ غیر ضروری ‘ اور قابلِ نفر ت شے سے ذیادہ نہیں ۔ یہ مظلوم طبقہ صدیوں سے ‘ متعصّب ہندو ‘ ذہنیت کا ہدف بنتا رہاہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق ریاست اُتر پردیش کے کچھ علاقوں میں دلت برادری کو حجامت بنوانے کی اجازت نہیں ہے۔اِس غیر انسانی حکم کے خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ دلتوں نے ایک مسلمان حجام سے حجامت بنوالی ۔ انتہاپسند ہندو اُس دن سے دلتوں کے پیچھے پڑے ہیں ۔ حجام صاحب خطرہ بھانپ کے روپوش ہوچکے ہیں ۔ جبکہ دلت برادری نے مسلسل جبر اور تشدد سے تنگ آکے اسلام قبول کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ہندو انتہاپسندی کے عجب قصے ہیں کہ حجامت بنوانے جیسے عام سے معاملے سے بات چلی اور تبدیلئی مذہب تک جاپہنچی ۔کوئی بعید نہیں کہ یہ چھوٹی سی چنگاری ہندو شدت پسندی کی ہوا لگنے پہ ‘ مسلم کش فسادات ‘کی آگ میں تبدیل نہ ہوجائے ۔ مودی اور یوگی کے ‘ شائننگ انڈیا ‘ میں ویسے بھی مسلمانوںکی نسل کشی ‘پاپ’ نہیں ‘ پُن ‘ ہے ۔ ہمارے سیاسی قائدین آجکل ہاتھ دھوکے جنگلی جانوروں کے پیچھے پڑے ہیں۔ پہلے محترم وزیر اعظم صاحب نے شیر اور گیدڑ کا موازنہ پیش کیا ۔ اگلے جلسے میں انہوں نے اعلان فرمایا کہ آئندہ الیکشن میں شیر کبوتر کو اٹھالے جائے گا۔ یہ معاملہ وضاحت طلب ہے کہ شیر اپنے شکار کو محض اغواکرنا چاہتا ہے یا کہ بنفس نفیس نوش فرمانا چاہتا ہے ۔ تاہم اس اعلان سے شیر کی دلیری نہیں بلکہ بزدلی کا اظہار ہوتا ہے ۔ گزرے وقتوں میں شیر گائے اور بیل جیسے لحیم شحیم جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ ہمارا سیاسی شیر کبوتر جیسے بے ضرر اور ہومیوپیتھک ٹائپ پرندے پہ نظر یں گاڑے ہوئے ہے۔ ابھی شیر کے نعرے کی گونج کم نہ ہوئی تھی کہ سابق صدر محترم زرداری صاحب نے شیر کو درندہ قرار دے دیا ۔ بعض علمی ذوق رکھنے والے حضرات ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ آخر اس بیان کی کیا ضرورت تھی ؟ ہم کونسا شیر کو ‘ صوفئی باصفا ‘ یا ‘ سماجی کارکن ‘ سمجھ رہے تھے ۔ ا ن صاحبان کو واضح ہو کہ زرداری صاحب نے کبوتر کھانے والے قناعت پسند سیاسی شیر کو درندہ قرار دیاہے ۔ دورہ پشاور میں موقع غنیمت جانتے ہوئے صدر محترم نے سونامی کو بھی تباہی کے علامت قرار دے دیا ۔ تاہم حق وصداقت کا دریا بہاتے ہوئے وہ اپنے انتخابی نشان تیر کے ‘فضائل و خصائل ‘ بیان کرنا بھول گئے ۔ سندھ سے خبر یے آئی ہے کہ زہر میں بجھے اِس تیر کی بدولت کئی زندگیوں کے چراغ گل ہوچکے ہیں ۔ کسی دِ ل جلے نے درست کہا تھا ” سندھ کے عوام روز مررہے ہیں لیکن بھٹوپھر بھی زندہ ہے ”۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s