عظیم ماں نے معذور بیٹے کو ہارورڈ میں داخلے کے قابل بنادیا

چین کے صوبے ہوبائی کی خاتون نے 1988 میں اپنی اکلوتے بیٹے کو جنم دیاجو پیدائشی طور پر نقائص کا شکار تھا اور جلد سیریبرل پالسی جیسے مرض کا شکار ہوکر عمر بھر کے لیے معذور ہوگیا۔ وہاں ڈاکٹروں اور خود ان کے شوہر نے بچے کو چھوڑنے اور معذوروں کے مرکز میں داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا اصرار تھا کہ بچہ ایک بے وقعت اور قابلِ رحم زندگی گزارے گا تاہم اس کی والدہ نے یہ سب کچھ ماننے سے انکار کردیا اور اپنے شوہر سے طلاق لے کر اپنی پوری زندگی اسے قابل بنانے پر مرکوز کردی۔

mother2-1495033876.jpg

اس کے بعد خاتون نے ایک نہیں بلکہ تین ملازمتیں کیں اور اپنے بچے کو ذہنی مشقیں کراتی رہیں تاکہ اس کی ذہانت کا معیار بلند ہو اور اس کی حسیات جاگنے لگیں۔ یہاں تک معذور بچے کو چاپ اسٹک پکڑنے تک کی تربیت دی اور اس میں اس کی سکت بھی نہ تھی۔ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچے پر کئی سختیاں بھی کیں تاکہ وہ جلدی جلدی کام کے قابل ہوسکے۔

820453-mothermain-1495033805-884-640x480.jpg

آخرکار ماں کی محنت رنگ لے آئی اور اس معذور لڑکے نے بیجنگ یونیورسٹی سے ماحولیاتی سائنس اور انجینیئرنگ میں گریجویٹ کرلیا۔ اب اسی ماں کے طفیل یہ لڑکا ہارورڈ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کررہا ہے۔ یہ ایک ماں کی عظمت ہے جس نے ڈاکٹروں کی رائے کو اپنی محنت اور جذبہ ممتا سے غلط ثابت کردیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s