”عمران خان خود یہ چیز پیش کریں۔۔“چیف جسٹس سپریم کورٹ نے عمران خان کو زوردار حکم دیدیا ،بڑی مشکل میں ڈال دیا

سپریم کورٹ میں عمران خان کی نااہلی کیس کی سماعت ہوئی اور اس موقع پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ جائیداد

چیف جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ عمران خان نے بیوی کی جورقم واپس ادا کی اس کا بینک سٹیٹمنٹ دیں ، ہمارے نظام میں سچائی کی بہت اہمیت ہے اور سچائی کی تلاش کیلئے جوریکارڈ ڈھونڈنا پڑا یا انکوائری کرانی پڑی کرائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں حنیف عباسی کی درخواست پر عمران خان کے خلاف بنی گالہ اراضی کیس کی سماعت ہوئی اور اس موقع پر بنچ کے سربراہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ نیازی سروسزکو گوشواروں میں ظاہرکیانہ انکم ٹیکس ریٹرنز میں، قانون کے مطابق یہ معلومات ظاہرکرنا ضروری تھیں ،جواب میں عمران خان کے وکیل نے کہا کہ فلیٹ کی فروخت کے بعد کمپنی میں صرف 9پاﺅنڈ تھے اور اس لیے ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہیں کیا گیا۔

جسٹس عمر عطاءبندیال نے سوال کیا کہ ہوسکتاہے کمپنی کے الگ اثاثہ جات بھی ہوں؟ جس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 1983سے 2002تک عمران خان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، لندن فلیٹ کی فروخت کے بعد نیازی سروسز خالی شیل کمپنی رہ گئی تھی اور لندن فلیٹ کا تنازع چل رہاتھااس لیے تاخیر سے فروخت ہوا۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ کچھ پے منٹ شارٹ تھی اور بیوی سے ادھار لیا؟ عمران خان نااہلی کیس کی سماعت میں نعیم بخاری سے سپریم کورٹ نے سوالات کئے.
سپریم کورٹ کی طرف سے پہلا سوال پوچھاگیا کہ بنی گالہ اراضی کے لیے رقم بعد میں آئی تو ادائیگی پہلے کیسے ہوئی؟دوسرے سوال میں پوچھا گیا کہ کیسے ثابت ہوگا کہ راشد خان کے اکاﺅنٹ میں پیسے کب اور کہاں سے آئے؟تیسرا سوال تھا کہ راشد کے اکاﺅنٹ میں 2جگہ جمائمہ کا نام ہے باقی رقم کس نے کہاں سے بھجوائی؟ چوتھا سوال پوچھا گیا کہ95 کنال اراضی کاانتقال طلاق کے بعدجمائمہ کے نام ہواکاغذات میں زوجہ کیوں لکھا گیا؟پانچواں سوال یہ تھا کہ 9پاﺅنڈ مالیت کی کمپنی ایک لاکھ 17 ہزار پاو¿نڈ مالیت کا اثاثہ کیسے رکھتی تھی؟چھٹے سوال میں نعیم بخاری سے پوچھا گیا کہ آف شور کمپنی کیسے اور کیوں بنائی جاتی ہے اور اس کی پاکستانی قوانین میں کیا حیثیت ہو گی؟ساتویں سوال میں سپریم کورٹ نے پوچھا کہ کیا پاکستانی قوانین کے تحت بیرونی اثاثے ظاہر کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ جبکہ آٹھویں سوال میں عمران خان کے وکیل سے پوچھا گیا کہ قرض کی واپسی کاچیک نیازی سروسزنے دیا تو آف شورکمپنی کیسے بے معنی ہوگئی؟۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s