ہاں ہم نے یہ غلطی کی تھی، عمران خان کےوکیل نے تسلیم کر لیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان کی نا اہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس قوانین کے تحت کسی بھی فرد کے صادق اور امین ہونے کا تعین نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عمران خان نے اپنے گوشواروں میں نیازی سروسز لمیٹڈ کو ظاہر نہیں کیا۔جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کی دستاویزات نیو جرسی میں فائل کیے گئے ۔ ایف بی آر کے پاس نیازی سروسز اور عمران خان کے خلاف کوئی مواد نہیں ہے۔ نیازی سروسز کو گوشواروں میں ظاہر نہ کرنا غلطی ہے، بدنیتی کی بنیاد پر ایسا ہرگز نہیں کیا گیا۔

جس پر جسٹس فیصل عرب نے نعیم بخاری سے کہا کہ آپ اپنے بیان کی نفی کر رہے ہیں۔ پہلے آپ نے کہا کہ نیازی سروسز کو ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا اور اب آپ اسے غلطی قرار دے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عمران خان کی بہنوں کا کوئی مفاد نہیں تھا تو پھر آف شور کمپنی کو کیوں زندہ رکھا گیا ؟ نعیم بخاری نے جسٹس فیصل عرب کے ریمارکس کے جواب میں کہا کہ یہ میری متبادل دلیل ہے۔ آف شور کمپنی کوزندہ رکھنے کا جواز شئیر ہولڈرز دے سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں حنیف عباسی نے عمران خان کی نا اہلی سے متعلق درخواست دائر کر رکھی ہے۔ جس پرچیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s