شیخ کہتا رہا حساب حساب

آج کل مومنہ محتسن کی جانب سے پڑھا گیا قصیدہ بردہ شریف کافی بحث مباحثے کا باعث بنا ہوا ہے۔
زیادہ تر لوگ مومنہ کو گندی گندی گالیوں سے نواز رہے ہیں کہ اب یہ ہمیں قصیدہ بردہ سنائے گی؟ مومنہ کو گالیاں دینے والوں میں ایک بڑی تعداد پڑھے لکھوں کی بھی ہے۔
میں اس معاشرے کی منافقت اور دوغلے پن پر حیران ہوتا ہوں کہ وہی مومنہ اگر آپ کو گانے گا گا کر سناتی ہے تو اس پر صدقے واری جاتے ہو اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے ہو جب اس نے ایک نیک کام کیا قصیدہ بردہ شریف پڑھا تو گالیاں؟
آپ میں اور شیطان میں کیا فرق ہے؟ وہ بھی تو ایک مسلمان کے نیک کام کرنے پر یوں ہی چراغ پا ہوتا ہے۔
ایک کمنٹ پڑھا کہ “اب یہ مراثن ہمیں دین سکھائے گی۔”
حضرت آپ کو تو دین آپ کے پیدا کرنے والے نہیں سکھا سکے۔۔ آپ کی مسجد کا مولوی نہیں سکھا سکا۔۔ مومنہ کی کیا مجال؟
بات مومنہ کی نہیں بات اس معاشرے کی سوچ کی ہے، رمضان شروع ہوتے ہی ٹی وی پر رمضان ٹرانسمیشنز کی میزبانی کرنے والوں یا والیوں کی کم بختی آ جاتی ہے، کسی کو جہنمی کسی کو مراثی کسی کو مراثن اور گندی گندی گالیاں۔

maxresdefault

کون لوگ ہو یار آپ؟
آپ کو کس نے مغالطے میں ڈال دیا کہ دین پر بات کرنے کے مجاز یا ٹھیکے دار صرف چند لوگ ہیں؟
جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے
“پہنچا دو چاہے تمہیں ایک آیت ہی کیوں نا معلوم ہو۔”
اگر کوئی گانے گاتا ہے یا مارننگ شو ہوسٹ کرتی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کوئی اسلامی شو ہوسٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ لوگوں کو ان کے ظاہر سے جج کرنا چھوڑ دیں۔ یہ نا ہو کہ متقیوں کو ان کا تکبر اور دوسروں کے لیے ان کی حقارت لے کر بیٹھ جائے اور گناہ گاروں کا عجز اور شرمندگی انھیں بخشوا جائے۔

رند بخشے گئے روز قیامت
شیخ کہتا رہا حساب حساب

وقار عظیم

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s