کالی عورت

کالی عورت

رومیصہ بس دس منٹ میں تیار ہو جاؤ بلال نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے ہدایت دی..
جی ابھی تیار ہوتی ہوں. لباس تبدیل کر کے بال بنا کے جیسے ہی اس کا ہاتھ میک اپ بکس کی طرف بڑھا بلال کی آواز آئی
تمہیں کیا لگتا ہے یہ لگا کے تم آسمان سے اتری حور لگنے لگو گی؟؟
تم کچھ بھی کر لو رومیصہ بیگم تم خوبصورت نہیں لگ سکتی کیوں کہ تم “کالی عورت” ہو.
کالی عورت جتنا مرضی سنگھار کر لے ہمیشہ بدصورت ہی رہتی ہے
لفظ تھے یا آگ… رومیصہ کو جلا گئے اس نے آئینے میں دیکھا اس کے چہرے کی سیاہی اور گہری ہوگئی تھی. میک اپ بکس پہ رکھے ہاتھ سے اس نے
ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا
بجھے ہوئے دل سے وہ اٹھ گئی بلال کمرے سے باہر جا چکا تھا.
*** **** ***** ***** *****
اس کے سسرال میں سب بے حد خوبصورت تھے دودھ ملائی سے بنی ہوئی صورتیں. دیکھتے رہو تو دل نہیں بھرتا تھا مگر وہی دودھ ملائی سی صورتیں جب لب کھولتی تھی تو منہ سے پھولوں کی بجائے کانٹے نکلتے تھے.
وہ خوبصورت نہیں تھی تو بدصورت بھی نہیں تھی قبول صورت رومیصہ دھیمے مزاج کی لڑکی تھی سگھڑ تعلیم یافتہ متوسط گھرانے کی بیٹی اسکا رشتہ اسکے سسر نے اپنی مرضی سے کیا تھا یہ بات اسے شادی کے بعد پتہ چلی جس کا خمیازہ وہ بھگت رہی تھی
شادی سے پہلے اسے کبھی اپنے سانولے پن کا احساس نہیں تھا کسی نے دلایا ہی نہیں تھا مگر اب تو ہر بات اسکے رنگ سے شروع ہو کے وہیں ختم ہوتی تھی..
**** **** ***** ***** * * * *
بھابھی میری فرینڈز آئی ہوئی ہیں 6 کپ چائے بنادیں..
وہ بلال کے کپڑے استری کر رہی تھی جب ہی صبا نے دروازے سے جھانکا
اچھا ٹھیک ہے دے جاتی ہوں.
نہیں نہیں پلیز آپ نہیں آنا میں دس منٹ بعد خود ہی آجاؤں گی لینے،
استری کا پلگ نکالتے ہوئے وہ حیران ہوئی، مگر کیوں میں کیوں نہیں آؤں ؟
وہ میری فرینڈز کیا سوچیں گی میری بھابھی کالی ہیں یہ کہتے ہی وہ فورا پلٹ گئی اور رومیصہ جہاں کی تہاں بیٹھی رہ گئی. اگر یہ گرم استری میرا ہاتھ جلا دیتی تو یقیناً اس کی تکلیف کم ہوتی اس بات سے رومیصہ نے سوچا
*** **** ***** **** ****
بندے کی شکل اچھی نہ ہو تو بات ہی اچھی کر لے. بات بات پہ بلال یہ جملہ اچھالتا رہتا اب وہ بات کرنے سے پہلے یہ جملہ سوچتی اور بات منہ میں ہی رہ جاتی.
ایک جرم تھا جو اس نے نہیں کیا تھا مگر سزا تھی کہ ملے ہی جا رہی تھی. اس گھر میں جب سے بیاہ کے آئی تھی ایک ہی بات تھی جو سننے کو ملی اس کا سارا سلیقہ ساراقرینہ اس کالے پن نے ڈس لیا تھا
تمہارا دل بہت خوبصورت ہے رومیصہ اسکی ٹیچرز اکثر کہتی تھی
تم تو ہر فن مولا ہو، بہت خوش قسمت گھرانہ ہوگا جہاں تم جاؤگی
تم جہاں جاؤ گی نہ دیکھنا کیسے دو دن میں سب تمہارے اسیر ہو جائیں گے یہ جملے اس نے بہت بار سنے تھے.
تمہیں دوسروں کو خوش رکھنے کا سلیقہ آتا ہے یہ زینب تھی جو ہمیشہ کہتی تھی.
ہاں زینب مگر مجھے چہرہ بدلنے کا فن نہیں آتا..
یہاں کسی کو میرے دل میرے سلیقے سے مطلب نہیں ہے میں کسی کی خدمت نہ کرتی بس گورے رنگ کی ہوتی تو میں قابل قبول ہوتی.
آج دن میں اچانک سے بلال کے دوست کی فیملی آگئی تھی.
اچانک آنے کے باوجود اس نے اتنا اچھا انتظام کیا ہر چیز بہترین اور وقت پہ ہوگئی تھی رات گئے کچن سمیٹ کر کمرے میں جاتے ہوئے اسے پورا یقین تھا کم از کم آج بلال اس کے سلیقے سے خوش ہوا ہوگا.
آج سب بہترین ہو گیا نہ؟ اس نے بلال کو دیکھا
مجھے بہت شرمندگی ہوئی وہ بتا کے آتے تو تم امی کی طرف چلی جاتی. صرف کھانا پکانا تو سب کچھ نہیں ہوتا وہ تو ہوٹل سے منگوا سکتے تھے تمہاری معمولی صورت پہ مجھے بہت شرمندگی اٹھانی پڑی اور تم کہتی ہو سب بہترین ہوگیا.
تم آئینہ دیکھ لیا کرو کبھی. میرا دل نہیں چاہتا میں تمہاری صورت دیکھوں پتہ نہیں گھر والے کیسے برداشت کرتے ہیں تمہیں.
اور رومیصہ اس کا دلکش چہرہ دیکھتی رہی. شادی کے وقت یہی دلکش صورت اسے ہر بات سے اچھی لگی تھی..کاش بلال کا دل بھی دلکش ہوتا..
***** * * * * * * * * * * * * * * * * *

السلامُ علیکم مامی جان.
ناشتے کے لیے پراٹھے بناتے ہوئے وہ پوری گھوم گئی تھی.
یہ مناہل تھی جو رات ہی آئی تھی.

وعلیکم السلام اس کے پر جوش سلام کا وہ چاہنے کے باوجود بھی ویسا جواب نہیں دے سکی،
مناہل بلاشبہ اسکے سسرال میں سب سے خوبصورت تھی. رومیصہ کو دل ہی دل میں ڈر لگا ایک اور امتحان شاید..
آپ کو پتہ ہے مامی آپ کے بنائے ہوئے پراٹھوں کی اتنی مزیدار خوشبو سارے گھر میں پھیلی ہے اس لیے میری آنکھ کھل گئی..
رومیصہ نے چونک کے دیکھا
وہ مسکرا دی چلیں جلدی سے یہ بنا لیں پھر مل کے ناشتہ کرتے ہیں. میں جب تک چائے چھان لیتی ہوں وہ آگے بڑھی،
میں کر لیتی ہوں اسے شرمندگی ہوئی وہ پہلی بار آئی تھی اسکے ہوتے ہوئے، شادی پہ بھی نہیں آسکی تھی اس کے پیپر ہورہے تھے،
اف مامی مجھے اتنا شوق تھا آپ سے ملنے کا ، آپ سے باتیں کرنے کا. اب میں خوب تنگ کروں گی آپ کو دستر خوان پہ ناشتے کے برتن رکھتے ہوئے پر جوش سی مناہل بولی
رومیصہ کو یقین نہیں آیا اب تو وہ اسے دیکھ چکی تھی باقی لوگوں کی طرح اس نے کوئی طنز یا نا پسندیدگی کیوں نہیں جتائی تھی. رومیصہ کے حساب سے تو اب تک جتا دینی چاہیے تھی.
اور پھر باقی کے وقت میں بھی وہ اتنا پیار اور محبت سے بولتی رہی..کئی دنوں بعد آج رومیصہ کا من ہلکا پھلکا تھا کئی دن بعد آج اسنے دل سے سنگھار کیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ باقی لوگوں کی طرح تو حسین نہیں دِکھ سکتی تھی مگر پھر بھی سنگھار تو اس کا حق تھا وہ کیوں دوسروں کے طنز سن کے خود پہ پہرے لگائے..
نانو امی. میں تو صبح جب باہر نکلی کمرے سے مجھے لگا غلطی سے میں کہیں اور آگئی ہوں دو بار آنکھیں ملی خود کو چٹکی لی پھر یقین آیا یہ وہی گھر ہے جو گھر کم کباڑ خانہ زیادہ لگتا تھا..
اور پھر اتنی صبح ناشتے کی خوشبو اور وہ بھی اتنی مزے کی..
اللہ اللہ.
آپ تو بس ساری عمر شکرانے کے نفل ادا کیجئے
جو اتنی اچھی بہو مل گئی آپ کو. آپ کو تو مامی نے تخت پہ بٹھادیا. کیوں ماموں صحیح کہہ رہی ہوں نا میں؟ اس نے بلال کو بھی گفتگو میں شامل کیا.

امی اور بلال انہیں سمجھ نہیں آئی مگر پہلی بار بلال نے بھی یہ سوچا مناہل ٹھیک کہہ رہی ہے رومیصہ ہے بہت سگھڑ ورنہ اس کے آنے سے پہلے تو گھر کی حالت بہت بری تھی دوپہر کا کھانا ہمیشہ 4 بجے ملتا وہ بھی بدمزہ…
امی بے چاری حال سے بے حال گھر سنبھالتی بہنیں تو مجال ہے چائے کا ایک کپ بنالیں.
اور اس دن پہلی بار بلال نے رومیصہ کے ساتھ بہت باتیں کی تھی. رات سونے سے پہلے رومیصہ نے دل ہی دل میں مناہل کا شکریہ ادا کیا
*** * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
مامی آپ تھکی ہوئی تو نہیں ہیں ایک کام ہے وہ استری کرنے ہی لگی تھی جب مناہل نے جھانکا
نہیں نہیں بولو. میری فرینڈز آئی ہوئی ہیں کلاس میٹ میں نے میٹرک ادھر ہی سے کیا تھا نا  ساتھ میں وضاحت بھی دی..
آپ ذرا چائے بنادیں.
ہاں ٹھیک ہے بناتی ہوں دس منٹ بعد آکے لے جانا،
لے جاؤں ؟ آپ نہیں ملیں گی گھر آئے ہوئے مہمانوں سے؟ مناہل کے چہرے پہ حیرت پھیلی،
میں ؟؟؟ رومیصہ کے الفاظ اٹک گئے
میں آ گئی تو تمہاری فرینڈز کیا سوچیں گی مناہل کی مامی اتنی کالی ہیں رومیصہ نے آہستگی سے کہا
مامی! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟ صورت تو اللہ نے بنائی ہے. ہمارے اختیار میں نہیں، گورا رنگ خوبصورتی کی علامت نہیں ہے کم از کم میری نظر میں نہیں ہے..
میرے ترازو میں تو دل کی قیمت لگتی ہے، خوب سیرتی انمول ہوتی ہے،
صورت جیسی ہلکی چیز کی نہیں.
آپ کا دل بہت پیارا ہے اس لیے آپ سب سے حسین ہیں اس گھر میں ماموں سے بھی زیادہ، رومیصہ نے چہرہ اٹھایا بلال پتہ نہیں کب آفس سے آگیا تھا.
رومیصہ!
مناہل سچ کہتی ہے صورت خوبصورت نہیں ہوتی یہ سیرت ہوتی ہے جو ہمیں خوبصورت بناتی ہے ورنہ مناہل کو تم نہیں میں خوب لگتا مگر وہ کہہ گئی ہے اسے تم حسین لگی ہو.
کیا تم میری باتوں کو بھلا سکتی ہو؟
رومیصہ نے اثبات میں سر ہلا دیا وہ بھلا سکتی تھی، تو مسکرا دو پھر..
بلال نے کان کھجاتے ہوئے معصومیت دکھائی…..
مناہل جیسے لوگ ہوتے ہیں جو دھوپ میں بارش کی مانند ہوتے ہیں. رومیصہ نے سوچا اور مسکرا دی

.وقار احمد نظامی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s