ایک پروفیسرکا انڈین خاتون عظمیٰ کے نام کھلا خط

عظمیٰ تم وطن عزیز میں لوٹ آئی ہو ۔ خوش آمدید۔ گذشتہ چار دنوں سے تم اخبارات کی سرخیوں میں ہو۔ تمام نیشنل میڈیا نے تمہیں کوریج دیا ہے۔ مختلف نیوز چینلز تم پر اسٹوریز بنا رہے ہیں۔ ٹاک شوز میں تمہارے ماضی کی زندگی پر ڈیبییٹس (Debates)ہورہے ہیں۔ عنقریب تم پر بالی ووڈ کا کوئی فلم ڈائریکٹر فلم بھی بنا لے گا۔ بہت کم وقت میں تم نے اچھی خاصی شہرت حاصل کر لی ہے۔ واہ۔۔۔! واگھا بارڈر سے ہوتے ہوئے تم نے جب اس سرزمین پر اپنا پہلا قدم رکھاتو شاید تم نے محبتاً اس سرزمین کو چھوا۔ میں نہیں جانتاکہ یہ تمہاری اس سرزمین کو لے کر محبت تھی یا عقیدت؟پرستش تھی یا عبادت؟ اس بات کا جواب تم ہی بہتر جانتی ہو۔ تمہارا استقبال کرنے تمہاری والدہ، تمہارے والد، تمہارے بھائی اور تمہاری بیٹی کھڑی تھی۔ لیکن تم نے اُن سے گلے لگنا مناسب نہیں سمجھا۔ تم سب سے پہلے وزیر خارجہ کے پیروں میں جا گری۔ تم جب سشما سوراج کے قدموں میں جھکی میں نہیں جانتا تمہارا جھکنا احتراماً تھا یا عقیدتاً۔ اس بات کا بھی جواب تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا ہوگا۔

6f8cb117ece8f2823256619ee446c36c_M.jpg

وہاں ملک بھر کا میڈیا موجود تھا۔ تمام الیکٹرونک میڈیا کے سامنے تم نے جو حرکتیں کیں وہ کافی تھیں تمہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کے لیے۔ جب میں نے تمہاری حقیقت جاننے کی کوشش کی تو مجھے تم پر رحم آیا۔ آج جہاں مرد کے ذریعے ایک عورت کو تین طلاق دینے کی بات پر بحث و مباحثے جاری ہیں۔ ایسے دور میں تم ایک ایسی خاتون اُبھر کے آئی ہو جس نے تین مختلف مردوں سے خُلا لیا ہے یا تم اُن کی مطلقہ ہو۔ تمہارے پچھلے نکاحوں کی شرعی حیثیتوں سے میں نا واقف ہوں۔ لیکن ہو نہ ہو ہر بار تم نے اپنے مفاد ہی کی خاطر یہ سخت قدم اُٹھایا ہوگا۔ اچھا کیا تم نے سشما سوراج کی قدم بوسی کی۔ تمہاری جگہ سوائے قدموں کے اور کہیں ہو بھی نہیں سکتی ہے۔ تم ایک بہت عمدہ اداکارہ ہو عظمیٰ ۔ تم نے ثابت کر دیا کہ ایک عورت اگر چاہے تو اپنے آنسوؤں سے سیلاب لا سکتی ہے۔ پھر وہ سچے آ نسو ہو یا جھوٹے۔ تم نے ایک بار نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی دو بار نکاح کے پاکیزہ نام کو ملیامیٹ کیا۔ اس پاکستانی سے پہلے تم دو بار شادی کے مقدس بندھن میں بندھی اور اپنی ہی مرضی سے اس مقدس بندھن کو توڑ ڈالا۔ اپنے انٹرویو میں تم نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ اس سے پہلے بھی دو بار تم اس موت کے کنویں سے واپس آ چکی ہو؟ جس بیٹی کی دہائی دے کر تم نے پاکستان کی عدالت سے یہاں آنے کی اجازت مانگی ہے، کیا بیتی ہوگی اُس ننھی سی بیٹی پر جب اُسے پتہ چلا ہوگا کہ تم اُسے کسی نئے مرد کے چکر میں چھوڑ کر بھاگ چکی ہو۔ اُس وقت تمہارے سینے میں دھڑکنے والا ماں کا دل کہاں گیا تھا؟ملیشیاء کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ جب تم عشق لڑا رہی تھی تب تمہاری ممتا کہاں گئی تھی؟تم نے کوئی قابل فخر کام انجام نہیں دیا ہے۔اسی لیے مجھے تم پر فخر نہیں ہو رہا ہے لیکن بہر حال مجھے تم پر رحم آ رہا ہے ۔ تم ایک ناکام عورت ثابت ہوئی ہو۔ تم اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ تم جس سے عشق کر رہی ہو اور جس سے شادی کرنا چاہتی ہو وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور چار بچوں کا باپ ہے۔تم ہی نے اسے کہا تھا کہ اگر پوچھاجائے تو بتا دینا کہ وہ پڑھا لکھا ہے۔ تم ہی نے اس سے کہا تھا کہ وہ اپنے ماضی کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتائے۔ عظمیٰ تم ایک شاطر عورت ہو۔ سوشل میڈیا پر تم نے عشق لڑا کر اپنی خیالی دنیا بسا لی تھی اور جب تمہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اُس نا مراد نے تمہارے ساتھ دھوکا کیا ہے، وہ تمہیں عیش و آرام کی زندگی نہیں دے سکتا ، وہ تمہیں ملکہ کا رتبہ نہیں دے سکتا تو تم بدل گئی۔ تم ایک مثالی خاتون ہو ہی نہیں سکتی۔ میڈیا تمہیں سر آنکھوں پر اسی لیے بٹھا رہا ہے کیوں کہ تم ایک مسلمان ہو۔ اور تمہاری واپسی پاکستان سے ہوئی ہے۔ تمہاری واپسی پاکستان سے ایسے وقت ہوئی ہے جب ہندوستان میں ایک فرقہ پرست حکومت بر سر اقتدار ہے، جس حکومت کا سربراہ مسلمانوں کے قتل عام کا ہیرو ہے اور ملک بھر میں گائے کے نام پر مسلمانوں کا کھلے عام قتل جاری ہیں اور گوشت کھانے کی تہمت لگا کر جوان لڑکیوں کی عصمت کو لوٹا جارہا ہے۔ ایسے حالات میں تمہارا استقبال اور تمہیں سر آنکھوں پر بٹھانا چہ معنی دارد ؟تمہیں ہندوستان کی بیٹی کہا جارہا ہے۔ تم نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ہے جس کے لیے تمہاری پیٹھ تھپتھپائی جائے۔ ہر غیرت مند باپ کے لیے تمہاری حیثیت ایک گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی کی ہی رہے گی۔ تمہیں دیکھ کر ہمیں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انسان اپنے اخلاق اور اپنے روّیے سے پہچانا جاتا ہے۔ تم نے ایسا کوئی کا م نہیں کیا جس سے تمہیں یاد رکھا جائے گا۔ کاش کہ ہماری وزیر خارجہ کل بھوشن جادھوکو یا سربجیت سنگھ کو واپس لانے میں اتنی مستعدی دکھاتی۔ کاش کہ سرحد پر جاسوسی کی الزام میں قید اَن گنت بے گناہ اور معصوم مویشیوں کے چرواہوں اور مچھواروں کو واپس لانے میں ہماری حکومت اتنی تڑپ دکھاتی جتنی کے گائیوں کو بچانے میں دکھا رہی ہے۔ کاش کہ اس ملک کا میڈیا مذہب کی بنیاد پر اور TRP بڑھانے کے لیے خبریں نہ بتاتا۔ عظمیٰ تم نے وقت کی نزاکت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا ہے۔ اپنے مفاد کی خاطر تم نے ہمیشہ اپنے عورت ہونے کا فائدہ اُٹھایا ۔ عظمیٰ تم ایک ناکام بیٹی ، ایک ناکام بیوی اور ایک ناکام ماں ثابت ہوئی۔

از : سہیل ذکی الدین اسسٹنٹ پروفیسر مراٹھواڑہ کالج آف ایجوکیشن ،  ، اورنگ آباد۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s