عظیم آدمی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ غلطی تسلیم کرنے میں تامل نہیں کرتا، میں بھی چونکہ ایک عظیم آدمی ہوں (جیسا کہ میرے ڈرائیور کا ماننا ہے) اس لئے آج اپنی ایک غلطی کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔

ڈان

عظیم آدمی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ غلطی تسلیم کرنے میں تامل نہیں کرتا، میں بھی چونکہ ایک عظیم آدمی ہوں (جیسا کہ میرے ڈرائیور کا ماننا ہے) اس لئے آج اپنی ایک غلطی کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ عرصہ دراز سے میں اس مغالطے میں رہا کہ پاکستان کی لولی لنگڑی جمہوریت ہی ملک کے لئے بہترین نظام ہے، دنیا کے مہذب ملکوں نے چونکہ اسی نظام کے تحت قانون کی حکمرانی قائم کی سو ہم بھی جیسے تیسے ایک دن یہ خواب پورا کر لیں گے بشرطیکہ اس نظام کو چلنے دیا جائے۔ اب پتہ چلا کہ یہ تو ایک سراب تھا، سراسر حماقت تھی، جمہوریت کے لبادے میں تو ہم پر ایک مافیا مسلط ہے جسے احمق عوام کروڑوں کی تعداد میں ووٹ دیتے ہیں اور یوں اس مافیا سے چھٹکارا پانا اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی مرد آہن آکر اس نظام کو سوڈیم سائنائیڈ سے غسل دے کر یوں پاک نہ کر دے جیسے کوئی نوزائیدہ۔ (یہ اور بات ہے کہ اس تیزابی غسل کے بعد نوزائیدہ کا ککھ نہیں رہنا)۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے جلد ہی اپنی غلطی کا ادراک ہو گیا اور میں نے یہ راز پا لیا کہ بطور قوم ہماری نجات کسی ایسے نجات دہندہ میں ہے جو اِس قسم کا غسل دینے کا ایکسپرٹ ہو۔ اب اس سے پیشتر کہ میں بھی ارشمیدس کی طرح ’’میں نے پالیا، میں نے پا لیا‘‘ کا نعرہ لگاتا ہوا سڑک پر آجاؤں، ایک ذرا سی الجھن اس معاملے میں باقی ہے جو رفع ہو جائے تو پھر میں پوری یکسوئی کے ساتھ مرد آہن کے حق میں نہ صرف مہم چلاؤں گا بلکہ ہر اِس شخص کو ہاتھ نچا نچا کر بکاؤ، حکومت کا گماشتہ، بزدل اور مفاد پرست ہونے کا طعنہ دوں گا جو اِس بدبو دار جمہوریت پر عطر چھڑک کر اسے خوشبو دار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں اپنی الجھن بیان کروں، مناسب ہوگا اگر میں آپ کو وہ سنہری دور یاد دلاؤں جو اس مافیا برینڈ جمہوریت سے پہلے ملک میں رائج تھا تاکہ ہمیں احساس ہو سکے کہ جاہل عوام اپنی حماقتو ں سے ملک کو کہاں سے کہاں لے آئے ہیں۔ زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں، بیس برس کا حساب کر لیتے ہیں جب جاہل عوام کے ایک گروہ نے کہ جس کی تعداد ایک دو کروڑ سے زیادہ نہیں تھی اِس ڈائن جمہوریت کی آڑ میں ایک مافیا کو اپنے سر پر بٹھا لیا۔ اُس حکومت کے گماشتوں کا دعویٰ تھا کہ ملک میں ترقی ہو رہی ہے، موٹر وے بن رہی ہے، ٹیلی کام سیکٹر جدید ہو رہا ہے، معیشت آزاد ہو رہی ہے…. ظاہر ہے کہ یہ سب خرافات جاہل عوام کو مزید بیوقوف بنانے کے لئے تھیں۔ اسی دوران بھارت نے ایٹمی دھماکے کر دیئے، چارو ناچار مافیا مارکہ جمہوریت کو بھی جواب میں دھماکے کرنے پڑے جس کے نتیجے میں جذباتی عوام مزید پاگل بن گئے، وہ تو بھلا ہوا مرد آہن کا جس نے 12اکتوبر کو اس مافیا سے ملک کو نجات دلائی۔ خدا غریق رحمت کرے شریف الدین پیرزادہ کو جنہوں نے اس نیک کام میں مرد آہن کی پوری مدد کی تاکہ موصوف پوری یکسوئی کے ساتھ ملک کو اُن مسائل کی دلدل سے نکال سکیں جس میں یہ مافیا جمہوریت ہر دو چار سال بعد ملک کو ہمیشہ دھکیل دیتی ہے۔ مصیبت اس ملک میں یہ بھی ہے کہ یہاں چند افلاطونوں نے ایک آئین لکھ مارا ہے جسے مٹھی بھر قانون پسند مسخرے سر پر اٹھائے پھرتے ہیں حالانکہ وہ یہ بنیادی اصول نہیں جانتے کہ آئین ملک سے مقدم نہیں ہوتا۔ یہی اصول بتانے کے لئے ہمارے فوق البشر نے اپنے چند ساتھیوں کو عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے گھر بھیجا تاکہ انہیں یہ نکتہ سمجھایا جائے کہ ملک کے وسیع تر مفاد میں وہ اپنا کام جاری رکھیں، فرق صرف اتنا ہوگا کہ وہ ایک نیا حلف اٹھائیں گے جس میں مرد آہن سے وفاداری کی شرط پہلے ہوگی۔ ذرا سی بات تھی مگر موصوف اڑ گئے۔ ہمارے خیر اندیش آمر کا کام البتہ نہیں رکا اور اِس سنہری دور میں ہمارے محبوب لیڈر کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی مل گیا۔ لولی لنگڑی جمہوریت ہوتی تو سب کام ٹھپ ہو جاتا۔
اللہ اللہ کیا دور تھا۔ وہ تمام دو دو ٹکے کے ورکر جو آج کل لیڈر بنے بیٹھے ہیں، سب کے گھروں کی دیواریں پھاند کر انہیں اٹھا لاتے اور جیلوں میں ڈال کر بھول جاتے تھے۔ الیکٹرونک میڈیا تو تھا نہیں، دو چار اخبار تھے، کس میں ہمت تھی کہ اُن میں کالم لکھتا! اکا دکا سر پھرے تھے جو نمک حلال بننے کی کوشش میں خرافات لکھتے تھے، باقی سب ہمارے مرد آہن کے گُن گاتے تھے اور سڑی بسی جمہوریت سے چھٹکارا دلانے پر فوق البشر کے مشکور تھے۔ خیر اندیش آمر کا یہ گولڈن پیریڈ نو برس تک رہا، کسی جمہوری مافیا کے برعکس یہ وہ دور تھا جب چشم فلک نے وہ نظارہ بھی دیکھا کہ آمر ہونے کے باوجود اس مرد باکردار نے عوام کے ووٹ لے کر خود کو صدر منتخب کروایا، جمہوریت کے فروغ کے لئے ملک میں ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کے لیڈران کو پہلے نیب سے غسل کروا کے پاک صاف کروایا گیا، مافیا ٹولے کو ملک سے ہی نکال باہر کیا تاکہ حقیقی جمہوریت پھل پھول سکے، بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کی غرض سے دشمن ملک لیڈران کا صفایا کر دیا گیا، مرد آہن چونکہ عوامی طاقت میں یقین رکھتے تھے اس لئے طاقت کا براہ راست مظاہرہ کراچی میں کیا گیا، چند درجن لوگوں کی گردنیں اس مظاہرے میں کاٹنی پڑیں مگر ملک کے وسیع تر مفاد اور مافیا سے نجات کے لئے یہ کوئی بڑی قیمت نہیں تھی۔ اس دور کی روداد لکھنے بیٹھو تو کئی چہرے….معاف کیجئے گا….کئی صفحے کالے کئے جا سکتے ہیں مگر سب سے درخشاں باب 3نومبر کو رقم کیا گیا جب عدالتوں نے آئین اور قانون کی آڑمیں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنی شروع کی، مرد آہن چونکہ کسی دباؤ میں آنا پسند نہیں کرتا تھا اس لئے اُس نے عدالتوں کا بستر گول کرکے 49جج صاحبان کو گھر بھیج کر بال بچوں سمیت قید کر دیا۔ یک جنبش قلم چیختے چنگھاڑتے ٹی وی چینل بھی بند کردیئے۔ ہوتی مافیا جمہوریت تو ملکی مفاد میں اتنا بھی نہ کر پاتی۔
معاف کیجئے گا سارا کالم تو تمہید کھا گئی حالانکہ میں تو فقط اپنی الجھن کو بیان کرنا چاہتا تھا کہ اگر یہ سنہری دور جس کی چند جھلکیاں میں نے پیش کی ہیں واپس آ جائے اور ہمیں اس مافیا جمہوریت سے نجات مل جائے تو کتنا اچھا ہو! مسئلہ مگر یہ ہے کہ خیر اندیش آمر کے اقتدار چھوڑنے کے بعد جاہل عوام دو مرتبہ ووٹ ڈال چکے ہیں مگر مرد آہن کو منتخب نہیں کرتے، مور اوور کے طور پر ہم نے آئین اور عدلیہ بحال کرکے خیر اندیش آمر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی چلا رکھاہے جس میں آپ مفرور ہیں۔ ان حالات میں اِس فراڈ، مافیا، ڈائن، بدبودار اور حرافہ جمہوریت سے ہمیں کیسے نجات ملے گی جس میں آئین مقدم ہے، عدالتوں اور میڈیا کو کسی تین نومبر کا ڈر نہیں اور جس میں ’’ڈان‘‘ پیشیاں بھگت رہا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s