بیٹی کو دس نصیحتیں

یمن میں حارث بن عمروالکندی نام کا ایک بادشاہ گزرا ہے۔ ایک دن اسے اطلاع ملی کہ عوف کندی نامی سردار کی لڑکی غیر معمولی طور پرحسین و جمیل ہے۔ بادشاہ نے اسی کی برادری کی عصام نامی ایک عورت کو حال معلوم کرنے بھیجا۔ وہ لڑکی کی والدہ کے پاس پہنچی جس کا نام اما مہ بنت حارثہ تھا۔ اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
وہ اسے اپنی لڑکی کے پاس لے گئی اور کہا کہ یہ تیری خالہ ہے جو تجھے ملنے اور تیرے بارے میں معلومات حاصل کرنے آئی ہے۔ اس سے کھل کربات کر اور کوئی بات اس سے نہ چھپانا۔ وہ عورت اس لڑکی کو دیکھ کر اس کے حسن و جمال اور سلیقہ مندی کی قائل ہو گئی۔ واپس آ کر بادشاہ سے صورت حال بیان کر دی اور اس کی بہت تعریف کی۔
یہ سن کر بادشاہ نے اس کے باپ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ چناںچہ اس کیساتھ بادشاہ کی شادی ہو گئی۔ رخصتی کے وقت جب دلھن کو پالکی میں بٹھا کر خاوند کے گھر لے جانے کا مرحلہ آیا، تو ماں نے اسے چند نصیحتیں کیں۔ اس نے کہا:
اے بیٹی، اگر نصیحت کسی کے عقل و خرد یا اعلیٰ نسب کی وجہ سے کی جاتی، تو میں اسے ضرور چھوڑ دیتی اور تجھ سے چھپاتی۔ مگر یہ عقل مند کیلئے یاددہانی کے طور پر اور بے سمجھ کیلئے بطور تنبیہہ کی جاتی ہے۔ اس لئے میں تجھے نصیحت کر رہی ہوں۔
اے میری بیٹی، اگر عورت اپنے والدین کی دولت مندی اور ان کی والہانہ محبت کی وجہ سے مستغنی ہوتی، تو سب سے زیادہ میں اپنے خاوند سے لاپروا اور مستغنی ہوتی، مگر ایسا نہیں۔ بلکہ جس طرح عورتوں کیلئے مرد پیدا کئے گئے ہیں بالکل اسی طرح عورتیں مردوں کیلئے پیدا کی گئی ہیں۔ اے بیٹی، تو ایک مانوس ماحول اور وطن سے دور ایسے ماحول میں جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔ ایک ایسے ساتھی کے ہاں تجھے جانا ہے جس کیساتھ تو مانوس نہیں جبکہ وہ تیرا مالک بن جائے گا۔ لہٰذا تو اس کی لونڈی بن جانا اس طرح وہ تیرا غلام بن جائے گا۔
اس سلسلے میں تو میری دس باتیں یاد رکھنا:
٭ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے خاوند کیساتھ قناعت اور سادگی سے زندگی گزارنا۔
٭ اس کی بات غور سے سننا اور اطاعت کرنا کیونکہ قناعت میں دل کو راحت پہنچتی ہے اور اطاعت و فرمانبرداری میں مالک (خاوند) خوش ہوتا ہے۔
٭ تیسری بات یہ کہ تجھ سے خاوند کی مرضی کے خلاف کوئی بات سرزد نہ ہو۔
٭ تیرا خاوند تجھے صاف ستھرے اور مہکتے لباس میں ملبوس ہی دیکھے۔ اے میری بیٹی، تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ عطر کی عدم موجودگی میں پانی سب سے خوشبودار ہے، اس سے نہا اور بناو سنگار کر۔ حسن پیدا کرنے کیلئے تیرے پاس سرمہ موجود ہے، اس سے زیادہ کوئی چیز اچھی نہیں۔
٭ پانچویں بات یہ ہے کہ اس کے کھانے کے وقت کا خیال رکھ۔
٭ سونے کے وقت بھی اس کے آرام کا خیال رکھ کیونکہ بھوک کی شدت ناقابل برداشت ہوتی ہے اور نیند سے اچانک جاگنا غصے کا سبب ہوتا ہے۔
٭ ساتویں بات اس کے مال کی حفاظت کرنا ہے۔
٭ آٹھویں نصیحت یہ ہے کہ اس کے رشتے داروں اور خاندان کا لحاظ رکھنا۔ کیونکہ مال کی حفاظت حسن ترتیب اور رشتے داروں اور خاندان کی رعایت حسنِ انتظام کی علامت ہے۔
٭ نویں یہ کہ اس کے رازوں کو ظاہر نہ کرنا۔
٭ دسویں یہ کہ اس کے حکم کی نافرمانی نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تو نے اس کے راز کو ظاہر کر دیا، تو سزا سے نہ بچ سکے گی اور اگر نافرمانی کی، تو اس کے غصے کو بھڑکا دے گی۔
اے بیٹی، جب وہ ناخوش ہو، تو خوش ہونے اور جب وہ خوش ہو، تو غم کا اظہار کرنے سے بچنا۔ کیونکہ پہلی چیز کوتاہی کی علامت ہے اور دوسری سے کدورت کا اظہار ہوتا ہے۔
اور تجھے اچھی طرح معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تمام چیزیں، تو اپنے خاوند سے اس وقت تک حاصل نہ کر سکے گی جب تک کہ تو ان تمام معاملات میں جنھیں تو پسند یا ناپسند کرتی ہے، اپنے خاوند کی خواہش اور رضا کو اپنی مرضی پر ترجیح نہ دے۔ اللہ تعالیٰ تیرے لئے بہتری کرے اور تجھے اپنی رحمت سے نوازے۔
جب لڑکی اپنے خاوند کے ہاں پہنچی، تو اس نے اپنی والدہ کی نصیحتوں کے مطابق عمل کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے خاوند کا اعتماد حاصل کر لیا اور بڑی عزت پائی۔
حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم

IMG-20160202-WA0317.jpg

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s