Marrying The Wrong Person! پچھتاوے سے پریشان

اسمارٹ فون یوزر ہوں یا شادی کرنے والے ؛دونوں قسم کے افراد یہ سوچ کر پچھتاتے رہتے ہیں کہ کاش تھوڑا اور انتظار کیا ہوتا تو بہتر’ ماڈل‘ مل جاتا۔ او ایل ایکس اور کیوکر جیسی ویب سائٹیں اگرایسے ہی ندیدے اور فضول خرچی کے دلدادہ قسم کے فون خریداروں سے آباد ہیںجبکہ عدالتوں میں بے شمار طلاقوں کے معاملے بھی موخرالذکر طبقہ کی بدولت زیر سماعت ہیں۔ ازواجی زندگی گذارنے والے بے دین شادی شدہ جوڑوں کی زندگی کے’ ٹاپ ٹین‘ پچھتاوے کی اس فہرست میں 18 فیصد شرکاءنے ’غلط شخص‘ کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا قرار دیاہے۔
جوڑے کہاں بنتے ہیں؟
خان صاحب نے اپنے دوست سے پوچھا کے جوڑے کہاں بنتے ہیں؟ دوست نے جواب دیا ’آسمانوں میں۔‘معصوم طبیعت خان صاحب نے سر پیٹ لیا کہ میں تو درزی کے یہاں سلنے دے آیا۔ خان صاحب کے اس دوست کو علم نہیں کہ ’ہل من مزید‘ کی آگ میں جلنے والے کس کرب سے گذررہے ہیں۔ازدواجی بندھن کی شیرینی کونسی عمر میں جاکر تلخی کا مزہ دینے لگتی ہے، اس حوالہ سے ایک جائزہ رپورٹ کے اعداد و شمار سے بھانڈا پھوٹا ہے کہ درمیانی عمر کے بہت سے جوڑوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ شریک حیات کے انتخاب میں غلطی ہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا ہے۔
’غلط شخص‘کون؟
لائف اسٹائل ویب سائٹ’سلور سرفرس‘کے طرف کروائے ایک جائزے کے بعد جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرچہ شادی کا دن بہت سے جوڑوں کی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ ہوتا ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس رشتہ میں رومانس کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی بلکہ درمیانی عمر یعنی 50 برس یا اس سے زیادہ عمر کے جوڑوں کو اسی عمر میں اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا ہمسفر وہ نہیں ہے جسے ہونا چاہئے تھا۔پچاس برس کے 1,000 شادی شدہ جوڑوں کی زندگی کے ’ٹاپ ٹین‘ پچھتاووں کی اس فہرست میں 18 فیصد شرکانے ’غلط شخص‘ کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا قرار دیا ہے جبکہ ہر 10 شرکاءمیں سے ایک درمیانی عمر کے فرد کو اس بات پر بھی ندامت تھی کہ اسے زندگی میں ایک بار پھر سے رومانوی رشتہ قائم کرنے کا موقع نہیں ملا۔
ہزاروں خواہشیں ایسی….
سروے کے نتائج سے پتہ چلا کہ درمیانی عمر کے لوگوں کو اس بات پر سب سے زیادہ افسوس تھا کہ انھیں دنیا کی سیاحت کا موقع نہیں مل سکا۔دنیا گھومنے کی خواہش پوری نا کرنے والوں کی تعداد 23 فیصد رہی جن میں زیادہ تر لوگوں نے بتایا کہ وہ سمندری جہاز کے ذریعے دنیا کی سیاحت کرنا چاہتے تھے ان کے علاوہ دوسرے بہت سے لوگوں نے امریکہ دیکھنے کی خواہش پوری نا ہونے پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں سفاری پارک دیکھنا چاہتے تھے۔اس جائزہ کے حوالہ سے کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارٹن لاک نے کہا کہ نتائج اتنے حیران کن اس لیے نہیں ہیں کیونکہ گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ میں 50 برس کے لوگوں کی طلاق کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ شاید پرانی نسل کے لوگ ازدواجی بندھن کو مل جل کر نبھا لیتے تھے ان کی چوائس طلاق نہیں ہوتی تھی۔
اور بھی غم ہیں زمانے میں:
جائزے میں شامل 19 فیصد شرکاءنے اس بات کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی پشیمانی قرار دیا کہ ریٹارمنٹ کے بعد کی زندگی کے لیے انھوں نے رقم بچا کر نہیں رکھی۔16فیصد لوگوں کی رائے میں ان کے لیے یہ بات پشیمانی کا باعث رہے گی کہ ملازمت یا کاروبار کی وجہ سے انھیں اپنے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہیں مل سکا۔پچھتاوے کی اس فہرست میں ایسے لوگوں کی تعداد 17 فیصد تھی جن کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کا عمر بھر پچھتاوا رہے گا کہ وہ کبھی اپنے والدین کے سامنے انھیں یہ نہیں کہہ سکے کہ وہ ان سے بے حد پیار کرتے ہیں۔اسی طرح 15 فیصد درمیانی عمر کے افراد نے بتایا کہ انھیں اس بات کی خلش ہے کہ وہ اپنے دادا اور نانا کے ماضی کے بارے میں زیادہ نہیں جان پائے۔
کیاہے اہم ترین چیز؟
شادی کے بعد نئے نویلے جوڑوں کیلئے سب سے اہم چیز کیا ہوتی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جبکہ ایک تازہ تحقیق میں جب یہی سوال کامیاب اور جوش و خرم زندگی گزارنے والے جوڑوں سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر نئے جوڑے واقعی اس تعلق کا لطف لینا چاہتے ہیںتو جسمانی قربت سے کہیں زیادہ یہ بات اہم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ باتیں کریں تاکہ وہ ایک دوسرے کو خوب اچھی طرح سمجھ سکیں اور حقیقی معنوں میں ایک دوسرے کے قریب آسکیں۔ سلیٹر اینڈ گورڈن نامی کمپنی کی اس تحقیق میں 2000 جوڑوں کی خوشگوار زندگی کا مطالعہ کیا گیا۔ تحقیق سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوگئی کہ سب سے زیادہ خوشگوار اور پرلطف ازدواجی زندگی گزارنے والوں نے نئے جوڑوں کیلئے سب سے اہم چیز آپسی بات چیت اور گپ شپ کو قرار دیا ہے۔ اس کے بعد ایک دوسرے کیلئے قربانی کا جذبہ، ساتھ رہنے کا عزم، تکرار سے پرہیز، صبر، سننے کی صلاحیت، دیانتداری، عزت، جائز توقعات، دوستی اور وفاداری کو اہم قرار دیا گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ جسمانی قربت کو اہم ترین باتوں کی فہرست میں اٹھارہواں نمبر دیا گیا!
 شادی کے لڈو:
اسی لئے مشہورکہاوت ہے کہ شادی کے لڈوجوکھائے وہ پچھتائے اور جو نہ کھائے ،وہ بھی پچھتائے۔مغربی ممالک کاتورونا ہی کیا؛ اسلام میں مرکزی اہمیت کے حامل سعودی عرب میں طلاق اور خلع کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے جبکہ وزارت انصاف کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران خواتین کی طرف سے خلع کیلئے دائر کی گئی درخواستوں کی تعداد 47 فیصد اضافہ کے ساتھ 2033 ہوگئی ہے۔نیوز ویب سائٹ’عرب نیوز‘شاہد ہے کہ مکہ مکرمہ میں خلع کی 512 درخواستیں دائر کی گئیں جبکہ دارالحکومت ریاض میں 324 اور مشرقی صوبہ میں 191 درخواستیں دائر کی گئیں۔ دوسری جانب خاوندوں کی طرف سے ناراض بیویوں کو گھر واپس لانے کیلئے درخواستوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران مکہ میں ان درخواستوں کی تعداد 705، ریاض میں 541 جبکہ مشرقی صوبہ میں 319رہی۔پچھلے ایک سال میں مملکت میں کل ایک لاکھ شادیاں سرانجام پائیں جن میں سے سب سے زیادہ ریاض میں00 30 اور اس کے بعد مکہ مکرمہ میں 27646جبکہ مشرقی صوبہ میں کل 8686 شادیاں سرانجام پائیں۔سعودی محکمہ خاندانی بہبود کی طرف سے نوجوان جوڑوں کیلئے عنقریب شادی کورس کا آغاز کیا جارہا ہے تاکہ طلاق اور خلع کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پایا جاسکے۔
سماجی ماہر کا دعوی :
ہوسکتا ہے سننے میں عجیب لگے تاہم سعودی عرب میں سال 2014کے دوران 34000طلاقیں ہو چکی ہیں اور یہ تعداد دنیا کے بلند ترین شرح طلاق والے ممالک کے ہم پلہ ہے۔ ایک عرصہ سے بلند شرح طلاق کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جارہی ہیں اور اب ایک سماجی ماہر نے دعوی کیا ہے کہ ان طلاقوں کا سبب جدید الیکٹرانک آلات ہیں۔غازی الشماری نامی ماہر نے بتایا کہ مملکت میں اس سال طلاقوں کی شرح شادیوں کی شرح سے تین گنا زیادہ رہی۔ الیکٹرانک آلات جیسا کہ کمپیوٹر اور سمارٹ فون کے علاوہ سماجی آزادی ، شریک حیات کی بے رخی اور دولہا کے خاندانوں کے مداخلت کو بھی اہم وجوہات قرار دیا گیا۔ اخبار سبق کے بقول الشماری نے اس مسلہ کے حل کے لیے جوڑوں کی تربیت اورا سکولوں اور میڈیا میں کامیاب شادی کی تعلیم کو ضروری قرار دیا ہے۔
میڈیکل ایکسپرٹ کا موقف:
عودی میڈیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر صالح الخلاف نے ایک سعودی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی مرد پیار کیلئے نہیں بلکہ عیش و آرام کیلئے شادی کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں طلاق کی شرح بے حد زیادہ ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کی پرورش ہی اس طرح کی جاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے جیسے وہ محض مردوں کے آرام اور آسائش کا سامان ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ہر وقت خوبصورت نظر آنے کیلئے کوشاں رہتی ہیں اور بڑی مقدار میں میک اپ کا سامان خریدتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک بھر میں ’بیوٹی سنٹرز‘ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق خطے کی خواتین میک اپ پر سالانہ 7 ارب سعودی ریال سے زائد خرچ کرتی ہیں۔ اسی طرح ایک اور حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ طلاق کی شرح رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے جہاں روزانہ اوسطاً طلاق کے 66 معاملے منظر عام پر آتے ہیں۔
کیا کہتے ہیں اہل علم؟
اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کی بقا کیلئے انسانی جوڑا بنایا ہے، اور دونوں کے دِل میں ایک د ±وسرے کا ا ±نس ڈالا ہے اور دونوں کو ایک د ±وسرے کا محتاج بنایا ہے، صالح معاشرہ سے نابلد طبقہ کو کون سمجھائے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بہترین مونس و غم خوار بھی ہیں، رفیق و ہم سفر بھی ہیں، یار و مددگار بھی ہیں۔ عورت مظہر جمال ہے، اور مرد مظہرجلال، اور جمال و جلال کا یہ آمیزہ کائنات کی بہار ہے، دنیا میں مسرتوں کے پھول بھی کھلاتا ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد بھی بٹاتا ہے، اور دونوں کو آخرت کی تیاری میں مدد بھی دیتا ہے۔ فطرت نے ایک کے نقص کو دوسرے کے ذریعے پورا کیا ہے، ایک کو د ±وسرے کا معاون بنایا ہے، عورت کے بغیر مرد کی ذات کی تکمیل نہیں ہوتی، اور مرد کے بغیر عورت کا حسن زندگی نہیں نکھرتا۔ اس لئے یک طرفہ طور پر یہ کہنا کہ عورت کو صرف مرد کیلئے پیدا کیا، ورنہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، غلط ہے۔ ہاں! یہ کہنا صحیح ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے کا غم خوار و مددگار بنایا ہے۔
شادی بذریعہ عشق کا انجام:
اکثر لڑکیاں کسی شخص کو پسند کرنے میں دھوکا کھالیتی ہیں، اپنے خاندان اور کنبے سے پہلے کٹ جاتی ہیں، ان کی محبت کا ملمع چند دنوں میں اتر جاتا ہے، پھر نہ وہ گھر کی رہتی ہیں، نہ گھاٹ کی۔ آج کل کچی عمر اور کچی عقل کی لڑکیاں محبت کے جال میں پھنس کر اپنی زندگی برباد کرلیتی ہیں، نہ کسی کا حسب و نسب دیکھتی ہیں، نہ اخلاق و شرافت کا امتحان کرتی ہیں۔ لڑکی کے والدین زندگی کے نشیب و فراز سے بھی واقف ہوتے ہیں، اور یہ بھی اکثر جانتے ہیں کہ لڑکی ایسے شخص کے ساتھ نباہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ اس لئے لڑکی کو چاہئے کہ والدین کی تجویز پر اعتماد کرے، اپنی ناتجربہ کاری کے ہاتھوں دھوکا نہ کھائے۔بہترہے کہ شادی دستور کے مطابق اپنے والدین کے ذریعے کی جائے۔اس کی صورت یہ ہے کہ خود یا اپنی سہیلیوں کے ذریعے اپنی والدہ تک اپنی خواہش پہنچادے، اور یہ بھی کہہ دے کہ میں کسی بے دین سے شادی کرنے کی بجائے شادی نہ کرنے کو ترجیح دوں گی، اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتی رہے۔
نافرمانوں کی فرمانبرداری !
والدین کا بڑا درجہ ہے اور ان کی فرمانبرداری اولاد پر فرض ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ والدین کسی جائز کام کا حکم کریں، لیکن اگر بگڑے ہوئے والدین اپنی اولاد کو جہنم کا ایندھن بنانے کیلئے گناہوں کا حکم کریں تو ان کی فرمانبرداری فرض کیا، جائز بھی نہیں، بلکہ ایسی صورت میں ان کی نافرمانی فرض ہے، ظاہر ہے کہ والدین کا حق اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر نہیں، جب والدین گناہ کے کام کا حکم کرکے اللہ تعالیٰ کے نافرمان بن جائیں تو ایسے نافرمانوں کی فرمانبرداری کب جائز ہوسکتی ہے؟
´خالق کی اطاعت:
جس کام میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو، اس میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔ نہ ماں باپ کی، نہ پیر اور استاد کی، نہ کسی حاکم کی۔ اگر کوئی شخص کسی کے کہنے سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا، وہ خود بھی جہنم میں جائے گا اور جس کے کہنے پر نافرمانی کی تھی اس کو بھی ساتھ لے کر جائے گا۔ مرد کیلئے داڑھی بڑھانا واجب ہے، اور اس کو منڈانا یا کٹانا (جبکہ ایک مشت سے کم ہو) شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ لہٰذا والدین کے کہنے سے اس گناہِ کبیرہ کا ارتکاب جائز نہیں، اور جو والدین اپنی اولاد کو اس گناہِ کبیرہ پر مجبور کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس سے اپنی پناہ میں رکھیں جبکہ ان کے بارے میں اندیشہ ہے کہ ان کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو اور وہ دنیا سے جاتے وقت ایمان سے محروم ہوکر جائیں۔اسی طرح والدین کے کہنے سے ٹی وی دیکھنا، گانے سننا اور نامحرَموں سے ملنا بھی حرام ہے، جب ان گناہوں پر قہر الٰہی نازل ہوگا تو نہ والدین بچاسکیں گے اور نہ عزیز و اقارب اور دوست احباب، اور قبر میں جب ان گناہوں پر عذابِ قبر ہوگا تو کوئی اس کی فریاد سننے والا بھی نہ ہوگا، اور قیامت کے دن ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والا گرفتار ہوکر آئے گا، تو کوئی اس کو چھڑانے والا نہیں ہوگا۔
قہر الٰہی کے شکنجہ میں:
شریعت کا حکم ہے کہ اگر جہاد فرضِ عین نہ ہو اور والدین خدمت کے محتاج ہوں تو والدین کی خدمت کو فرضِ کفایہ سے مقدم سمجھا جائے، اس سے یہ اصول کیس نہیں نکلا کہ والدین کے کہنے پر فرائضِ شرعیہ کو بھی چھوڑ دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی کھلی نافرمانیوں کا بھی ارتکاب کیا جائے۔ اسلام تو نام ہی اس کا ہے کہ ایک کیلئے سب کو چھوڑ دیا جائے، قرآنِ کریم کی سورہ اَنعام میںیوں واردہے:
’آپ فرمادیجئے کہ یقینا میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، اللہ تعالیٰ کے اَحکام کی تعمیل کیلئے باقی ساری دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہوگئے تھے؟اگر دنیا بگڑی ہوئی ہو تو ان سے الگ تھلگ ہونا ہی آدمی کو تباہی و بربادی سے بچاسکتا ہے، ورنہ جب یہ بگڑی ہوئی دنیا قہر الٰہی کے شکنجہ میں آئے گی تو ان سے مل کر رہنے والا بھی قہرِ اِلٰہی سے بچ کر نہیں نکل سکے گا!
خلافِ طبع باتوں کی برداشت:
شوہر کے ساتھ ناموافقت بڑا عذاب ہے، لیکن یہ عذاب آدمی خود اپنے اوپر مسلط کرلیتا ہے، خلافِ طبع چیزیں تو پیش آتی ہی رہتی ہیں، لیکن آدمی کو چاہئے کہ صبر و تحمل کے ساتھ خلافِ طبع باتوں کو برداشت کرے، سب سے اچھا وظیفہ یہ ہے کہ خدمت کو اپنا نصب العین بنایا جائے، شوہر کی بات کا لوٹ کر جواب نہ دیا جائے، نہ کوئی چبھتی ہوئی بات کی جائے، اگر اپنی غلطی ہو تو اس کا اعتراف کرکے معافی مانگ لی جائے۔ خدمت و اطاعت، صبر و تحمل اور خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی وظیفہ نہیں۔ اگر بالفرض شوہر ساری عمر بھی سیدھا ہوکر نہ چلے تو بھی عورت کو د ±نیا و آخرت میں اپنی نیکی کا بدلہ دیر، سویر ضرور ملے گا، اور اس کے بے شمار واقعات ہیں۔ اس کے برعکس جو عورتیں شوہر کے سامنے تڑتڑ بولتی ہیں ان کی زندگی دنیا میں بھی جہنم ہے، آخرت کا عذاب تو ابھی آنے والا ہے۔
’امساک بمعروف:
شریعت کا حکم یہ ہے کہ دونوں میاں بیوی پیار و محبت سے رہیں، ایک دوسرے کے حقوقِ واجبہ ادا کریں، اور اگر نہیں کرسکتے تو علیحدگی اختیار کرلیں۔شرعی حکم سے رجوع کریں تو پتہ چلتا ہے کہ’امساک بمعروف او تسریح باِحسان‘ کا ہے، یعنی عورت کو رکھو تو دستور کے مطابق رکھو، اور اگر نہیں رکھنا چاہتے تو اسے خوش اسلوبی کے ساتھ چھوڑ دو۔حق تعالیٰ اس کی مظلومیت کا بدلہ قیامت کے دن دلائیں گے اور یہ غاصب اور ظالم دنیا میں بھی اپنے ظلم و عدوان کا خمیازہ بھگت کر جائے گا-متفق علیہ، مشکوٰة ص:435 حدیث شریف میں ہے کہ’ان اللہ لیملی الظالم حتّٰی اذا اخذہ لم یفلتہ‘یعنی’اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتے ہیں، لیکن جب پکڑتے ہیں تو پھر چھوڑتے نہیں۔‘مشکوٰة ص:281میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ’تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے حق میں سب سے اچھا ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کے حق میں سب سے اچھا ہوں۔‘ لہذاایسے بہن بھائیوں کیلئے روزانہ صلوٰة الحاجت پڑھ کر دعا کیا کیجئے۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s