’جب آپ کسی کو بوسہ دیتے ہیں تو آپ کے جسم میں فوری یہ 5 تبدیلیاں آتی ہیں‘ سائنسدانوں نے ایسا انکشاف کردیا کہ دنیا کو دنگ کردیا

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)بوسہ پیار کے اظہار کا فطری طریقہ ہے جس کے کچھ ظاہری پہلوﺅں سے تو سب واقف ہیں لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب بھی ہم پہلی بار کسی کو بوسہ دیتے ہیں تو ہمارے جسم کے اندر بھی حیران کن تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ دی مرر کی ایک رپورٹ میں پروفیشنل کنسلٹنٹ تاکیشا رولینڈ بتاتی ہیں کہ ”بوسہ لینا انسانی فطرت کا حصہ ہے جس کا مقصد جسم میں کچھ مخصوص کیمیکلز پیدا کرنا ہوتا ہے جو ہمارے دماغ کو سرور کی کیفیت سے آشنا کرتے ہیں۔ہمارے ہونٹوں میں عصبی رگوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے جو بوسہ لینے سے متحرک ہوجاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمارے دیگر حواس جیسا کہ سونگھنے کی حس بھی بہت تیز ہوجاتی ہے“
تاکیشا نے خصوصاً ان پانچ تبدیلیوں کا ذکر کیا جو بوسے کے دوران ہمارے جسم میں پیداہوتی ہیں۔ ان جسمانی تبدیلیوں کا احوال کچھ یوں ہے:

images (1)
1 سٹریس میں کمی
بوسے سے ہمارے دماغ پر چھائے ہوئے پریشانی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔ امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ڈپریشن کے شکار طلبا و طالبات نے بوسہ تھیراپی کے بعد ڈپریشن میں واضح طور پر افاقہ محسوس کیا۔ بوسے کے نتیجے میں ہمارے جسم میں آکسیٹو سن ہارمون خارج ہوتا ہے جو دماغ میں فرحت کا احساس پیدا کرتا ہے اور پریشانی میں کمی لاتا ہے۔
2کولیسٹرول کا علاج
دلچسپ بات یہ ہے کہ بوسہ کولیسٹرول کا علاج بھی ہے۔ بوسے کے نتیجے میں خون میں موجود لیپرڈ مادوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں، سیرم کولیسٹرول میں کمی آتی ہے اور جسم میں مجموعی طورپر اطمینان کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
3بہترین ساتھی کی تلاش
بوسے کے دوران جسمانی لمس سے ہمیں دوسروں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہمارا جسم فطری طور پر محسوس کرسکتا ہے کہ دوسرا شخص ہمارے لئے موزوں ہے یا نہیں۔ اس طرح بوسے کے ذریعے بہترین رومانوی ساتھی کی تلاش میں بھی مدد ملتی ہے۔
4 ایڈرینا لین کا بہاﺅ
بوسے کے دوران جسم میں ایڈرینا لین ہارمون کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی ہارمون میں اضافے کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے جبکہ جسم میں خون کا بہاﺅ بھی بڑھ جاتا ہے اور ہمیں اپنی طاقت میں بھی اضافہ محسوس ہوتا ہے ۔ یہ تمام علامات جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔
5خوشی کے ہارمون
بوسے کے دوران صرف ایڈرینا لین ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ آکسیٹو سن اور جسم میں اطمینان اور خوشی پیدا کرنے والے دوسرے ہارمون بھی بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہر نفسیات جسٹن لیمیلر کہتی ہیں کہ بوسے کے دوران ہمارے جسم میں ڈوپامین ہارمون کی بھی کثرت ہوجاتی ہے۔ یہ ہارمون بھی ہمیں خوش کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صرف ذہنی اطمینان کا ہی سبب نہیں بنتا بلکہ اس کی وجہ سے ہمارا جسم بھی پرسکون ہوجاتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s