عمران خان سوشل باغی نہ بنیں،،عمرانی سیاست پر ایک نظر

12804801_846672405478796_2460115101827194516_n.jpg                                                                                              تحریر: سید وقار

 

آپ نے اپنی کلاس میں اکثر ایسے سٹوڈنٹ دیکھے ہونگے جو مکمل خاموشی میں بال پوائنٹ کی ٹک ٹک ، زبردستی کی کھانسی،کرسی ک ایڈجسمنٹ کے بہانے شور شرابہ یا پھر کچھ بھی ایسا جو کلاس کے ماحول کو خراب کرسکے کرتے ہیں۔ اس قسم کے سٹو ڈنٹس یونیفارم والے دن رنگ برنگے کپڑوں اور کلرز ڈے پر یونیفارم پہن کر کلاس میں آتے ہیں، آپ کا واسطہ ایسے لوگوں سے بھی رہا ہوگا جو ہر قسم کے موجودہ فیشن سے بالاتر رہتے ہوئے اپنی دنیا اپنا زمانہ خود بنانے کی کوشش کرتے ہیں ،چھوٹے بال رکھنے کا فیشن ہو تو وہ لمبے بال رکھتے ہیں اور اگر بال سب لمبے لمبے رکھنا شروع کر دیں تو وہ سر منڈوا لیتے ہیں،سورج نکلے تو بارشوں کی دعا،تیز بارشیں ہوتو سورج کی دعائیں کرتے ہیں،ایسے لوگ نائٹ کلبز میں کتابیں پڑھتے ہیں اور لائیبریریز میں میوزک کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ہم اگر اپنے ارد گرد کے ماحول میں ایسے لوگوں کو دیکھنا چاہیں تو ہمیں بے شمار ایسے لوگ مل جاتے ہیں اور کئی مرتبہ تو ہمارے اپنے اندر ایک ایسا باغی ضرور موجود ہوتا ہے جو فطرت ،قدرت اور ماحول سے باغی ہوتا ہے ،انگریزی کے ایک معروف شاعر ڈی ،جے این رائٹ نے ایسے لوگوں کو معاشرتی باغی(Social Rebel)قرار دیا ہے اور اپنی ایک نظم “باغی”میں باغیوں کے کردار کی خوبصرت منظر کشی بھی کی ہے جس کی چند مثالیں بھی اوپر دی گئی ہیں۔
اگر ہم عمران خان کو دیکھیں تو پاکستان میں کوئی منفی یا مثبت تبدیلی پر ان کا بیان سب سے الگ ہوتا ہے،ترقی کے تمام معاملات کو وہ حکمرانوں کے ذاتی مفادات سے جوڑتے ہیں اور پسماندگی کی وجہ تو یقنیناحکمرانوں کی غفلت اور نااہلی ہی ہے، عمران خان کی یہ ساری باتیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور حکمرانوں کے لئے ان کا یہ رویہ کروڑوں پاکستانیوں کو پسند بھی ہے ۔
لیکین جب بات کرکٹ کی آتی ہے تو عمران خان ڈی جے اینرائٹ کے باغی کریکٹر کی طرح دکھائی دیتے ہیں جنہیں اپنے دور کی کرکٹ کے علاوہ اور کوئی دور پسند نہیں ،انہیں لگتا ہے ان سے پہلے اور بعد کوئی کرکٹ نہیں ہوئی، T20ورلڈکپ جیتنے سے پہلے تک عمران خان کہا کرتے تھے کہ اب وہ لوگ نہیں رہیجو ورلڈ کپ پاکستان لا سکیں،ہم نے کرکٹ کو ایسے کھیلا ،ویسے کھیلا اور پتہ نہیں کیسے کیسے کھیلا جیسے بیانات دیا کرتے تھے۔
اسی طرح جب PSLُٓپاکستان میں نہیں ہوتا تھاتو اس کا سارا ملبہ عمران خان نجم سیٹھی پر ڈالا کرتے تھے لیکین جیسے ہی PSLپاکستان میں ہوا تو عمران خان نے غیر ملکی کھلاڑیوں پر تنقید شروع کر دی اور انہیں پھٹیچر اور ریلو کٹے قرار دیا ۔
جب تک قومی کرکٹ ٹیم تنزلی کا شکار رہی تو اس کی ساری ذمہ داری بھی عمران خان نجم سیٹھی پر ہی ڈالا کرتے تھے لیکین اب جب یک دم سے قومی ٹیم نے زوال کی زنجیریں توڑ کر بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کرتے ہوئے چیمپیئنز ٹرافی کو اپنے نام کیا اور بین الاقوامی رینکنگ میں بھی پوزینشنز بہتر ہوئی تو عمران خان نے نجم سیٹھی کو مبارکباد دینے کے بجائے ایک ٹویٹ میں عوام سے شکوہ کیا کہ میچ تو جیت لیا اب کرپٹ حکمرانوں کو کب ہرائیں گے۔
عمران خان ایک بڑے سیاسی لیڈر ہیں ایک پورے صوبے میں ان کی جماعت حکمرانی کر رہی ہے
،وہ اخباروں اور چینلز کے بائیکاٹ کے بجائے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیں ،ایک بڑے راہنما ء کی سوچ بھی بڑی ہونی چاہے ،اگر وزیر اعظم بننا ہے تو اپنے لفظوں کے تیر بھی وزیر اعظم پر برسائیں اداروں اور ان کے سر براہان کو دبانا عمرران خان کا کام نہیں ، عمران خان کوسوشل باغی بننے کے بجائے سیاسی باغی بننا ہوگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s