بھارت خود کو سپر پاور سمجھتا ہے لیکن اس کے کسان۔۔۔ بھارت سے ایک اور ایسی خبر آگئی جس کے بعد پوری دنیا میں اس کی ناک کٹ جائے گی

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی حکمرانوں کے دعوﺅں کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ امریکہ کے بعد بھارت ہی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے لیکن مظلوم بھارتی عوام کی غربت اور بدحالی پر ایک نظر ڈالتے ہی بھارتی سماج کی اصل اور بھیانک حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔ بھارت کے غریب طبقات اور خصوصاً دیہی علاقوں میں کسانوں کی بڑی تعداد میں خودکشیاں ایک ایسی ہی لرزہ خیز حقیقت ہے ۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق قرضوں کے بوجھ کے تلے غریب کسانوں کی خود کشیوں کا سلسلہ بہت عرصے سے جاری ہے لیکن گزشتہ دنوں کے دوران اس میں تیزی آ گئی ہے۔ چند دن کے دوران صرف ایک شہر میں چار ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں سے ایک 77 سالہ کسان سپدو پوار کی خودکشی بھی شامل ہے جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی چتا جلائی اور اس میں جل کر راکھ ہوگیا۔

 

maxresdefault

رپورٹ کے مطابق سپدو پوار وادرے خاکوردی گاﺅں کا رہائشی تھا۔ اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے تقریباً ساڑھے تین لاکھ بھارتی روپے کا مقروض تھا جن میں سے تقریباًدو لاکھ کا قرض مالیاتی اداروں سے لیا تھا۔ اس نے قرض کی ادائیگی کیلئے اپنی زمین بھی بیچ ڈالی لیکن قرض سے پوری طرح نجات نہ پاسکا۔ بھاری قرض کے ہاتھوں مجبور ہوکر بالآخر اس نے زندگی سے ہی نجات پانے کا فیصلہ کرلیا۔ رات کے وقت جب سب گھر والے سو رہے تھے تو سپدو پوار نے لکڑیوں کا ڈھیر جمع کیا اور پھر اسے آگ لگاکر اس میں کود گیا۔ اس کا جسم بری طرح جھلس گیا اور شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔سی طرح چاند وات تعلقہ میں آپا صاحب یادیو نامی 32 سالہ شخص نے بھی قرضوں سے تنگ آکر بجلی کے ننگے تاروں کو چھولیا اورجان سے گیا۔ اس نے بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر تاروں کو چھوا اور طاقتور کرنٹ کے باعث موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ وہ ایک کوآپریٹو سوسائٹی کا 25ہزار بھارتی روپے کا مقروض تھا۔
کچرو پوجا نامی 65 سالہ کسان نے بھی چاندوات تعلقہ کے شورے گاﺅں میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ وہ تین لاکھ بھارتی روپے کا مقروض تھا اور اس نے زہر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ گیا۔
واضح رہے کہ یہ تمام خود کشیاں صرف ایک ضلع ناشک میں ہوئی ہیں۔ بھارت کے طول وعرض میں قرضوں کی زنجیروں میں جکڑے بدقسمت غریبوں کا یہی حال ہے۔ حکومتی دباﺅ کی وجہ سے اس نوعیت کی خودکشیوں کے اکثر واقعات میڈیا میں بھی سامنے نہیں آتے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s