اس نے کنواری لڑکیوں کی طرح جھنجھلا کر اپنا ایک پاؤں فرش پر مارا۔اورآنکهیں چرانے کی کی کوشش کرتے ہوئے بولی، ”بات یہ ہے کہ پندرہ بیس دن اوپر ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں کچھ….

افسانہ، سعادت حسن منٹو

جانکی

پونہ میں ریسوں کا موسم شروع ہونے والا تھا کہ پشاور سے عزیز نے لکھا کہ میں اپنی ایک جان پہچان کی عورت جانکی کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں، اس کو یا تو پونہ میں یا بمبئی میں کسی فلم کمپنی میں ملازمت کرادو۔ تمہاری واقفیت کافی ہے، امید ہے تمہیں زیادہ دقت نہیں ہو گی۔ وقت کا تو اتنا زیادہ سوال نہیں تھا لیکن مصیبت یہ تھی کہ میں نے ایسا کام کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ فلم کمپنیوں میں اکثر وہی آدمی عورتیں لے کر آتے ہیں جنہیں ان کی کمائی کھانی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ میں بہت گھبرایا لیکن پھر میں نے سوچا عزیز اتنا پرانا دوست ہے، جانے کس یقین کے ساتھ بھیجا ہے، اس کومایوس نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر بھی ایک گونہ تسکین ہوئی کہ عورت کے لیے، اگر وہ جوان ہو، ہر فلم کمپنی کے دروازے کھلے ہیں۔ اتنی تردّد کی بات ہی کیا ہے، میری مدد کے بغیر ہی اسے کسی نہ کسی فلم کمپنی میں جگہ مل جائے گی۔ خط ملنے کے چوتھے روز وہ پونہ پہنچ گئی۔ کتنا لمبا سفر طے کرکے آئی تھی، پشاور سے بمبئی اور بمبئی سے پونہ۔ پلیٹ فارم پر چونکہ اس کو مجھے پہچاننا تھا، اس لیے گاڑی آنے پر میں نے ایک سرے سے ڈبوں کے پاس سے گزرنا شروع کیا۔ مجھے زیادہ دُور نہ چلنا پڑا کیونکہ سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے ایک متوسط قدکی عورت جس کے ہاتھ میں میری تصویر تھی اُتری۔ میری طرف وہ پیٹھ کرکے کھڑی ہو گئی اور ایڑیاں اونچی کرکے مجھے ہجوم میں تلاش کرنے لگی۔ میں نے قریب جا کر کہا، جسے آپ ڈھونڈ رہی ہیں وہ غالباً میں ہی ہُوں۔ وہ پلٹی۔

’’اوہ، آپ!‘‘

ایک نظر میری تصویر کی طرف دیکھا اور بڑے بے تکلّف انداز میں کہا۔

’’سعادت صاحب! سفر بہت ہی لمبا تھا۔ بمبئی میں فرنٹیر میل سے اُتر کر اس گاڑی کے انتظار میں جو وقت کاٹا۔ اس نے طبیعت صاف کردی۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’اسباب کہاں ہے آپ کا؟‘‘

’’لاتی ہُوں۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ ڈبے کے اندر داخل ہوئی۔ دو سوٹ کیس اور ایک بستر نکالا۔ میں نے قُلی بلوایا۔ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے اس نے مجھ سے کہا۔

’’میں ہوٹل میں ٹھہروں گی۔ ‘‘

میں نے اسٹیشن کے سامنے ہی اس کے لیے ایک کمرے کا بندوبست کردیا۔ اسے غسل وسل کرکے کپڑے تبدیل کرنے تھے اور آرام کرنا تھا، اس لیے میں نے اسے اپنا ایڈریس دیا اور یہ کہہ کر کہ صبح دس بجے مجھ سے ملے، ہوٹل سے چل دیا۔ صبح ساڑھے دس بجے وہ پربھات نگر، جہاں میں ایک دوست کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، آئی جگہ تلاش کرتے ہوئے اسے دیر ہو گئی تھی۔ میرا دوست اس چھوٹے سے فلیٹ میں، جو نیا نیا تھا موجود نہیں تھا۔ میں رات دیر تک لکھنے کا کام کرنے کے باعث صبح دیر سے جاگا تھا، اس لیے ساڑھے دس بجے نہا دھو کر چائے پی رہا تھا کہ وہ اچانک اندر داخل ہُوئی۔ پلیٹ فارم پر اور ہوٹل میں تھکاوٹ کے باوجود وہ جاندار عورت تھی مگر جونہی وہ اس کمرے میں جہاں میں صرف بنیان اور پاجامہ پہنے چائے پی رہا تھا داخل ہُوئی تو اس کی طرف دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بہت ہی پریشان اور خستہ حال عورت مجھ سے ملنے آئی ہے۔ جب میں نے اسے پلیٹ فارم پر دیکھا تھا تو وہ زندگی سے بھرپور تھی لیکن جب پربھات نگر کے نمبر گیارہ فلیٹ میں آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ یا تو اس نے خیرات میں اپنا دس پندرہ اونس خون دے دیا ہے یا اس کا اسقاط ہو گیا ہے۔ جیسا کہ میں آپ سے کہہ چکا ہوں، گھرمیں اور کوئی موجود نہیں تھا، سوائے ایک بے وقوف نوکر کے۔ میرے دوست کا گھر جس میں ایک فلمی کہانی لکھنے کے لیے میں ٹھہرا ہوا تھا، بالکل سنسان تھا اور مجید ایک ایسا نوکر تھا جس کی موجودگی ویرانی میں اضافہ کرتی تھی۔ میں نے چائے کی ایک پیالی بنا کر جانکی کو دی اور کہا۔

’’ہوٹل سے تو آپ ناشتہ کرکے آئی ہوں گی، پھر بھی شوق فرمائیے!‘‘

اس نے اضطراب سے اپنے ہونٹ کاٹتے ہُوئے چائے کی پیالی اُٹھائی اور پینا شروع کی اس کی داہنی ٹانگ بڑے زور سے ہل رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں کی کپکپاہٹ سے مجھے معلوم ہُوا کہ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن ہچکچاتی ہے۔ میں نے سوچا شاید ہوٹل میں رات کو کسی مسافر نے اسے چھیڑا ہے چنانچہ میں نے کہا۔

’’آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہُوئی ہوٹل میں؟‘‘

’’جی، جی نہیں!‘‘

میں یہ مختصر جواب سُن کر خاموش رہا۔ چائے ختم ہُوئی تومیں نے سوچا اب کوئی بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے پوچھا۔

’’عزیز صاحب کیسے ہیں؟‘‘

اس نے میرے سوال کا جواب نہ دیا۔ چائے کی پیالی تپائی پررکھ کر اُٹھ کھڑی ہُوئی اور لفظوں کو جلدی جلدی ادا کرکے کہا۔

’’منٹو صاحب آپ کسی اچھے ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’پونہ میں تو میں کسی کو نہیں جانتا۔ ‘‘

’’اوہ!‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیوں، بیمار ہیں آپ؟‘‘

’’جی ہاں۔ ‘‘

وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ میں نے دریافت کیا۔

’’کیا تکلیف ہے؟‘‘

اس کے تیکھے ہونٹ جو مسکراتے وقت سکڑ جاتے تھے یا سکیڑ لیے جاتے تھے واہوئے۔ اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن کہہ نہ سکی اور اُٹھ کھڑی ہوئی پھر میرا سگریٹ کا ڈبہ اٹھایا اور ایک سگریٹ سلگا کر کہا۔

’’معاف کیجیے گا میں سگریٹ پیا کرتی ہُوں۔ ‘‘

مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ صرف سگریٹ پیا ہی نہیں کرتی بلکہ پھونکا کرتی تھی۔ بالکل مردوں کی طرح سگریٹ انگلیوں میں دبا کر وہ زور زور سے کش لیتی اور ایک دن میں تقریباً پچھتر سگریٹوں کا دھواں کھینچتی تھی۔ میں نے کہا۔

’’آپ بتاتی کیوں نہیں کہ آپ کو تکلیف کیا ہے؟‘‘

اس نے کنواری لڑکیوں کی طرح جھنجھلا کر اپنا ایک پاؤں فرش پر مارا۔

’’ہائے اللہ! میں کیسے بتاؤں آپ کو‘‘

یہ کہہ کر وہ مسکرائی۔ مسکراتے ہوئے تیکھے ہونٹوں کی محراب میں سے مجھے اس کے دانت نظر آئے جو غیر معمولی طور پر صاف اور چمکیلے تھے۔ وہ بیٹھ گئی اور میری آنکھوں میں اپنی ڈگمگاتی آنکھوں کو نہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے کہا۔

’’بات یہ ہے کہ پندرہ بیس دن اوپر ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ۔ ‘‘

پہلے تو میں مطلب نہ سمجھا لیکن جب وہ بولتے بولتے رک گئی تو میں کسی قدر سمجھ گیا

’’ایسا اکثر ہوتا ہے۔ ‘‘

اس نے زور سے کش لیا اور مردوں کی طرح زور سے دھویں کو باہر نکالتے ہُوئے کہا۔

’’نہیں۔ یہاں معاملہ کچھ اور ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کچھ ٹھہر نہ گیا ہو۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’اوہ!‘‘

اس نے سگریٹ کا آخری کش لے کر اس کی گردن چائے کی طشتری میں دبائی۔

’’اگر ایسا ہو گیا ہے تو بڑی مصیبت ہو گی۔ ایک دفعہ پشاور میں ایسی ہی گڑ بڑ ہو گئی تھی۔ لیکن عزیز صاحب اپنے ایک حکیم دوست سے ایسی دوا لائے تھے جس سے چند دن ہی میں سب صاف ہو گیا تھا۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’آپ کو بچے پسند نہیں؟‘‘

وہ مسکرائی۔

’’پسند ہیں۔ لیکن کون پالتا پھرے۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’آپ کو معلوم ہے اس طرح بچے ضائع کرنا جرم ہے۔ ‘‘

وہ ایک سنجیدہ ہو گئی۔ پھر اس نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔

’’مجھ سے عزیز صاحب نے بھی یہی کہا تھا۔ لیکن سعادت صاحب میں پوچھتی ہُوں اس میں جرم کی کونسی بات ہے۔ اپنی ہی تو چیز ہے اور ان قانون بنانے والوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ بچہ ضائع کراتے ہوئے تکلیف کتنی ہوتی ہے۔ بڑا جرم ہے!‘‘

میں بے اختیار ہنس پڑا۔

’’عجیب و غریب عورت ہو تم جانکی!‘‘

جانکی نے بھی ہنسنا شروع کردیا۔

’’عزیز صاحب بھی یہی کہا کرتے ہیں۔ ‘‘

ہنستے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میرا مشاہدہ ہے جو آدمی پُر خلوص ہوں۔ ہنستے ہوئے اس کی آنکھوں میںآنسو ضرور آجاتے ہیں۔ اس نے اپنا بیگ کھول کر رومال نکالا اور آنکھیں خشک کرکے بھولے بچوں کے انداز میں پوچھا۔

’’سعادت صاحب! بتائیے، کیا میری باتیں دلچسپ ہوتی ہیں؟‘‘

میں نے کہا۔

’’بہت۔ ‘‘

’’جھوٹ!‘‘

’’اس کا ثبوت؟‘‘

اس نے سگریٹ سلگانا شروع کردیا۔

’’بھئی شاید ایسا ہو۔ میں تو اتنا جانتی ہوں کہ کچھ کچھ بے قوف ہوں۔ زیادہ کھاتی ہوں، زیادہ بولتی ہوں، زیادہ ہنستی ہوں۔ اب آپ ہی دیکھیے نا زیادہ کھانے سے میرا پیٹ کتنا بڑھ گیا ہے۔ عزیز صاحب ہمیشہ کہتے رہے جانکی کم کھایا کرو پر میں نے ان کی ایک نہ سنی۔ سعادت صاحب بات یہ ہے کہ میں کم کھاؤں تو ہر وقت ایسا لگتا ہے کہ میں کسی سے کوئی بات کہنا بھول گئی ہوں۔ ‘‘

اس نے پھر ہنسنا شروع کیا۔ میں بھی اس کے ساتھ شریک ہو گیا۔ اس کی ہنسی بالکل الگ قسم کی تھیں۔ بیچ بیچ میں گھنگھرو سے بجتے تھے۔ پھر وہ اسقاط حمل کے متعلق باتیں کرنے ہی والی تھی کہ میرا دوست، جس کے یہاں میں ٹھہرا ہوا تھا، آگیا۔ میں نے جانکی سے اس کا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ فلم لائن میں آنے کا شوق رکھتی ہے۔ میرا دوست اسے اسٹوڈیو لے گیا کیونکہ اس کو یقین تھا کہ وہ ڈائریکٹر جس کے ساتھ وہ بحیثیت اسسٹنٹ کے کام کررہا تھا، اپنے نئے فلم میں جانکی کو ایک خاص رول کے لیے ضرور لے لے گا۔ پونہ میں جتنے سٹوڈیو تھے، میں نے مختلف ذرائع سے جانکی کے لیے کوشش کی۔ کسی نے اس کا ساؤنڈ ٹسٹ لیا، کسی نے کیمرہ ٹسٹ۔ ایک فلم کمپنی میں اس کو مختلف قسم کے لباس پہنا کر دیکھا گیا مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ ایک تو جانکی ویسے ہی دن اوپر ہو جانے کے باعث پریشان تھی، چار پانچ روز متواتر جب اسے مختلف فلم کمپنیوں کے اکتا دینے والے ماحول میں بے نتیجہ گزارنے پڑے تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئی۔ بچہ ضائع کرنے کے لیے وہ ہر روز بیس بیس گرین کونین کھاتی تھی۔ اس سے بھی اس کی طبیعت پر گرانی سی رہتی تھی۔ عزیز صاحب کے دن پشاور میں اس کے بغیر کیسے گزرتے ہیں، اس کے متعلق بھی اس کو ہر وقت فکر رہتی تھی۔ پونہ پہنچتے ہی اس نے ایک تار بھیجا تھا۔ اس کے بعد وہ بلاناغہ ہر روز ایک خط لکھ رہی تھی۔ ہر خط میں یہ تاکید ہوتی تھی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور دوا باقاعدگی کے ساتھ پیتے رہیں۔ عزیز صاحب کو کیا بیماری تھی، اس کا مجھے علم نہیں۔ لیکن جانکی سے مجھے اتنا معلوم ہوا کہ عزیز صاحب کو چونکہ اس سے محبت ہے، اس لیے وہ فوراً اس کا کہنا مان لیتے ہیں گھر میں کئی بار بیوی سے اس کا جھگڑا ہوا کہ وہ دوا نہیں پیتے لیکن جانکی سے اس معاملے میں انھوں نے کبھی چوں بھی نہ کی۔ شروع شروع میں میرا خیال تھا کہ جانکی عزیز کے متعلق جو اتنی فکر مند رہتی ہے، محض بکواس ہے، بناوٹ ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ میں نے اس کی بے تکلف باتوں سے محسوس کیا کہ اسے حقیقتاً عزیز کا خیال ہے۔ اس کا جب خط آیا، جانکی پڑھ کرضرور روئی۔ فلم کمپنیوں کے طواف کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ لیکن ایک روز جانکی کو یہ معلوم کرکے بہت خوشی ہوئی کہ اس کا اندیشہ غلط تھا۔ دن واقعی اوپر ہو گئے تھے لیکن وہ بات جس کا اسے کھٹکا تھا، نہیں تھی۔ جانکی کو پونہ آئے بیس روز ہو چلے تھے۔ عزیز کو وہ خط پر خط لکھ رہی تھی۔ اس کی طرف سے بھی لمبے لمبے محبت نامے آتے تھے۔ ایک خط میں عزیز نے مجھ سے کہا تھا کہ پونہ میں اگر جانکی کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو میں بمبئی میں کوشش کروں کیونکہ وہاں بے شمار اسٹوڈیو ہیں۔ بات معقول تھی لیکن میں سیزیو لکھنے میں مصروف تھا، اس لیے جانکی کے ساتھ بمبئی جانا مشکل تھا، لیکن میں نے پونہ سے اپنے دوست سعید جو کو ایک فلم میں ہیرو کا پارٹ ادا کررہا تھا، ٹیلی فون کیا اتفاق سے وہ اس وقت اسٹوڈیو میں موجود نہ تھا۔ آفس میں نرائن کھڑا تھا اسے جب معلوم ہوا کہ میں پونہ سے بول رہا ہوں تو ٹیلی فون لے لیا اور زور سے چلایا۔

’’ہلو، منٹو۔ نرائن اسپیکنگ فرام دس انڈ۔ کہو، بات کیاہے۔ سعید اس وقت اسٹوڈیو میں نہیں ہے۔ گھر میں بیٹھا رضیہ سے آخری حساب کتاب کررہا ہے۔ میں نے پوچھا

’’کیا مطلب؟‘‘

نرائن نے ادھر سے جواب دیا، کھٹ پٹ ہو گئی ہے اصل میں رضیہ نے ایک اور آدمی سے ٹانکا ملا لیا ہے۔ میں نے کہا۔

’’لیکن یہ حساب کتاب کیسا ہورہا ہے؟‘‘

نرائن بولا۔

’’بڑا کمینہ ہے یار، سعید۔ اس سے کپڑے لے رہے ہیں جو اس نے خرید کر دیے تھے۔ ‘‘

بات یہ ہے کہ پشاور سے میرے ایک عزیز نے ایک عورت یہاں بھیجی ہے۔ جسے فلموں میں کام کرنے کا شوق ہے۔ ‘‘

جانکی میرے پاس ہی کھڑی تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے مناسب و موزوں لفظوں میں اپنا مدعا بیان نہیں کیا۔ میں تصحیح کرنے ہی والا تھا کہ نرائن کی بلند آواز کانوں کے اندر گھسی۔

’’عورت! پشاور کی عورت خو، بیجو اس کو جلدی۔ خو ہم بھی قصور کا پٹھان ہے۔ میں نے کہا

’’بکواس نہ کرو نرائن سنو، کل دکن کوئن سے میں انھیں بمبئی بھیج رہا ہوں۔ سعید یا تم کوئی بھی اسے اسٹیشن پر لینے کے لیے آجانا، کل دکن کوئن سے۔ یاد رہے۔ نرائن کی آواز آئی۔

’’پر ہم اسے پہچانیں گے کیسے؟‘‘

میں نے جوا بدیا۔

’’وہ خود تمہیں پہچان لے گی۔ لیکن دیکھو کوشش کرکے اسے کسی نہ کسی جگہ ضرور رکھوا دینا۔ ‘‘

تین منٹ گزر گئے۔ میں نے ٹیلی فون بند کیا اور جانکی سے کہا۔

’’کل دکن کوئن سے تم بمبئی چلی جانا۔ سعید اور نرائن دونوں کی تصویریں دکھاتا ہوں۔ لمبے ترنگے خوبصورت جوان ہیں۔ تمہیں پہچاننے میں دقت نہیں ہو گی۔ ‘‘

میں نے البم میں جانکی کو سعید اور نرائن کے مختلف فوٹو دکھائے۔ دیر تک وہ انھیں دیکھتی رہی۔ میں نے نوٹ کیاکہ سعید کا فوٹو اس نے زیادہ غورسے دیکھا۔ البم ایک طرف رکھ کر میری آنکھوں میں آنکھیں نہ ڈالنے کی ڈگمگاتی کوشش کرتے ہوئے، اس نے مجھ سے پوچھا۔

’’دونوں کیسے آدمی ہیں؟‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’مطلب یہ کہ دونوں کیسے آدمی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ فلموں میں اکثر آدمی بُرے ہوتے ہیں۔ ‘‘

اس کے لہجے میں ایک ٹوہ لینے والی سنجیدگی تھی۔ میں نے کہا۔

’’یہ تو دُرست ہے لیکن فلموں میں نیک آدمیوں کی ضرورت ہی کہاں ہوتی ہے!‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’دنیا میں دو قسم کے انسان ہیں۔ ایک قسم ان انسانوں کی ہے جو اپنے زخموں سے درد کا اندازہ کرتے ہیں۔ دوسری قسم ان کی ہے جو دوسروں کے زخم دیکھ کر درد کا اندازہ کرتے ہیں۔ تمہارا خیال ہے، کون سی قسم کے انسان زخم کے درد اور اس کی تہ کی جلن کو صحیح طور پرمحسوس کرتے ہیں۔ ‘‘

اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا۔

’’وہ جن کے زخم لگے ہوتے ہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’بالکل درست۔ فلموں میں اصل کی اچھی نقل وہی اتار سکتا ہے جسے اصل کی واقفیت ہو۔ ناکام محبت میں دل کیسے ٹوٹتا ہے، یہ ناکامِ محبت ہی اچھی طرح بتا سکتا ہے۔ وہ عورت جو پانچ وقت جا نماز بچھا کر نماز پڑھتی ہے اور عشق و محبت کو سُور کے برابر سمجھتی ہے، کیمرے کے سامنے کسی مرد کے ساتھ اظہارِ محبت کیا خاک کرے گی!‘‘

اس نے پھر سوچا۔

’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ فلم لائن میں داخل ہونے سے پہلے عورت کو سب چیزیں جاننی چاہئیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’یہ ضروری نہیں۔ فلم لائن میں آکر بھی وہ چیزیں جان سکتی ہے۔ ‘‘

اس نے میری بات پر غور نہ کیا اور جو پہلا سوال کیا تھا، پھر اسے دہرایا۔

’’سعید صاحب اور نرائن صاحب کیسے آدمی ہیں؟‘‘

’’تم تفصیل سے پوچھنا چاہتی ہو؟‘‘

’’تفصیل سے آپ کا کیا مطلب؟‘‘

’’یہ کہ دونوں میں سے آپ کے لیے کون بہتر رہے گا!‘‘

جانکی کو میری یہ بات ناگوار گزری۔

’’کیسی باتیں کرتے ہیں آپ؟‘‘

’’جیسی تم چاہتی ہو۔ ‘‘

’’ہٹائیے بھی۔ ‘‘

یہ کہہ وہ مسکرائی۔

’’میں اب آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گی۔ ‘‘

میں نے مسکراتے ہُوئے کہا۔

’’جب پوچھو گی تو میں نرائن کی سفارش کروں گا۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ وہ سعید کے مقابلے میں بہتر ا نسان ہے۔ ‘‘

میرا اب بھی یہی خیال ہے۔ سعید شاعر ہے، ایک بہت بے رحم قسم کا شاعر۔ مرغی پکڑے گا تو ذبح کرنے کی بجائے اس کی گردن مروڑ دے گا۔ گردن مروڑ کراس کے پر نوچے گا۔ پر نوچنے کے بعد اس کی یخنی نکالے گا۔ یخنی پی کر اور ہڈیاں چبا کر وہ بڑے آرام اور سکون سے ایک کونے میں بیٹھ کر اس کی مرغی کی موت پر ایک نظم لکھے گا جو اس کے آنسوؤں میں بھیگی ہو گی۔ شراب پیے گا تو کبھی بہکے گا نہیں۔ مجھے اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ شراب کا مطلب ہی فوت ہو جاتا ہے۔ صبح بہت آہستہ آہستہ بستر پر سے اُٹھے گا۔ نوکر چائے کی پیالی بنا کر لائے گا۔ اگر رات کی بچی ہُوئی رم سرہانے پڑی ہے تو اسے چائے میں انڈیل لے گا اور اس مکسچر کو ایک ایک گھونٹ کرکے ایسے پیے گا جیسے اس میں ذائقے کی کوئی حس ہی نہیں۔ بدن پرکوئی پھوڑا نکلا ہے۔ خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے، مگر مجال ہے جو وہ اس کی طرف متوجہ ہو۔ پیپ نکل رہی ہے، گل سڑ گیا ہے، ناسور بننے کا خطرہ ہے، لیکن سعید کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جائے گا۔ آپ اس سے کچھ کہیں گے تو یہ جواب ملے گا۔

’’اکثر اوقات بیماریاں انسان کی جزو بدن ہو جاتی ہیں۔ جب مجھے یہ زخم تکلیف نہیں دیتا تو علاج کی کیا ضرورت ہے۔ ‘‘

اور یہ کہتے ہوئے وہ زخم کی طرف اس طرح دیکھے گا جیسے کوئی اچھا شعر نظر آگیا ہے۔ ایکٹنگ وہ ساری عمر نہیں کرسکے گا، اس لیے کہ وہ لطیف جذبات سے قریب قریب عاری ہے۔ میں نے اسے ایک فلم میں دیکھا جو ہیروئن کے گانوں کے باعث بہت مقبول ہوا تھا۔ ایک جگہ اس نے اپنی محبوبہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر محبت کا اظہار کرنا تھا۔ خدا کی قسم اس نے ہیروئن کا ہاتھ کچھ اس طرح اپنے ہاتھ میں لیا جیسے کتے کا پنجہ پکڑا جاتا ہے۔ میں اس سے کئی بار کہہ چکا ہوں ایکٹر بننے کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو، اچھے شاعر ہو، گھر بیٹھو اور نظمیں لکھا کرو۔ مگر اس کے دماغ پر ابھی تک ایکٹنگ کی دُھن سوار ہے۔ نرائن مجھے بہت پسند ہے۔ اسٹوڈیو کی زندگی کے جو اصول اس نے اپنے لیے وضع کر رکھے ہیں، مجھے اچھے لگتے ہیں۔ 1۔ ایکٹر جب تک ایکٹر ہے، اسے شادی نہیں کرنی چاہیے۔ شادی کرلے تو فوراً فلم کو طلاق دے کر دودھ دہی کی دکان کھول لے۔ اگر مشہور ایکٹر رہا تو کافی آمدنی ہو جایا کرے گی۔ 2۔ کوئی ایکٹرس تمہیں بھیا یا بھائی صاحب کہے تو فوراً اس کے کان میں کہو، آپ کی انگیا کا سائز کیا ہے۔ 3۔ کسی ایکٹرس پر اگر تمہاری طبیعت آگئی ہے تو تمہیدیں باندھنے میں وقت ضائع نہ کرو۔ اس سے تخلیے میں ملو اور کہو کہ میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں، اس کا یقین نہ آئے تو پوری جیب باہر نکال کر دکھا دو۔ 4۔ اگرکوئی ایکٹرس تمہارے حصے میں آجائے تو اس کی آمدنی میں سے ایک پیسہ بھی نہ لو ایکٹرسوں کے شوہروں اور بھائیوں کے لیے یہ پیسہ حلال ہے۔ 5۔ اس بات کا خیال رکھنا کہ ایکٹرس کے بطن سے تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ سوراج ملنے کے بعد البتہ تم اس کی اولاد پیدا کرسکتے ہو۔ 6۔ یاد رکھو کہ ایکٹر کی بھی عاقبت ہوتی ہے۔ اسے ریزر اور کنگھی سے سنوارنے کے بجائے کبھی کبھی غیر مہذب طریقے سے بھی سنوارنے کی کوشش کیا کرو، مثال کے طور پر کوئی نیک کام کرکے۔ 7۔ اسٹوڈیو میں سب سے زیادہ احترام پٹھان چوکیدار کا کرو۔ صبح اسٹوڈیو میں آتے وقت اسے سلام کرنے سے تمہیں فائدہ ہو گا۔ یہاں نہیں تو دوسری دنیا میں، جہاں فلم کمپنیاں نہیں ہوں گی۔ 8۔ شراب اور ایکٹرس کی عادت ہرگز نہ ڈالو۔ بہت ممکن ہے کہ کسی روز کانگرس گورنمنٹ لہر میں آکر یہ دونوں چیزیں ممنوع قرار دے دے۔ 9۔ سوداگر، مسلمان سوداگر ہوسکتا ہے۔ لیکن ایکٹر ہندو ایکٹر، یا مسلم ایکٹر نہیں ہوسکتا۔ 10۔ جھوٹ نہ بولو۔ یہ سب باتیں

’’نرائن کے دس احکام‘‘

کے عنوان تلے اس نے اپنی ایک نوٹ بک میں لکھ رکھی ہیں جن سے اس کے کیریکٹر کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ان سب پر عمل نہیں کرتا۔ مگر یہ حقیقت نہیں۔ سعید اور نرائن کے متعلق جو میرے خیالات تھے۔ میں نے جانکی کے پوچھے بغیر اشارۃً بتا دیے اور آخر میں اس سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اگر تم اس لائن میں آگئیں تو کسی نہ کسی مرد کا سہارا تمہیں لینا پڑے گا۔ نرائن کے متعلق میرا خیال ہے کہ اچھا دوست ثابت ہو گا۔ میرا مشورہ اس نے سُن لیا اور بمبئی چلی گئی۔ دوسرے روز خوش خوش واپس آئی کیونکہ نرائن نے اپنے اسٹوڈیو میں ایک سال کے لیے پانچ سو روپے ماہوار پر اسے ملازم کرادیا تھا۔ یہ ملازمت اسے کیسی ملی، دیر تک اس کے متعلق باتیں ہوئیں۔ جب اور کچھ سننے کو نہ رہا تو میں نے اس سے پوچھا۔

’’سعید اور نرائن، دونوں سے تمہاری ملاقات ہوئی، ان میں سے کس نے تم کو زیادہ پسند کیا؟‘‘

جانکی کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ لغزش بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہُوئے اس نے کہا۔

’’سعید صاحب!‘‘

یہ کہہ کروہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی۔

’’سعادت صاحب آپ نے کیوں اتنے پُل باندھے تھے۔ نرائن کی تعریفوں کے؟‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیوں‘‘

’’بڑا ہی واہیات آدمی ہے۔ شام کو باہر کرسیاں بچھا کر سعید صاحب اور وہ شراب پینے کے لیے بیٹھے تو باتوں باتوں میں میں نے نرائن بھیا کہا۔ اپنا منہ میرے کان کے پاس لاکرپوچھا۔

’’تمہاری انگیا کا سائز کیا ہے۔ ‘‘

’’بھگوان جانتا ہے میرے تن بدن میں تو آگ ہی لگ گئی کیسا لچر آدمی ہے۔ ‘‘

جانکی کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں زور زور سے ہنسنے لگا۔ اس نے تیزی سے کہا۔

’’آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟‘‘

’’اس کی بے وقوفی پر۔ ‘‘

یہ کہہ کر میں نے ہنسنا بند کردیا۔ تھوڑی دیر نرائن کو برا بھلا کہنے کے بعد جانکی نے عزیز کے متعلق فکر مند لہجے میں باتیں شروع کردیں۔ کئی دنوں سے اس کا خط نہیں آیا تھا۔ اس لیے طرح طرح کے خیال اسے ستا رہے تھے۔ کہیں انھیں پھر زکام نہ ہو گیا ہو۔ اندھا دھند سائیکل چلاتے ہیں، کہیں حادثہ ہی نہ ہو گیا ہو۔ پونہ ہی نہ آرہے ہوں، کیونکہ جانکی کورخصت کرتے وقت انھوں نے کہا تھا ایک روز میں چپ چاپ تمہارے پاس چلا آؤں گا۔ باتیں کرنے کے بعد اس کا تردّد کم ہوا تو اس نے عزیز کی تعریفیں شروع کردیں۔ گھر میں بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ ہر روز صبح ان کو ورزش کراتے ہیں اور نہلا دھلا کر سکول چھوڑنے جاتے ہیں۔ بیوی بالکل پھوہڑ ہے، اس لیے رشتہ داروں سے سارا رکھ رکھاؤ خود انہی کو کرنا پڑتا ہے۔ ایک دفعہ جانکی کو ٹائی فائڈ ہو گیا تھا تو بیس دن تک متواتر نرسوں کی طرح اس کی تیمار داری کرتے رہے، وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے روز مناسب و موزوں الفاظ میں میرا شکریہ ادا کرنے کے بعد وہ بمبئی چلی گئی۔ جہاں اس کے لیے ایک نئی اور چمکیلی دنیا کے دروازے کھل گئے تھے۔ پونہ میں مجھے تقریباً دو مہینے کہانی کا منظر نامہ تیار کرنے میں لگے۔ حقِ خدمت وصول کرکے میں نے بمبئی کا رخ کیا جہاں مجھے ایک نیا کنٹریکٹ مل رہا تھا۔ میں صبح پانچ بجے کے قریب اندھیری پہنچا جہاں ایک معمولی بنگلے میں سعید اور نرائن دونوں اکٹھے رہتے تھے۔ برآمدے میں داخل ہوا تو دروازہ بند پایا۔ میں نے سوچا سو رہے ہوں گے، تکلیف نہیں دینا چاہیے۔ پچھلی طرف ایک دروازہ ہے۔ جو نوکروں کے لیے اکثر کھلا رہتا ہے، میں اس میں سے اندر داخل ہُوا۔ باورچی خانہ اور ساتھ والا کمرہ جس میں کھانا کھایا جاتا ہے، حسبِ معمول بے حد غلیظ تھے۔ سامنے والا کمرہ مہمانوں کے لیے مخصوص تھا۔ میں نے اس کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا۔ کمرے میں دو پلنگ تھے۔ ایک پر سعید اور اسکے ساتھ کوئی اور لحاف اوڑھے سو رہا تھا۔ مجھے سخت نیند آرہی تھی۔ دوسرے پلنگ پر میں کپڑے اُتارے بغیر لیٹ گیا پائنتی پر کمبل پڑا تھا، یہ میں نے ٹانگوں پر ڈال لیا۔ سونے کا ارادہ ہی کررہا تھاکہ سعید کے پیچھے سے ایک چوڑیوں والا ہاتھ نکلا اور پلنگ کے پاس رکھی ہوئی کرسی کی طرف بڑھنے لگا۔ کرسی پر لٹھے کی سفید شلوار لٹک رہی تھی۔ میں اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ سعید کے ساتھ جانکی لیٹی تھی۔ میں نے کرسی پر سے شلوار اٹھائی اور اس کی طرف پھینک دی۔ نرائن کے کمرے میں جا کر میں نے اسے جگایا۔ رات کے دو بجے اس کی شوٹنگ ختم ہوئی تھی، مجھے افسوس ہوا کہ خواہ مخواہ اس غریب کو جگایا۔ لیکن وہ مجھ سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ کسی خاص موضع پر نہیں۔ مجھے اچانک دیکھ کر بقول اس کے وہ کچھ بے ہودہ بکواس کرنا چاہتا تھا، چنانچہ صبح نو بجے تک ہم بے ہودہ بکواس میں مشغول رہے جس میں بار بار جانکی کا بھی ذکر آیا۔ جب میں نے انگیا والی بات چھیڑی تو نرائن بہت ہنسا۔ ہنستے ہنستے اس نے کہا سب سے مزے دار بات تو یہ ہے کہ جب میں نے اس کے کان کے ساتھ منہ لگا کر پوچھا۔ تمہاری انگیا کا سائز کیا ہے تو اس نے بتا دیا کہا۔

’’چوبیس۔ ‘‘

اس کے بعد اچانک اسے میرے سوال کی بے ہودگی کا احساس ہوا۔ مجھے کوسنا شروع کردیا۔ بالکل بچی ہے۔ جب کبھی مجھ سے مڈبھیڑ ہوتی ہے تو سینے پر دوپٹہ رکھ لیتی ہے۔ لیکن منٹو! بڑی وفادار عورت ہے۔ میں نے پوچھا۔

’’یہ تم نے کیسے جانا؟‘‘

نرائن مسکرایا۔

’’عورت، جو ایک بالکل اجنبی آدمی کو اپنی انگیا کا صحیح سائز بتا دے، دھوکے باز ہرگز نہیں ہوسکتی۔ ‘‘

عجیب و غریب منطق تھی۔ لیکن نرائن نے مجھے بڑی سنجیدگی سے یقین دلایا کہ جانکی بڑی پُر خلوص عورت ہے۔ اس نے کہا منٹو۔

’’تمہیں معلوم نہیں سعید کی کتنی خدمت کررہی ہے۔ ایسے انسان کی خبر گیری جو پرلے درجے کا بے پروا ہو آسان کام نہیں۔ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ جانکی اس مشکل کو بڑی آسانی سے نبھا رہی ہے۔ عورت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک پر خلوص اور ایماندار آیا بھی ہے۔ صبح اٹھ کر اس خرذات کو جگانے میں آدھ گھنٹہ صرف کرتی ہے۔ اس کے دانت صاف کراتی ہے، کپڑے پہناتی ہے، ناشتہ کراتی ہے اور رات کو جب وہ رم پی کر بستر پر لیٹتا ہے تو سب دروازے بند کرکے اس کے ساتھ لیٹ جاتی ہے اور جب اسٹوڈیو میں کسی سے ملتی ہے تو صرف سعید کی باتیں کرتی ہیں۔ سعید صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں۔ سعیدصاحب بہت اچھا گاتے ہیں۔ سعید صاحب کا وزن بڑھ گیا ہے۔ سعید صاحب کا پل اوور تیار ہو گیا ہے۔ سعید صاحب کے لیے پشاور سے پوٹھوہاری سینڈل منگوائی ہے۔ سعید صاحب کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہے۔ اسپرو لینے جارہی ہوں۔ سعید صاحب نے آج مجھ پر ایک شعر کہا۔ اور جب مجھ سے مڈبھیڑ ہوتی ہے تو انگیا والی بات یاد کرکے تیوری چڑھا لیتی ہے۔ ‘‘

میں تقریباً دس دن سعید اور نرائن کا مہمان رہا۔ اس دوران میں سعید نے جانکی کے متعلق مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ ان کا معاملہ کافی پرانا ہو چکا تھا۔ جانکی سے البتہ کافی باتیں ہوئیں۔ وہ سعید سے بہت خوش تھی لیکن اسے اس کی بے پروا طبعیت کا بہت گلہ تھا۔

’’سعادت صاحب! اپنی صحت کا بالکل ہی خیال نہیں رکھتے۔ بہت بے پرواہ ہیں۔ ہر وقت سوچنا، جو ہوا اس لیے کسی بات کا خیال ہی نہیں رہتا۔ آپ ہنسنے لگے، لیکن مجھے ہر روز ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ آپ سنڈاس گئے تھے یا نہیں۔ ‘‘

نرائن نے مجھ سے جو کچھ کہا تھا، ٹھیک نکلا۔ جانکی ہر وقت سعید کی خبر گیری میں منہمک رہتی تھی۔ میں دس دن اندھیری کے بنگلے میں رہا۔ ان دس دنوں میں جانکی کی بے لوث خدمت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ لیکن یہ خیال بار بار آتا رہا کہ عزیز کو کیا ہوا۔ جانکی کو اس کا بھی تو بہت خیال رہتا ہے۔ کیا سعید کو پا کروہ اس کو بھول چکی تھی۔ میں نے اس سوال کا جواب جانکی ہی سے پوچھ لیا ہوتا اگر میں کچھ دن اور وہاں ٹھہرتا۔ جس کمپنی سے میرا کنٹریکٹ ہونے والا تھا، اس کے مالک سے میری کسی بات پر چخ ہو گئی اور میں دماغی تکدر دُور کرنے کے لیے پونہ چلا گیا۔ دو ہی دن گزرے ہوں گے کہ بمبئی سے عزیز کا تار آیا کہ میں آرہا ہوں۔ پانچ چھ گھنٹے کے بعد وہ میرے پاس تھا۔ اور دوسرے روز صبح سویرے جانکی میرے کمرے پر دستک دے رہی تھی۔ عزیز اور جانکی جب ایک دوسرے سے ملے تو انھوں نے دیر سے بچھڑے ہُوئے عاشق معشوق کی سرگرمی ظاہر نہ کی۔ میرے اور عزیز کے تعلقات شروع سے بہت سنجیدہ اور متین رہے ہیں، شاید اسی وجہ سے وہ دونوں معتدل رہے۔ عزیز کا خیال تھا ہوٹل میں اُٹھ جائے لیکن میرا دوست جس کے یہاں میں ٹھہرا تھا آؤٹ ڈور شوٹنگ کے لیے کولہا پور گیا تھا، اس لیے میں نے عزیز اور جانکی کو اپنے پاس ہی رکھا۔ تین کمرے تھے۔ ایک میں جانکی سو سکتی تھی دوسرے میں عزیز۔ یوں تو مجھے ان دونوں کو ایک ہی کمرہ دینا چاہیے تھا لیکن عزیز سے میری اتنی بے تکلفی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اس نے جانکی سے اپنے تعلق کو مجھ پر ظاہر بھی نہیں کیا تھا۔ رات کو دونوں سینما دیکھنے چلے گئے۔ میں ساتھ نہ گیا، اس لیے کہ میں فلم کے لیے ایک نئی کہانی شروع کرنا چاہتا تھا۔ دو بجے تک میں جاگتا رہا۔ اس کے بعد سو گیا۔ ایک چابی میں نے عزیز کو دے دی تھی۔ اس لیے مجھے ان کی طرف سے اطمینان تھا۔ رات کو میں چاہے بہت دیر تک کام کروں، ساڑھے تین اور چار بجے کے درمیان ایک دفعہ ضرور جاگتا ہوں اور اٹھ کر پانی پیتا ہوں۔ حسب عادت اس رات کو بھی میں پانی پینے کے لیے اٹھا۔ اتفاق سے جو کمرہ میرا تھا، یعنی جس میں میں نے اپنا بستر جمایا ہوا تھا، عزیز کے پاس تھا اور اس میں میری صراحی پڑی تھی۔ اگر مجھے شدت کی پیاس نہ لگی ہوتی تو عزیز کو تکلیف نہ دیتا۔ لیکن زیادہ وسکی پینے کے باعث میرا حلق بالکل خشک ہورہا تھا، اس لیے مجھے دستک دینی پڑی۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔ جانکی نے آنکھیں ملتے ملتے دروازہ کھولا اور کہا

’’سعید صاحب!‘‘

اور جب مجھے دیکھا تو ایک ہلکی سی

’’اوہ‘‘

اس کے منہ سے نکل گئی۔ اندر کے پلنگ پر عزیز سو رہا تھا۔ میں بے اختیار مسکرایا۔ جانکی بھی مسکرائی اور اس کے تیکھے ہونٹ ایک کونے کی طرف سکڑ گئے۔ میں نے پانی کی صراحی لی اور چلا آیا۔ صبح اُٹھا تو کمرے میں دُھواں جمع تھا۔ باورچی خانے میں جا کر دیکھا تو جانکی کاغذ جلا جلا کر عزیز کے غسل کے لیے پانی گرم کررہی تھی۔ آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرائی اور انگیٹھی میں پھونکیں مارتی ہوئی کہنے لگی۔

’’عزیز صاحب ٹھنڈے پانی سے نہائیں تو انھیں زکام ہو جاتا ہے۔ میں نہیں تھی پشاور میں تو ایک مہینہ بیماررہے، اور رہتے بھی کیوں نہیں جب دوا پینی ہی چھوڑ دی تھی۔ آپ نے دیکھا نہیں کتنے دبلے ہو گئے ہیں۔ ‘‘

اور عزیز نہا دھو کر جب کسی کام کی غرض سے باہر گیا تو جانکی نے مجھ سے سعید کے نام تار لکھنے کے لیے کہا۔

’’مجھے کل یہاں پہنچتے ہی انھیں تار بھیجنا چاہیے تھا۔ کتنی غلطی ہوئی مجھ سے انھیں بہت تشویش ہورہی ہو گی۔ ‘‘

اس نے مجھ سے تار کا مضمون بنوایا جس میں اپنی بخیریت پہنچنے کی اطلاع تو تھی لیکن سعید کی خیریت دریافت کرنے کا اضطراب زیادہ تھا۔ انجکشن لگوانے کی تاکید بھی تھی۔ چار روز گزر گئے۔ سعید کو جانکی نے پانچ تار روانہ کیے پر اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ بمبئی جانے کا ارادہ کررہی تھی کہ اچانک شام کو عزیز کی طبیعت خراب ہو گئی۔ مجھ سے سعید کے نام ایک اور تار لکھوا کر وہ ساری رات عزیز کی تیمار داری میں مصروف رہی۔ معمولی بخار تھا لیکن جانکی کو بے حد تشویش تھی۔ میرا خیال ہے اس تشویش میں سعید کی خاموشی کا پیدا کردہ وہ اضطراب بھی شامل تھا۔ وہ مجھ سے اس دوران میں کئی بار کہہ چکی تھی۔

’’سعادت صاحب میرا خیال ہے سعید صاحب ضرور بیمار ہیں ورنہ وہ مجھے میرے تاروں اور خطوط کا جواب ضرورلکھتے۔ ‘‘

پانچویں روز شام کو عزیز کی موجودگی میں سعید کا تار آیا جس میں لکھا تھا میں بہت بیمار ہُوں فوراً چلی آؤ۔ تار آنے سے پہلے جانکی میری کسی بات پر بے تحاشا ہنس رہی تھی۔ لیکن جب اس نے سعید کی بیماری کی خبر سنی تو ایک دم خاموش ہو گئی۔ عزیز کو یہ خاموشی بہت ناگوار معلوم ہوئی کیونکہ جب اس نے جانکی کومخاطب کیا تو اس کے لہجے میں تیزی تھی۔ میں اُٹھ کرچلا گیا۔ شام کو جب واپس آیا تو جانکی اور عزیز کچھ اس طرح علیحدہ علیحدہ بیٹھے تھے جیسے ان میں کافی جھگڑا ہوا تھا۔ جانکی کے گالوں پر آنسوؤں کا میل تھا جب میں کمرے میں داخل ہوا تو ادھر ادھر کی باتوں کے بعد جانکی نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور عزیز سے کہا۔

’’میں جاتی ہُوں، لیکن بہت جلد واپس آجاؤں گی۔ ‘‘

پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔

’’سعادت صاحب ان کا خیال رکھیے، ابھی تک بخار دُور نہیں ہُوا۔ ‘‘

میں اسٹیشن تک اس کے ساتھ گیا۔ بلیک مارکیٹ سے ٹکٹ خرید کر اسے گاڑی پر بٹھایا اور گھر چلا آیا۔ عزیز کو ہلکا ہلکا بخار تھا۔ ہم دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے لیکن جانکی کا ذکر نہ آیا۔ تیسرے روز صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب مجھے باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ اس کے بعد جانکی کی۔ لفظوں کو اوپر تلے کرتی ہُوئی وہ عزیز سے پوچھ رہی تھی کہ اس کی طبیعت اب کیسی ہے اور کیا اس کی غیر موجودگی میں اس نے باقاعدہ دوا پی تھی یا نہیں۔ عزیز کی آواز میرے کانوں تک نہ پہنچی لیکن آدھ گھنٹے بعد جب کہ نیند سے میری آنکھیں مندرہی تھیں، عزیز کی خفگی آمیز باتوں کا دبا دبا شور سُنائی دیا۔ سمجھ میں تو کچھ نہ آیا لیکن اتنا پتہ چل گیا کہ وہ جانکی سے اپنی ناراضی کا اظہار کررہا تھا۔ صبح دس بجے عزیز نے ٹھنڈے پانی سے غسل کیا اور جانکی کا گرم کیا ہوا پانی ویسے ہی غسل خانے میں پڑا رہا۔ جب میں نے جانکی سے اس بات کا ذکر کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ نہا دھو کر عزیز باہر چلا گیا۔ جانکی کمرے میں پلنگ پر لیٹی رہی۔ سہ پہر کو تین بجے کے قریب جب میں اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ اسے بہت تیز بخار ہے۔ ڈاکٹر بلانے کے لیے باہر نکلا تو عزیز تانگے میں اسباب رکھوا رہا تھا۔ میں نے پوچھا۔ کہا جارہے ہو۔ تو اس نے میرے ساتھ ہاتھ ملایااور کہا، بمبئی! انشاء اللہ پھر ملاقات ہو گی۔ یہ کہہ کروہ اکے میں بیٹھا اور چلا گیا۔ مجھے یہ بتانے کا موقع ہی نہ ملا کہ جانکی کو بہت تیز بخار ہے۔ ڈاکٹر نے جانکی کو اچھی طرح دیکھا اور مجھے بتایا کہ اسے برونکائٹس ہے، اگر احتیاط نہ برتی تو نمونیا ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈ اکٹر نسخہ دے کر چلا گیا تو جانکی نے عزیز کے بارے میں پوچھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ اسے نہ بتاؤں لیکن چھپانے سے کوئی فائدہ نہیں تھا، اس لیے میں نے کہہ دیا کہ چلا گیا ہے۔ یہ سُن کر اسے بہت صدمہ ہوا۔ دیر تک وہ تکیے میں سر دے کر روتی رہی۔ دوسرے روز صبح گیارہ بجے کے قریب جب کہ جانکی کا بخار ایک ڈگری ہلکا تھا اور طبیعت بھی کسی قدر درست تھی، بمبئی سے سعید کا تار آیا جس میں بڑے درشت لفظوں میں لکھا تھا

’’یاد رہے کہ تم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ ‘‘

میں بہت منع کرتا رہا لیکن وہ تیز بخار ہی میں پونہ ایکسپریس سے بمبئی روانہ ہو گئی۔ پانچ چھ دنوں کے بعد نرائن کا تار آیا

’’ایک ضروری کام ہے، فوراً بمبئی چلے آؤ۔ ‘‘

میرا خیال تھا کہ کسی پروڈیوسر سے اس نے میرے کنٹریکٹ کی بات کی ہو گی، لیکن بمبئی پہنچ کر معلوم ہوا کہ جانکی کی حالت بہت نازک ہے۔ برونکائٹس بگڑ کر نمونیا میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ جب وہ پونہ سے بمبئی پہنچی تھی تو اندھیری جانے کے لیے چلتی ٹرین میں چڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے گر پڑی تھی جس کے باعث اس کی دونوں رانیں بہت بری طرح چھل گئی تھیں۔ جانکی نے اس جسمانی تکلیف کو بڑی بہادری سے برداشت کیا۔ لیکن جب وہ اندھیری پہنچی اور سعید نے اس کے بندھے ہوئے اسباب کی طرف اشارہ کرکے کہا

’’مہربانی کرکے یہاں سے چلو جاؤ‘‘

تو اسے بہت روحانی تکلیف ہوئی۔ نرائن نے مجھے بتایا!

’’سعید کے منہ سے یہ برف جیسے ٹھنڈے لفظ سن کر وہ ایک لحظے کے لیے بالکل پتھر ہو گئی میرا خیال ہے اس نے تھوڑی دیر کے بعد یہ ضرور سوچا ہو گا میں گاڑی کے نیچے آکر کیوں نہ مر گئی۔ سعادت تم کچھ بھی کہو مگر سعید عورتوں سے جیسا سلوک کرتا ہے بہت ہی نامردانہ ہے۔ بے چاری کو بخار تھا۔ چلتی ریل سے گر پڑی تھی اور وہ بھی اس خر ذات کے پاس جلدی پہنچنے کے باعث۔ لیکن اس نے ان باتوں کا خیال ہی نہ کیا اور ایک بار پھر اس سے کہا۔ مہربانی کرکے یہاں سے چلی جاؤ۔ اس کے لہجے میں منٹو کسی جذبے کا اظہار نہیں تھا۔ بس ایسا تھا جیسے لنوٹائپ مشین سے اخبار کی ایک سطر ڈھل کر باہر نکل آئے۔ مجھے بہت دکھ ہوا، چنانچہ میں وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ شام کو جب واپس آیا تو جانکی موجود نہیں تھی لیکن سعید پلنگ پر بیٹھا، رم کا گلاس سامنے رکھے ایک نظم لکھنے میں مصروف تھا۔ میں نے اس سے کوئی بات نہ کی اور اپنے کمرے میں چلا گیا دوسرے روز اسٹوڈیو سے معلوم ہوا کہ جانکی ایک اکسٹرا لڑکی کے گھر خطرناک حالت میں پڑی ہے۔ میں نے اسٹوڈیو کے مالک سے بات کی اور اسے ہسپتال بھجوا دیا۔ کل سے وہیں ہے، بتاؤ اب کیا کیا جائے۔ میں تو اسے دیکھنے جا نہیں سکتا اس لیے کہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔ تم جاؤ اور دیکھ کر آؤ کس حالت میں ہے۔ میں ہسپتال گیا تو اس نے سب سے پہلے عزیز اور سعید کے متعلق پوچھا۔ جو سلوک ان دونوں نے اس کے ساتھ کیا تھا، اس کے بعد اس کے پرخلوص استفسار نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس کی حالت نازک تھی۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ دونوں پھیپھڑوں پر ورم ہے اور جان کا خطرہ ہے لیکن مجھے حیرت ہے کہ جانکی اتنی بڑی تکلیف مردانہ وار برداشت کررہی تھی۔ ہسپتال سے لوٹا اور اسٹوڈیو میں نرائن کو تلاش کیا تو معلوم ہوا وہ صبح ہی سے غائب ہے۔ شام کو جب وہ گھر واپس آیا تو اس نے مجھے تین چھوٹی چھوٹی شیشیاں دکھائیں جن کا منہ ربڑ سے بند تھا۔

’’جانتے ہو یہ کیا ہے؟‘‘

میں نے کہا۔

’’معلوم نہیں۔ انجکشن سے لگتے ہیں۔ ‘‘

نرائن مسکرایا۔

’’انجکشن ہی ہیں لیکن پنسلین کے۔ ‘‘

مجھے سخت حیرت ہوئی کیونکہ پنسلین اس وقت بہت ہی قلیل مقدار میں تیار ہوتی تھی۔ امریکہ اور انگلستان میں جتنی بنتی ہے، تھوڑی تھوڑی ملٹری ہسپتالوں میں تقسیم کردی جاتی تھی۔ چنانچہ میں نے نرائن سے پوچھا۔

’’یہ تو بالکل نایاب چیز ہے، تمہیں کیسے مل گئی؟‘‘

اس نے مسکرا کر جواب دیا۔

’’بچپن میں گھر کی تجوری کھول کر روپے چرانا میرے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ آج دائیں ہاتھ سے ملٹری ہوسپٹل کا ریفریجریٹر کھول کر میں نے یہ تین بلب چرائے ہیں۔ چلو جلدی کرو جانکی کو ہسپتال سے ہوٹل میں لے چلیں۔ ‘‘

ٹیکسی لے کر میں ہسپتال گیا اور جانکی کو اس ہوٹل میں لے گیا جس میں نرائن دو کمروں کا پہلے ہی بندوبست کر چکا تھا۔ جانکی نے مجھ سے کئی بار نحیف آواز میں پوچھا کہ میں اسے ہوٹل میں کیوں لایا ہوں۔ ہر بار میں نے یہی جواب دیا۔

’’تمہیں معلوم ہو جائے گا۔ ‘‘

اور جب اسے معلوم ہوا۔ یعنی جب نرائن سرنج ہاتھ میں لیے اسے ٹیکہ لگانے کے لیے اس کمرے میں آیا تو نفرت سے ایک طرف اس نے منہ پھیر لیا اور مجھ سے کہا۔

’’سعادت صاحب اس سے کہئے چلا جائے یہاں سے۔ ‘‘

نرائن مسکرایا۔

’’جانِ من غصّہ تھوک دو۔ یہاں تمہاری جان کا سوال ہے۔ ‘‘

جانکی کو طیش آگیا۔ نقاہت کے باوجود اٹھ کر بیٹھ گئی۔

’’سعادت صاحب! میں جاتی ہوں یہاں سے یا آپ اس حرام خور کو نکالیے باہر۔ ‘‘

نرائن نے دھکا دے کر اسے الٹا دیا اور مسکراتے ہوئے کہا۔

’’یہ حرام زادہ تمہیں انجکشن لگا کر ہی رہے گا۔ خبردار جو تم نے مزاحمت کی۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے ایک ہاتھ سے مضبوطی کے ساتھ جانکی کا بازو پکڑا، سرنج مجھے دے کر اس نے اسپرٹ میں روئی بھگوئی اور اس کا ڈنڑ صاف کیا۔ اس کے بعد روئی مجھے دے کر اس نے سرنج کی سوئی اس کے بازو کی مچھلی میں داخل کردی وہ چیخی، لیکن پنسلین اس کے جسم میں جا چکی تھی۔ جب نرائن نے جانکی کا بازو اپنی مضبوط گرفت سے علیحدہ کیا تو اس نے رونا شروع کردیا۔ نرائن نے اس کی بالکل پروا نہ کی اور اسپرٹ لگی روئی سے انجکشن والا حصّہ پونچھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ پہلا انجکشن رات کے نو بجے دیا تھا۔ دوسرا تین گھنٹے بعد دینا تھا۔ نرائن نے مجھے بتایا اگر تین کے ساڑھے تین گھنٹے ہو گئے تو پنسلین کا اثر بالکل زائل ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ جاگتا رہا تقریباً ساڑھے گیارہ بجے اس نے اسٹوو جلایا، سرنج ابالی اور اس میں دوا بھری۔ جانکی خرخراہٹ بھرے سانس لے رہی تھی۔ آنکھیں بند تھیں۔ نرائن نے دوسرے بازو کو اسپرٹ سے صاف کیا اورسرنج کی سوئی اندرکھبو دی۔ جانکی کے ہونٹوں سے پتلی سی چیخ نکلی۔ نرائن نے دوا جسم کے اندر بھیج کر سوئی باہر نکالی اور اسپرٹ سے انجکشن والی جگہ صاف کرتے ہوئے مجھ سے کہا۔

’’اب تیسرا تین بجے۔ ‘‘

مجھے معلوم نہیں اس نے تیسرا چوتھا انجکشن کب دیا۔ لیکن جب بیدار ہوا تو اسٹوو جلنے کی آواز آرہی تھی اور نرائن ہوٹل کے بیرے سے برف کے لیے کہہ رہا تھا کیونکہ اسے پنسلین کو ٹھنڈا رکھنا تھا۔ نو بجے پانچواں انجکشن دینے کے لیے جب ہم دونوں جانکی کے کمرے میں گئے تو وہ آنکھیں کھولے لیٹی تھی۔ اس نے نفرت بھری نگاہوں سے نرائن کی دیکھا لیکن منہ سے کچھ نہ کہا۔ نرائن مسکرایا۔

’’کیوں جان من! کیا حال ہے؟‘‘

جانکی خاموش رہی۔ نرائن اس کے پاس کھڑا ہو گیا۔

’’یہ انجکشن جو میں تمہیں دے رہا ہوں عشق کے انجکشن نہیں۔ تمہارا نمونیہ دُور کرنے کے انجکشن ہیں جو میں نے ملٹری ہوسپٹل سے بڑی صفائی کے ساتھ چرائے ہیں۔ لو، اب ذرا الٹی لیٹ جاؤ اور کولہے پر سے شلوار کو ذرا نیچے کھسکا دو۔ کبھی لیا ہے یہاں انجکشن؟‘‘

یہ کہہ کر اس نے جانکی کے کولہے پر ایک جگہ گوشت کے اندر انگلی کھبوئی جانکی کی آنکھوں میں مرعوب سی نفرت پیدا ہُوئی۔ جب اس نے کروٹ بدلی تو نرائن نے کہا۔

’’شاباش!‘‘

پیشتر اس کے کہ جانکی کوئی مزاحمت کرے نرائن نے ایک ہاتھ سے اس کی شلوار نیچے کھسکائی اور مجھ سے کہا۔

’’اسپرٹ لگاؤ!‘‘

جانکی نے ٹانگیں چلانا شروع کیں تو نرائن نے کہا۔

’’جانکی! ٹانگیں وانگیں مت چلاؤ۔ میں انجکشن لگاکے رہوں گا۔ ‘‘

غرض کہ پانچواں انجکشن دے دیا گیا۔ پندرہ اور باقی تھے جو نرائن کو ہر تین گھنٹے کے بعد دینے تھے اور یہ پینتالیس گھنٹے کا کام تھا۔ پانچ انجکشن سے گو جانکی کو بظاہر کوئی نمایاں فائدہ نہیں پہنچا تھا۔ لیکن نرائن کو پنسلین کے اعجاز کا یقین تھا اور اسے پوری پوری امید تھی کہ وہ بچ جائے گی۔ ہم دونوں بہت دیر تک اس نئی دوا کے متعلق باتیں کرتے رہے۔ گیارہ بجے کے قریب نرائن کا نوکر میرے نام ایک تار لے کر آیا۔ پونہ سے تھا۔ ایک فلم کمپنی نے مجھے فوراً بلایا تھا اس لیے مجھے جانا پڑا۔ دس پندرہ دنوں کے بعد کمپنی ہی کے کام سے میں بمبئی آیا۔ کام ختم کرکے جب میں اندھیری پہنچا تو سعید سے معلوم ہوا کہ نرائن ابھی تک ہوٹل ہی میں ہے۔ ہوٹل بہت دور، شہر میں تھا اس لیے رات میں وہیں اندھیری میں رہا۔ صبح آٹھ بجے وہاں پہنچا تو نرائن کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ اندر داخل ہوا تو کمرہ خالی پایا۔ دوسرے کمرے کا دروازہ کھولا تو ایک دم آنکھوں کے سامنے کچھ ہوا۔ جانکی مجھے دیکھتے ہی لحاف کے اندر گھس گئی۔ اور نرائن جو اس کے ساتھ لیٹا تھا، مجھے واپس جاتے دیکھ کر کہا۔

’’آؤ منٹو آؤ۔ میں ہمیشہ دروازہ بند کرنا بھول جاتا ہوں۔ آؤ یار۔ بیٹھو اس کرسی پر، لیکن یہ جانکی کی شلوار دے دینا!‘‘

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s