جس نے مجھے توڑا وہ میرا دوست تھا

تحریر……… نامعلوم

میں 29 سال کی لڑکی ہوں اور کراچی سے میرا تعلق ہے۔ میں گوری رنگت والی براون آنکھوں اور طویل قد اور اوسط جسمانی ساخت کی لڑکی ہوں۔ یہ خصوصیات اس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب میں بتاتی ہوں کہ میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ہوں۔ اور طلاق کا پہلا قدم بھی میں نے ہی اٹھایا تھا۔ آپ نے پہلے دو جملے پڑ ھ کر سوچا ہو گا : اوہ ایک اور پوسٹ جس میں فیمنزم کا تذکرہ اور ہے مردوں کی برائیاں، وغیرہ وغیرہ۔

120.jpeg

البتہ، کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی جس کی وجہ سے میں نے اپنے سابقہ خاوند سے علیحدگی اختیار کی ہو۔ ہم دونوں کے بیچ جذباتی مطابقت موجود نہیں تھی۔ بس یہی چیز ہماری علیحدگی کی وجہ بنی۔ وہاں کوئی دوسری عورت نہیں تھی، کوئی محبت کی کہانی نہیں تھی، نہ ہی کوئی خوفناک ساس تھی اور نہ ہی میرا خاوند ہم جنس پرست تھا۔ کئی خاص چیز نہیں تھی۔ میں ایک ورکنگ وومین تھی اور میرا خاوند چاہتا تھا کہ میں گھر بیٹھ کر اس کے لیے اچھے اچھے کھانے بنا کر پیش کروں۔

میری شادی اپنے فرسٹ کزن سے ہوئی جو ڈھائی سال تک رہی۔ اس سے قبل ہم ایک دوسرے سے زیادہ ملے بھی نہیں تھے کیونکہ وہ امریکہ میں رہتا تھا اور بہت کم اپنے ملک واپس آتا تھا۔ بالی وڈ کی طرح بدلتی قسمت کے ساتھ ہم ایک دوسرے کو اس وقت جان پائے جب وہ صرف ایک شادی کی تقریب کے لیے کراچی آیا تھا۔ محبت اور عشق کی وجہ سے یہ بات اچنبھے والی نہیں تھی کہ ہم ایک دوسرے کو اپنا زندگی کا ساتھی سمجھنے لگے۔ وہ ایک لمبے قد کا خوبصورت نوجوان تھا ۔ اس کی مسکراہٹ بہت ہی خوبصورت تھی۔کسی بھی وجہ سے اسے بھی میں بہت خوبصورت نظر آنے لگی۔

ایک عجیب و غریب گفتگو کے ذریعے ہم نے ایک دوسرے کے لیے محبت کا اظہار کیا اور شادی کی خواہش ظاہر کی۔دونوں پارٹیوں کے والدین نے دیکھا کہ محبت جاگ اٹھی ہے اس لیے رشتہ داری قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی محبت اور عشق کا بھوت اتر گیا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمارے جھگڑے ہونے لگے۔میں غیر ملک میں اکیلی تھی ، نہ میرا کوئی دوست تھا اور نہ خاندان۔ میں وہاں دیسی آنٹیوں کے بیچ پھنسی ہوئی تھی۔ صرف یہی نہیں ، ہم ایک دوسرے کے ساتھ تیزی سے اختلاف کرنے لگے تھے۔ کبھی کبھار، کئی ہفتے گزر جاتے اور ہم ایک دوسرے سے بات تک نہ کرتے۔

آخر کار ہم نے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔ امن کے ساتھ علیحدگی کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے بچے نہیں تھے اور کسی قسم کی مالی اور جائیداد کی تقسیم کا مسئلہ بھی نہیں تھا۔ میں 2015 میں واپس کراچی آئی تو میں بہت تکلیف میں تھی۔ میرے جسم کا انگ انگ درد میں ڈوبا ہوا تھا اور لوگوں سے گلے ملنا بھی مشکل تھا۔میرے پاس جو بھی تھا میں نے اٹھایا۔ اس وقت میں جوان تھی ، بچے بھی نہیں تھے، اور نہ ہی میرے اوپر کوئی مالی ذمہ داریاں بھی نہیں تھیں۔ شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ کیا میں اپنی زندگی بدل سکتی تھی؟ یہ سوچ سب سے بڑی غلطی تھی۔

852364.jpg

مجھے بار بار یہ یاد کروایا جاتا رہا کہ میں اپنے ستاروں کا شکریہ ادا کروں کہ مجھے واپس گھر رہنے کی اجازت مل گئی ۔ جس طرح میری زندگی تباہ ہوئی، اب مجھے حالات سے سمجھوتا کر کے دوسری شادی کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لینا چاہیے۔ ابتدائی طور پر میں نے اپنی آنکھیں ملیں اور معاشرے کی بے عزتی کو نظر انداز کرنا شروع کیا۔ لیکن کبھی کبھار میرے اوپر جذبات غالب آ جاتے اور میں رات بھر آنسو بھاتے ہوئے گزارتی۔

سوشو اکنامک پوزیشن نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں ایک اچھی جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ الحمد للہ میں نے دو سال کا کام ایک سال میں کر کے اپنے کمپنی مالکان کو متاثر کیا اور اب میں اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ پیسے کما رہی ہوں۔ اگر میرے پاس یہ نوکری نہ بھی ہوتی اور میرا پلیٹنم کارڈ بھی میرے ساتھ نہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو کھو دیتی۔ میری ایک دوست لڑکی کے ساتھ اس سے بھی برا واقعہ پیش آیا۔ اسے مالی،جسمانی، جذباتی اور کام کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ وہ بیرون ملک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے گئی اور وہاں اسے اپنے خوابوں کا شہزادہ مل گیا۔

میں اس کے انسٹا گرام تصاویر اور اپ ڈیٹس پر حسد سے نظر رکھتی ہوں اور فیمنزم اور دیسی طلاق یافتہ لڑکیوں کی فتح کا جشن مناتی ہوں۔ لیکن ایک خوفناک آواز ہر وقت میرے کانوں میں بجتی سنائی دیتی ہے: یہ ٹھیک نہیں ہے، اتنے زیادہ لوگوں میں صرف میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ “سب سے بڑی غلط فہمی یہ تھی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ میری زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ دور ہو چکی ہے۔ لیکن اندازہ لگائیں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔میری بہتر کلاس کے باوجود میری زندگی میں کچھ نا خوشگوار واقعات ہوئے اور کچھ لڑکوں کو لگا کہ وہ مجھے باسانی اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہیں لگتا تھا کہ میرے پاس اب کھونے کےلیے تو کچھ ہے نہیں اس لیے میں ان کا نشانہ بن سکتی ہوں۔

میں یہ بتانے میں بھی بہت شرمندگی محسوس کر رہی ہوں کہ جس نے مجھے توڑا وہ میرا ایک دوست تھا جس نے مجھ سے شادی کی امید ظاہر کی اور درخواست کی کہ میں اسے اتنا وقت دوں کہ وہ اپنے مالی مسائل سے چھٹکارا پا سکے۔ مجھے حقیقت کا زور دار طمانچہ اس وقت پڑا جب اس کی ماں جسے 2 بار طلاق ہو چکی تھی اور جس کی بیٹی بھی طلاق یافتہ تھی نے اپنے بیٹے کو کہا کہ وہ ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کر کے اپنی زندگی برباد مت کرے۔ چونکہ وہ لڑکا ممی ڈیڈی ٹائپ کا تھا اس لیے وہ بنا بتائے ہی غائب ہو گیا۔

اب اندازہ لگائیں کہ یہ طلاق یافتہ لڑکی اس وقت ڈوبتے سورج کے سامنے رائیڈنگ کرنے پر مجبور نہیں ہے۔ میں اپنے مخالف قوتوں سے ہر وقت لڑ رہی ہوں۔ یقین اور اعتماد کے علاوہ جو چیز میری سب سے بڑی مددگار ثابت ہو رہی ہے وہ میری اپنی کمائی ہے۔ اب میرے والدین مجھے بوجھ نہیں سمجھتے، میں اپنی تعلیم اپنے بل بوتے پر جاری رکھ سکتی ہوں، اور تھیراپسٹ کی فیس بھی خود ادا کرتی ہوں۔ مجھے ہر روز سٹریس اور بے چینی کی دوائی لینا ہوتی ہے جو شاید زندگی بھر جاری رہے گی۔ جب میں بہت سی دوسری لڑکیوں کے بارے میں سوچتی ہوں جن کے پاس مالی اور دوسرے ذرائع نہیں ہوتے تو میں کانپ جاتی ہوں۔

اس لیے میرے بھائیو اور بہنو، دیسی پانی کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایک طلاق شدہ لڑکی کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چیز ہے گولڈن ٹکٹ، اور اگر یہ نہ ہو تو کم از کم پلیٹنم کریڈٹ کارڈ ضرور ہونا چاہیے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s