عمران ، سیتا وائٹ اور ٹیریان کی مکمل کہانی .قسط نمبر4

Image result for vanity fair story on imran khan and sita white

یہ فیچر دینا کے معروف میگزین “وینٹی فیئر، نیویارکِ میں شائع ہوا ہےجس کی صداقت کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ آج تک عمران خان نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا-دلچسپ امر یہ ہے کہ سنا ہے جمائما بھی آج کل اسی میگزین کے ساتھ وابستہ ہیں- سیتا وائٹ اور عمران خان کی یہ مکمل سٹوری اسی میگزین سے ترجمہ کی گئی ہے ، قارئین کے لیے پیش خدمت ہے- ہماری کوشش ہے کہ آپ کو روز اس کی ایک قسط پڑھنے کو مل سکے- شکریہ (ادارہ دنیا پاکستان) بشکریہ وینیٹی فیئر میگزین -نیویارک


قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

سیتا نے دوسرا خط عمران خان اوراس کی9برس پرانی بیوی ، برطانوی ارب پتی، جمیما گولڈ سمِتھ کو لکھا۔ (22جون کو یہ اعلان ہوا تھا کہ ان دونوں میں طلاق ہو گئی تھی۔) عمران دو باتوں کیلئے مشہور ہے: اپنی تابناک شکل و صورت کیلئے اور 1992ء میں پاکستان کو کرکٹ کا ورلد کپ جتانے کیلئے۔وہ ایک انجینئر کا بیٹا ہے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے۔1995ء میں، انگریز معاشرے کی حسیناؤں کی ایک قطار سے عشق کر چکنے کے بعد، عمران جمیما سے ملا۔ جمیما ارب پتی سرمایہ دار سر جیمز گولڈ سمتھ اور لیڈی اینابل وین ٹمپسٹ سٹیوارٹ کی بیٹی تھی۔ عمران کی عمر 42برس جبکہ جمیماکی عمر 21برس تھی۔
وہ دونوں ملتے ہی ایک دوسرے کی محبت میں مبتلاء ہو گئے اور چند ہی ماہ میں انہوں نے شادی کرلی۔
شادی کے بعد جمیمامسلمان ہو گئی اور وہ دونوں پاکستان آگئے۔ یہاں عمران نے اپنی سیاسی جماعت بنا لی۔2002ء میں وہ پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہو گیا۔ لیکن اس کی جماعت نے نہ ہونے کے برابر اثرورسوخ حاصل کیا۔ ان دونوں کے دو بیٹے ہوئے۔ سلیمان کی عمر اب 7برس جبکہ قاسم کی عمر اب 5برس ہے۔
غیرقانونی اولادکو پاکستان میں بہت برا بھلا کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عمران نے سر عام یہ کبھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ ٹیرن کا باپ ہے۔

1997ء میں سیتا نے ٹیرن کی ولدیت سے متعلق ایک اپیل دائر کی اور کیلی فورنیا کے ایک منصف نے عمران خان کو اس کا حقیقی باپ قرار دے دیا۔تاہم عمران یہ مقدمہ لڑنے کیلئے وہاں نہ آیا۔
سیتا کی جانب سے خان کو لکھا جا نے والا خط کچھ یوں تھا:
’’پیارے عمران اور جمیما، میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ ٹیرن کے مستقبل پر بات کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ میں یہ واضح کردینا چاہتی ہوں کہ میں خود کو تم دونوں کی زندگیوں سے نکال چکی ہوں۔ لہٰذا یہ خط میرے متعلق نہیں ہے۔ یہ کسی غصے یا بدلے کے متعلق بھی نہیں ہے۔ یہ صرف انصاف کے متعلق ہے۔ ٹیرن کیلئے انصاف کے متعلق۔
جیساکہ، ماضی میں ہم کسی معاہدے پر پہنچنے کے قابل نہیں ہو سکے، میں گزشتہ 11 سال سے تنہاء ٹیرن کی جذباتی اورمالی پرورش کی ذمہ داری لئے ہوئے ہوں۔
تمہیں ایک طویل عرصہ قبل، اپنے فرض اور ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے تھا۔
میری یہ تجویز، اس مسئلے کو کسی قانونی چارہ جوئی کے بغیر ختم کرنے کی آخری پیشکش ہے کہ ٹیرن کیلئے 10ملین ڈالر کا ایک ٹرسٹ قائم کر دیا جانا چاہئے۔۔۔۔اس پیشکش سے انکار ناقابل قبول ہو گا۔۔۔۔‘‘

Image result for imran and jemima

’’میں پاکستان میں ایک وکیل اور کچھ بااثر لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ یہ سب لوگ تمہارے درست کام کرنے پرتیار نہ ہونے کے سبب خاصے پریشان ہیں۔وہ تم سے ٹیرن کے وجوداور تمہاری ان مالی ذمہ داریوں کا اعتراف کروانے کیلئے متعلقہ حکام اور اداروں کو مطلع کرنے کے معاملے میں میرے ساتھ کھرے ہیں تاکہ وہ تمہارے خلاف ضروری اقدام اٹھائیں۔ میرے یہ سب کچھ کرنے کے سیاسی نتائج بہت بڑے ہوں گی۔
میں تم سے درخواست کرتی ہوں کہ 7روز تک مجھے اس بارے میں اپنے رد عمل سے مطلع کرو۔ اگر تم نے مجھے جواب نہ دیا اور میری شرائط سے اتفاق نہ کیا تو پھر پاکستانی اور برطانوی میڈیا میں آنے والا طوفان اس قدر شدید ہو گا کہ شاید اسے میں بھی نہیں روک سکوں گی۔‘‘
ششدر رہ جانے والے ایہرلِک نے سیتا کو بہت سمجھایا کہ وہ یہ خطوط نہ بھیجے (جو اس نے کبھی نہ کیا) اور اگر وہ ایساسیکسبیزکے کہنے پر کر رہی ہے تو پھر وہ ان سے خبردار رہے۔
نکسن کا کہنا ہے کہ سیتا نے اپنے منصوبوں سے متعلق وکٹوریہ کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ نکسن کہتا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس عجیب و غریب منصوبے میں کیمرون سیکسبیز واحد آدمی تھاجو اس کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔

اس موسم سرما میں، سیتا نے دو چیک بنائے جن کی مالیت تقریباً2.4ملین ڈالرتھی۔اس کا دعویٰ تھا کہ اسے بتایا گیا تھا کہ اس رقم کو انویسٹ کیا جائے گا اور یہ 5برس میں دوگنا ہو جائے گی۔15اپریل کو ٹام کوربلی وفات پا گیا۔سیتا اور کیمرون نیویارک چلے گئے۔جہاں سیتا نے کوربلی کی آخری رسومات میں شرکت کی۔سیتا کے مطابق، اس سفر کے دوران، کیمرون نے اسے کہا تھا کہ اگر اسے اس پر یقین نہیں ہے تو وہ اس سے ان کے بدلے میں بلینک چیکس لے لے۔
کیمرون نے بعد میں سیتا سے2500ڈالرکا ایک اور چیک بنوایاجو، سیتا نے بتایا کہ اس کے سفر خرچ کیلئے تھے۔ سیتا نے دعویٰ کیا کہ وہ گھبرا گئی تھی۔ تاہم وہ پہلے بھی ایسی سب باتوں کو چھپاتی رہی تھی۔ٹام کی آخری رسومات میں، سیتا اپنے باپ کی ایک پرانے دوست، نینسی برِٹزفیلڈسے ٹکرا گئی۔دی نیو یارک ٹائمز نے اس ملاقات کو ’’جنوبی کیلیفورنیا کے سماجی منظرکا اختتام‘‘ قرار دیا ہے۔آخری رسومات کے بعد، جب سیتا اوربرٹزفیلڈکھانا کھا رہی تھیں، اس وقت سیتا اس کو بتا رہی تھی کہ وہ سیکسبیز کے متعلق شکوک میں مبتلا ہونے لگی ہے۔برٹزفیلڈ نے سیتا کوبتایا کہ وہ فوری طور پر اپنے وکیل سے ملے۔
برٹزفیلڈ ماضی میں جھانکتے ہوئے کہتی ہے ،’’میں نے اس سے پوچھاکہ سیتا،تم یہ کس طرح کر سکتی تھی، تم نے اپنے پیسے کسی ایسے کام میں کیسے لگا دئیے ہیں جس کے متعلق تم کچھ جانتی ہی نہیں ہو؟‘‘اس پر سیتا نے محض اس بوڑھی عورت کی جانب بے چارگی سے دیکھا اور بس۔دولت کبھی اس کا قلعہ ثابت نہ ہوئی۔ کبھی اس کی حفاطت نہ کر سکی۔

Image result for sitta white and imran khan

سیتا کے بقول، جب نکسن نے اسے کہا کہ سیکسبیز سے کہے کہ وہ اسے اس کی سرمایہ کاری کی دستاویزات مہیا کرے تو وہ بیورلے ہلز میں سیکسبیز کے رام شیکل والے کرائے کے بنگلے میں گئی۔وہاں رچرڈ نے اس سے دو دستاویزات پر دستخط کروائے، جن کے متعلق اس نے کہا کہ یہ ایک جائیداد، جسے زیکی فارمز کہا جاتا ہے میں اس کی سرمایہ کاری کے ثبوت تھے۔جب وہ ان دستاویزات کو 4مئی کو نکسن کے پاس لے کر گئی تو وکیل نے ان دستاویزات کو ایک اقرار نامے اور ایک ہرجانے کے طور پر شناخت کیا۔
نکسن نے اسے بتایا کہ سیکسبیز نے اس کی رقم کہیں انویسٹ نہیں کی، انہوں نے یہ رقم ادھار لی ہے۔اور یہ کہ وہ اس کے عوض ہر ماہ 20417.67ڈالر ، بطور قرض پر سود وصول کرے گی۔
اس سہ پہر، نکسن اور سیتا سینچری شہر میں واقع بینک آف امریکہ گئے۔ جہاں سیتا کے دو اکاؤنٹ تھے، جنہیں اس نے بند کروا دیا۔ اگلی صبح، 9بجے، وہ سینچری شہر ہی میں واقع پریفرڈ بینک کی ایک برانچ میں گئے، جہاں سیکسبیز کا اکاؤنٹ تھا۔سیتا اور نکسن، وہاں موجود سیکسبیز کے فنڈز کو 3روز کیلئے منجمد کروانے میں کامیاب ہو گئے۔
ایک اعلیٰ سطح کے مالیاتی مشیر، رابرٹ او برائن، جسے سیتا نے ہائر کیا، نے اس کا کیس لڑا۔اس نے عدالت سے ایک حکم حاصل کر لیا جس میں سیکسبیز کو منع کر دیا گیا کہ وہ اپنے اکاؤنٹ سے نہ تو کوئی رقم نکال سکیں گے اور نہ ہی ٹرانسفر کر سکیں گے )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s