سچی محبت کی لازوال داستاں،، محبت کا تعلق یادداشت جسم اوردماغ سے نہیں ہوتا‘ یہ دل میں پیدا ہوتی ہے اور دل کی آخری دھڑکن تک قائم رہتی ہے

میں بتاتا ہوں سچی محبت کیا ہوتی ہے!۔ ڈاکٹر نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اورکافی کے مگ سے کھیلنے لگا ۔ہم غور سے اس کی بات سننے لگے۔ وہ گویا ہوا کہ ”میں ایک دن کلینک میں بیٹھاتھا . یہ صبح کے ساڑھے سات بجے کا وقت تھا . ایک بوڑھامریض بھاگتا ہوا کلینک میں داخل ہوا. اس کے ماتھے پر پسینہ تھا . سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی اور وہ باربار دل پر ہاتھ رکھتا تھا . میراسٹاف تیزی سے اس کی طرف بڑھا ۔بوڑھے کی عمر اسی برس سے زائد تھی لیکن وہ اس کے باوجود چلنےپھرنے کی پوزیشن میں تھا ۔وہ نرس اور وارڈ بوائے سے بحث کرنے لگا‘‘۔ میں دفتر کے شیشے سے انہیں الجھتے ہوئے دیکھنے لگا‘ ذرا دیر بعد وارڈ بوائے میرے پاس آ گیا ۔میں اس وقت اخبار پڑھ رہا تھا . میں نے اخبار ایک طرف رکھا اور استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔ وارڈ بوائے نے بتایا بابا جی کے انگوٹھے پرچوٹ لگی تھی‘ ہم نے تین ہفتے پہلے ان کے ٹانکے لگا دیے تھے ۔وہ ٹانکے کھلوانے آئے ہیں ۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور وارڈ بوائے سے کہا کہ بابا جی سے کہو میں آٹھ بجے کام شروع کروں گا وہ آدھ گھنٹہ انتظار کر لیں میں سب سے پہلے ان کے ٹانکے کھولوں گا۔ وارڈ بوائے گیا اور فوراً واپس آ گیا میں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا وہ گھبرا کر بولا بابا جی کو بہت جلدی ہے انہوں نے آٹھ بجے کہیں پہنچنا ہے وہ ہماری منت کر رہے ہیں ۔

مجھے بابا جی اور وارڈ بوائے دونوں پرغصہ آ گیا میں نے اخبار میز پر پٹخا اور شیشے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا بابا جی دروازے کے بالکل سامنے کھڑے تھے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ باربار گھڑی کی طرف دیکھ رہے تھے۔میں نے انہیں ڈانٹنے کی کوشش کی لیکن پھر ان کی حالت دیکھ کر ضبط کر گیا میں نے انہیں بتایا کہ کلینک کا وقت آٹھ بجے شروع ہوتا ہے میں صرف اخبار پڑھنے کیلئے آدھ گھنٹہ پہلے آ جاتا ہوں آپ اطمینان سے بیٹھ جائیں جوں ہی آٹھ بجیں گے میں سب سے پہلے آپ کودیکھوں گا ۔

بابا جی نے گھڑی کی طرف دیکھا اور لجاجت بھری آواز میں بولے ‘ بیٹا جی! میں نے آٹھ بجے دوسرے ہسپتال پہنچنا ہے میں لیٹ ہو رہا ہوں اگر میں پانچ منٹ میں یہاں سے نہ نکلا تومیں وقت پر وہاں نہیں پہنچ سکوں گا اور اس سے میرا بہت بڑا نقصان ہو جائے گا ۔پلیز میرے اوپر مہربانی کریں‘ بابا جی نے اس کے ساتھ ہی میری ٹھوڑی پکڑ لی میرا غصہ آسمان کو چھونے لگا لیکن میں بابا جی کی عمر دیکھ کر چپ ہو گیا میں انہیں کلینک میں لے آیا ٹرے منگوائی اور احتیاط سے ان کے ٹانکے کھولنے لگا بابا جی اس سارے عمل کے دوران بار بار گھڑی دیکھتے تھے۔ ڈاکٹر ایک لمحے کو سانس لینے کے لیے رکا‘ اس نے لمبا سانس بھرا اور دوبارہ بولا ”میں نے ٹانکے کھولتے ہوئے بابا جی سے پوچھا آپ نے کہاں جانا ہے بابا جی نے بتایا فلاں ہسپتال میں ان کی بیوی داخل ہے اور وہ ہر صورت آٹھ بجے اس کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں . میں نے پوچھا‘ خدانخواستہ! آپ کی بیگم کا آپریشن تو نہیں بابا جی نے جواب دیا نہیں میں روز صبح آٹھ بجے ہسپتال پہنچ کر اسے ناشتہ کراتا ہوں۔

مجھے ان کے جواب نے حیران کر دیا میں نے پوچھا کیوں بابا جی بولے‘وہ پانچ سال سے ہسپتال میں ہے اور میں پچھلے پانچ سال سے روز آٹھ بجے اس کے ہسپتال پہنچتا ہوں اور اپنے ہاتھ سے اسے ناشتہ کراتا ہوں میں نے حیرت سے پوچھا ‘پانچ سال میں آپ کبھی لیٹ نہیں ہوئے بابا جی نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا‘ جی نہیں آندھی ہو طوفان ہو سیلاب بارش ہو سردی ہو یا گرمی میں کبھی لیٹ نہیں ہوا میں نے پوچھا لیکن کیوں ؟ بابا جی مسکرائے میں اس کا قرض ادا کر رہا ہوں ۔ہم نے پچاس برس اکٹھے گزارے ہیں ان پچاس برسوں میں اس نے مجھے روزانہ آٹھ بجے ناشتہ کرایا تھاہمارے گھر میں نوکروں اورخادموں کی کوئی کمی نہیں تھی لیکن سردی ہو گرمی ہو بارش ہو سیلاب ہو طوفان ہو یا آندھی وہ ساڑھے چھ بجے جاگتی تھی اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بناتی تھی۔اور ٹھیک آٹھ بجے جب میں اوپر سے نیچے آتا تھا تو وہ میز پر ناشتہ لگاکر میرا انتظار کرتی تھی‘ ہم دونوں اکٹھے ناشتہ کرتے تھے اس نے پچاس برسوں میں کبھی اس معمول میں تعطل نہیں آنے دیا وہ میرے ناشتے کی وجہ سے کبھی میکے نہیں گئی ‘پانچ برس پہلے وہ ہسپتال میں داخل ہوئی تو یہ ڈیوٹی میں نے سنبھال لی . اب میں روزانہ ساڑھے چھ بجے جاگتا ہوں اور آٹھ بجے سے پہلے اس کے کمرے میں پہنچ جاتاہوں‘میں اپنے اور اس کےلئے ناشتہ بناتا ہوں اور پھر ہم دونوں اکٹھے ناشتہ کرتے ہیں‘میری حیرت پریشانی میں داخل ہو گئی اور میں نے بابا جی سے پوچھا‘ آپ کی بیگم کو کیا بیماری ہے . بابا جی نے حسرت سے میری طرف دیکھا اور سسکی لے کر بولے‘ ان کی یادداشت ختم ہو گئی ہے . وہ اپنا ماضی ‘ حال اور مستقبل بھول گئی ہیں انہیں اپنا نام تک یاد نہیں وہ دنیا کے کسی شخص کو نہیں پہچانتی ۔ وہ بولنا تک چھوڑ چکی ہیں۔ انہیں پچھلے ایک سال سے کسی زبان کا کوئی لفظ یاد نہیں‘ ڈاکٹر انہیں جیلی پرسن کہتے ہیں“۔

ڈاکٹر رکا ‘ اس نے ایک بار پھر لمبی سانس لی اور دوبارہ گویا ہوا ”میں نے بابا جی سے کہا اس کا مطلب ہے آپ کی بیگم کو الزمائیر ہے! بابا جی نے سر ہلا کر تصدیق کر دی میں نے بابا جی سے پوچھا کیا وہ آپ کو پہچانتی ہیں.بابا جی نے فوراً انکار میں سر ہلایا اور دکھی آواز میں بولے وہ پچھلے پانچ سال سے مجھے نہیں پہچان رہی وہ یہ جانتی ہی نہیں میں کون ہوں اور روز صبح آٹھ بجے اس کے پاس کیوں آ جاتا ہوں“ ڈاکٹر نے رک کر ہماری طرف دیکھا اور اس نے کہانی کے سرے جوڑتے ہوئے بتایا”بابا جی کے ٹانکے اتر چکے تھے میں نے سپرٹ سے ان کا زخم صاف کیا اس پر پاؤڈر چھڑکا اور ان سے عرض کیا آپ ہماری طرف سے فارغ ہیں آپ جا سکتے ہیں بابا جی نے اپنی چھڑی اٹھائی اور باہرکی طرف چل پڑے میں ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا جب وہ باہر کے دروازے کے پاس پہنچے تو میں نے ان سے آخری سوال پوچھا ۔میں نے ان سے پوچھا جب آپ کی بیگم آپ کوپہچانتی ہی نہیں جب ان کی نظر میں وارڈ بوائے اور آپ میں کوئی فرق نہیں تو آپ روزآٹھ بجے یہ تکلیف کیوں کرتے ہیں بابا جی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے لیکن میں اسے پہچانتا ہوں میں یہ جانتا ہوں وہ کون ہے اور میری زندگی میں اس کی کیا اہمیت اس کی کیا حیثیت ہے ۔

وہ رکے اور دوبارہ بولے یادداشت اس کی ختم ہوئی ہے میری نہیں لہٰذا وہ آخری سانس تک میری بیوی ہے۔اور میں اسی طرح اس کی خدمت کرتا رہوں گا ۔بابا جی رکے اور دوبارہ بولے محبت کا تعلق یادداشت سے نہیں ہوتا‘ اس کا جسم اور دماغ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا‘ یہ دل میں پیدا ہوتی ہے اور دل کی آخری دھڑکن تک قائم رہتی ہے لہٰذا اگر آپ کا ساتھی آپ کو نہیں پہچانتا تو آپ کے دل میں اس کی محبت کم نہیں ہونی چاہیے وہ رکے‘ انہوں نے سانس لیا اور دوبارہ بولے میں کبھی کبھی سوچتا ہوں اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو کیا وہ مجھے فراموش کر دیتی؟ نہیں وہ مجھے کبھی فراموش نہ کرتی‘ وہ ٹھیک آٹھ بجے ناشتے کی ٹرے لے کرروز میرے سرہانے کھڑی ہو جاتی لہٰذا اگر میری یادداشت جانے سے اس کی محبت کم نہیں ہوسکتی تو میری محبت کیسے کم ہو سکتی ہے ۔بابا جی کلینک کی سیڑھیاں اترے باہر ٹیکسی کھڑی تھی وہ ٹیکسی کی اگلی سیٹ پر بیٹھے انہوں نے کھڑکی سے ہاتھ نکال کر مجھے ”وش“ کیا اور وہاں سے روانہ ہو گئے لیکن میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور مجھے اس لمحے محسوس ہوا سچی محبت کیا ہوتی ہے!“۔

ڈاکٹر رکا اس نے آنسو پونچھے اور ہماری طرف دیکھ کربولا ”اس کے بعد وہ بابا جی مجھے کبھی نہیں ملے۔لیکن جوں ہی آٹھ بجتے ہیں. مجھے فوراً وہ یاد آ جاتے ہیں اور میں محبت کے تصور میں گم ہو جاتا ہوں میری زندگی میں آٹھ بجے کا لمحہ ہمیشہ محبت لے کر آتا ہے اورمیں اپنے ساتھ عہد کرتاہوں میری بیوی مجھ سے جتنی محبت کرتی ہے میں اسے یہ محبت لوٹا کر اس دنیا سے رخصت ہوں گا میں اس کا قرض چکائے بغیر دنیا سے نہیں جاؤں گا“ ڈاکٹر خاموش ہوا تو ہم سب کی آنکھیں بولنے لگیں اور ہم انہیں خاموش کرنے کےلئے ٹشو تلاش کرنے لگے..!!!۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s