مسلمان لڑکی کا ہندو لڑکے کے ساتھ معاشقے اور پھر شادی کا کیا انجام ہوا ؟ خاتون کالم نگار کی چشم کشا تحریر ملاحظہ کریں

انڈیا میں ایک مسلمان لڑکی کو ایک ہندو لڑکے سے محبت ہو گئی اور دونوں نے شادی کا ارادہ کر لیا۔ لڑکے کے خاندان نے اس شرط پر حامی بھر لی کہ لڑکی پوجا پاٹ میں شریک ہوا کرے گی، لڑکی راضی ہوگئی لیکن لڑکی کے خاندان نے اس کو اپنی زندگی سے بے دخل کر نے کی دھمکی دے دی۔ لڑکی چند روز پوجا میں شریک ہو تی رہی مگر اس کا مذہب اس کی محبت پر غالب آگیا اور اس نے پوجا پر جانا چھوڑ دیا۔

خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے آج کے کالم میں لکھتی ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں قانون و انصاف کی عمل داری ہو جائے تو اس ملک جیسا پوری دنیا میں کوئی ملک نہیں۔ امریکہ قانون کی عمل داری کے سبب مضبوط ریاست ہے۔ 2012 میں تین مسلمان لڑکیاں تھانے میں جھگڑے کے کیس میں گئیں تو ڈیوٹی پر پولیس آفیسر نے ان کا حجاب اتار کر تصویریں کھینچیں۔ یہ قانونی معمول کا حصہ تھا مگر لڑکیوں نے سول رائٹس پر پولیس آفیسر کےخلاف کیس دائر کردیا۔ عدالت کے جج نے تینوں مسلمان لڑکیوں کو 180,000 ڈالر ہرجانے ادا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ ہمارے اسلامی ملکوں میں تو عورتوں کے کپڑے تک اتار دیے جاتے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں ہوتا؟ مزید براں امریکہ میں پہلی دفعہ حجاب میں لڑکی ٹی وی پر خبریں پڑھے گی۔ امریکہ میں قانون ہی یہاں کا مذہب ہے جو سب انسانوں کو برابر اور یکساں تصور کرتا ہے اور سب کی مال و جان کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ سردارنی اقبال کور نے کہا ”دیدی میرے بچے کہتے ہیں کہ ماما آپ شکل سے مسلمان لگتی ہیں‘ کیا واقعی دیدی میں شکل سے مسلمان نظر آتی ہوں؟ در اصل میرے دادا کا

تعلق لاہور سے تھا اور میرے پاپا جی بھی لاہور میں پیدا ہوئے، تقسیم ہند کے بعد ہمارا خاندان انڈیا راجستھان منتقل ہو گیا۔ میں راجستھان کے ایک گاﺅں میں پیدا ہوئی۔اس گاﺅں میں صرف ہمارا سردار گھرانہ آباد تھا۔ دادا جی نے میرا نام ”اقبال “ رکھا۔ اقبال نام میرے دادا جی کو پسند تھا، میرے پاپا اردو لکھتے پڑھتے تھے، لاہور کو بہت یاد کرتے تھے، پاکستان کے لوگ پیار کرنے والے ہیں۔۔۔ اقبال کور نے بتایا کہ وہ بھی چیمہ ہے، پھر حیرانی سے بولی کہ دیدی آپ تو سردار نہیں پھر مسز چیمہ کیسے ہو گئیں؟ ہم نے جاٹ قبائل کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے بتایا کہ میرے شوہر چیمہ اور میں گھمن برادری سے تعلق رکھتی ہوں۔ جاٹ برادری سکھوں سے ہو یا مسلمانوں سے، مذہب تبدیل ہونے سے قبیلہ یا ذات تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اقبال کے نام کے پس پشت اس کے دادا کی ڈاکٹر اقبال سے محبت معلوم ہوتی ہے۔ اقبال کور مسکراتے ہوئی بولی ’ اسی لئے میں چہرے سے مسلمان معلوم ہوتی ہوں۔ مزید بولی’ہمارے انڈیا میں ایک مسلمان لڑکی کو ایک ہندو لڑکے سے محبت ہو گئی اور دونوں نے شادی کا ارادہ کر لیا۔ لڑکے کے خاندان نے

اس شرط پر حامی بھر لی کہ لڑکی پوجا پاٹ میں شریک ہوا کرے گی، لڑکی راضی ہوگئی لیکن لڑکی کے خاندان نے اس کو اپنی زندگی سے بے دخل کر نے کی دھمکی دے دی۔ لڑکی چند روز پوجا میں شریک ہو تی رہی مگر اس کا مذہب اس کی محبت پر غالب آگیا اور اس نے پوجا پر جانا چھوڑ دیا۔ اس پر ہندو خاندان نے لڑکی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ حالات زیادہ بگڑ گئے تو لڑکی نے خود کشی کر لی۔ مذہب عشق و محبت پر غالب آیا۔ اقبال کور پاکستان سے متاثر لگتی تھی۔ بولی، پاکستانی خواتین شاپنگ اور بناﺅ سنگار کی بہت شوقین ہیں، ان کے شوہر بھی ان کے خوب نخرے اٹھاتے ہیں۔ ہم بھارتی بیویاں محنت مزدوری کرتی ہیں۔ پاکستانی شوہر بیویوں کو جاب بھی نہیں کرنے دیتے۔ ان کے تمام اخراجات پورے کرتے ہیں، میں مسلمان ہوتی تو پاکستانی مرد کے ساتھ شادی کرتی۔ پھر اسے ایک اور واقعہ یاد آ گیا اور کہنے لگی ” ہمارے گاﺅں میں ایک بوڑھی عورت بی بی نوتن ہوا کرتی تھی، مر گئی ہے، تقسیم ہند کے وقت اس کا خاندان پاکستان ہجرت کر رہا تھا کہ راستے میں فسادات کی

نذر ہو گیا اور بی بی نوتن کو اس کی تقدیر راجستھان لے آئی۔ ایک ہندو خاندان کے ساتھ رہتی تھی، اس کا شوہر ہندو تھا، بچے بھی ہوئے، بچے جوان ہو گئے اور ایک دن بی بی نوتن مر گئی۔ بی بی نوتن کے لڑکے نے اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ اس روز انکشاف ہوا کہ بی بی نوتن مسلمان تھی اور بیٹے کو وصیت کر رکھی تھی کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ اقبال کور خاموش ہو ئی تو ہم نے ادھوری کہانی مکمل کر دی۔ بی بی نوتن دل سے مسلمان تھی، اس کا جسم ہندو کے گھر میں قید تھا مگر اس کی روح پاکستان میں بستی تھی۔ تقسیم ہند کے وقت اس کا خاندان ذبح کر دیا گیا اور بی بی کو نشان عبرت بنا کر رکھا گیا۔ بی بی کا حقیقی نام بھی انتقام کی آگ میں راکھ ہو گیا تھا، اس خالی وجود کو جو بھی نام دے دیا گیا اس نے قبول کر لیا کہ مذہب کا تعلق نام سے نہیں دل سے ہے۔ بی بی نوتن نے انتقام کی قید مکمل کی اور آزاد ہوتے ہی اپنے اصل کو لوٹ گئی۔ آزادی قربانی مانگتی ہے۔ ایک گمنام بی بی نوتن کا مزار ہی لاپتہ نہیں یہاں ہزاروں بیبیاں پاکستان پر جانیں نثار کر چکی ہیں جبکہ پاکستان کی ایک ”بے غیرت کلاس“ قیام پاکستان کو غلطی قرار دیتی ہے۔ اقبال کور پاکستانیوں کے لائف سٹائل سے متاثر ہے، یہ ساری ”نوابی“ پاکستان کے دم سے ہے۔۔۔پاکستان زندہ باد۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s