بادشاہ ہاتھی دے کر واپس نہیں لیتے

جس طرح آسمان سے پہلے ایک بوند گرتی ہے۔ ذرا دیر بعد دوسری، تیسری، چوتھی اور پھر موسلادھار شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح پہلے آزمائشی غبارہ (شوشہ) چھوڑا جاتا ہے۔ اس کے ردِ عمل کا کیمیاوی تجزیہ کر کے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اصلی پروڈکٹ بھرپور اشتہاری بھونپو مہم کے جلو میں متعارف کروا دی جائے کہ فی الحال رک جایا جائے۔

یہی کچھ پاکستانی سپہ سالار کے باجوہ نظریے (ڈاکٹرائن) کے ساتھ ہو رہا ہے۔ لگ بھگ دو ماہ پہلے ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کی اصطلاح فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے استعمال کی۔ اس کے بعد ڈاکٹرائن کی وضاحت کے لیے ڈھائی درجن سپن ڈاکٹرز، چیدہ صحافیوں، چیتا اینکروں اور چنندہ تجزیہ کاروں کو صاحبِ نظریہ سے ملوایا گیا اور پھر ہر کوئی جہاں ہے، جیسا ہے کی بنیاد پر جتنا ڈاکٹرائن سمجھا، لے اڑا اور اس کا ردِ عمل بھی اسی لپاڈکیانہ فکری ترتیب کے ساتھ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

صاحبِ نظریہ اور ان کی ٹیسٹنگ ٹیم گیلری میں بیٹھے ہوئے میڈیا کو ڈاکٹرائن کی گیند سے ٹی ٹوئنٹی کھیلتا دیکھ رہے ہیں۔ جب بحث ہانپنے لگے گی تو ممکن ہے کسی تقریر میں ڈاکٹرائن کا باضابطہ اجرا بھی ہو جائے۔

اس بابت اب تک جتنی بھی گفتگو سامنے آئی ہے اس کا نچوڑ یہ ہے کہ اعلیٰ عسکری دماغ نیم قبرستانی پارلیمانی چار دیواری کو چھیڑے بغیر بےترتیب قبروں کو 18ویں ترمیم کے مزار اور کتبوں سمیت قطار وار کرنا چاہتے ہیں۔

جیسے اکثریت اور اقلیت کا فرق مٹانے کے لیے ون یونٹ بنایا گیا، جیسے عوام کو جمہوری تربیت دینے کے لیے بنیادی جمہوریت کا سکول کھولا گیا، جیسے جمہوریت سے مثبت نتائج پیدا کرنے کے لے درست سوچ والی قیادت کی پنیری شورائی جمہوریت کے کھیت میں لگائی گئی، جیسے باطل جمہوری قوتوں کو روکنے کے لیے حق و سچ کا پرچم بلند رکھنے والی جماعتوں کو ایک ساتھ باندھنے کا تجربہ کیا گیا۔

اسی جذبے سے اختیاراتی فاقے سے دوچار صوبوں کے آگے 18ویں ترمیم کا مرغِ مسلم رکھنے اور پھر اسے پوری طرح ہضم نہ کرنے سے جو پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اس کا علاج بقول میڈیا یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ سامنے سے قاب ہی ہٹا دی جائے کیونکہ وفاقی لنگر کی دال روٹی پر پلتے آئے صوبوں کے پیٹ مرغن اختیاراتی غذا کے لیے موزوں نہیں۔ ان صوبوں کو اختیارات استعمال نہیں کرنے آتے مگر جمع کرنے کا ہوکا اس قدر ہے کہ جو گٹھڑی ہاتھ آئی ہے اس میں سے بلدیاتی اداروں کو بھی حصہ دینے کے خیال سے بخار چڑھ جاتا ہے۔

18ویں ترمیم کے سبب وفاق و صوبوں کے درمیان محکموں اور اختیارات کی تقسیم کو مزید شفاف اور عملی بنانا مسئلے کا حل ہے یا 18ویں ترمیم کو یکسر ختم کر کے پہلے کی طرح مرکز کی بالادستی بحال کرنا مسئلے کا حل ہے۔ اس بارے میں دیکھنے کی بات یہ ہو گی کہ سب سے بڑے صوبے پنجاب کا سیاسی وزن کس پلڑے میں جاتا ہے۔

اگر جلد ہی جنرل باجوہ اپنے نظریے کی باضابطہ وضاحت نہیں کرتے، صوبے اپنی اپنی اسمبلیوں کے ذریعے مرکز اور صوبوں کے اختیارات پر چھڑنے والی نئی بحث کی بابت واضح موقف کا اظہار نہیں کرتے، سرکردہ سیاسی جماعتیں اس بحث کے تناظر میں اپنے اپنے پتے شو نہیں کرتیں، ماہرینِ دستور 18ویں ترمیم میں نفازی خامیوں اور اختیاراتی کنفیوژن اور تحفظات کو دور کرنے کے لیے قابلِ عمل تجاویز نہیں دیتے تو پھر جو بھی ہوگا وفاق کے لیے برا ہی ہو گا۔

ہاتھی دان کر دینا مگر نئے مہاوت کو اس کی دیکھ بھال نہ سکھانے اور ہاتھی کی خوراک کے لیے وسائل فراہم نہ کرنے سے ہاتھی مر جاتا ہے۔ خاندانی بادشاہ تحفہ دے کر واپس نہیں لیتے بلکہ تحفے کی لاج رکھنے کے شایانِ شان انتظامات بھی خاموشی سے کرتے رہتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s