تجربہ گاہ کے سائنسدان اور بوڑھا ملازم

……عمار مسعود

ایک وسیع و عریض ہال میں بہت سے سائنسدان جمع تھے۔ ہال کے باہر سرخ لائٹ ہال میں ہونے والے تجربات کی اہمیت کو بیان کر رہی تھی۔ہال میں موجود سائنسدانوں نے سفید لباس پہنے ہوئے تھے، جراثیم سے بچنے کے لیے سر پرشیشے کا ماسک پہنا ہوا تھا۔ ہاتھوں کو کسی انفکشن سے بچانے لیے کہنیوں تک سفید دستانے بھی چڑھائے ہوئے تھے۔ بات چیت کے لئے خود کار آلات لباس کے اندر موجود تھے۔ سارے ہال میں تیز سفید روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہال کے باہر ایک بوڑھا ملازم میلی سی شلوار قمیص میں سٹول پر بیٹھا ہوا تھا مگر اس کو بغیر اجازت ہال میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ایسے دکھائی دیتا تھا کہ تمام سائنسدان اس وقت کسی اہم تجربے میں مصروف ہیں۔ سائنسدانوں کے سامنے ایک طویل میز بچھی تھی۔ میز پر پاکستان کا نقشہ ابھرا ہوا تھا۔ وطن عزیز کا یہ نقشہ 272 حلقوں میں تقسیم تھا۔ اسکے علاوہ ایک اندرونی دائرہ صوبائی سرحدوں کی تقسیم کوظاہر کرتا تھا۔ سائنسدانوں کا پینل انتہائی غور سے نقشے کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ایک حلقے کا نہائیت باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا تھا۔ ہر حلقے کی باریکیوں کا محدب عدسوں کی مدد سے جائزہ لیا جا رہا تھا۔ ہر انتخابی حلقے کے نشان پر ایک شیشے کی امتحانی نلکی دھری تھی۔ ان 272امتحانی نلکیوں میں رنگ رنگ کے محلول بھرے تھے۔کسی انتخابی حلقے پر دھری امتحانی نلکی کا رنگ سبزکوئی سفید ، کوئی سیاہ، اور کوئی سرخ رنگ کے محلول میں رنگی ہوئی تھی۔سائنسدانوں کے پاس ایک بڑا سا تجرباتی بیکر تھا۔ اس بیکر میں ایک سنہری رنگ کا طلسماتی محلول تھا۔ اس جادوئی محلول کا کمال یہ تھا کہ کسی بھی حلقے پر موجود امتحانی نلکی میں یہ محلول چند قطرے ڈالنے سے اس حلقے کی امتحانی نلکی کا رنگ سبز ہو جاتا تھا۔ بظاہر لگتا تھا کہ یہ کوئی بہت بیش قیمت محلول ہے جس کو نہائیت بحث و تمحیض کے بعد استعمال کیا جاتا تھا۔اس محلول کو استعمال کرنے سے پہلے ہر حلقے پر بہت سے تجربات کیئے جاتے تھے اور ان میں کامیابی کے صلے میں اس حلقے کو سنہری محلول تفویض کیا جاتا تھا۔
سائنسدان اپنے تجربات میں بڑی عرق ریزی سے مصروف تھے کہ اچانک گھڑیال نے دن کے گیارہ بجنے کا اعلان کر دیا۔ہال کے باہر سرخ لائٹ ایکدم سبز ہو گئی۔ یہ بوڑھے ملازم کے لئے اشارہ تھا کہ صاحب لوگوں کی چائے کا وقت ہو گیا ہے۔ صبح سے اب تک کی محنت شاقہ کے باعث سائنس دانوں کے چہروں پر تھکن نمایاں تھی۔ لیکن اب وہ اپنے شیشے کے ماسک اور لیبارٹری کے سفید یونیفارم سے آزاد ہو کر کچھ ترتازہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں بوڑھے ملازم نے ادب سے سب کو چائے پیش کی۔ سائنسدان ایک ایسی زبان میں گفتگو کر رہے تھے جو بوڑھے ملازم کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ لیکن اس کو اندازہ ہو رہا تھا کہ دوبارہ تجربات شروع کرنے سے پہلے تمام ہی سائنسدان بہتر موڈ میں تھے۔ کبھی کبھار کوئی قہقہہ بھی بلند ہوتا۔ ہاتھ پر ہاتھ مار کے بھی کثیفے سنائے جاتے ۔چائے کا وقفہ اب ختم ہی ہونے والا تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے ہال کے باہر کی بتی سبز سے سرخ ہو گئی۔ سائنسدانوں نے جلدی جلدی باقی ماندہ چائے حلق میں انڈیلی اور ایک دفعہ پھر تجربہ گاہ میں چلے گئے۔ہاتھوں پر دستانے، چہرے پر ماسک اور جسم پر سفید یونیفارم پھر سج گیا ۔سائنسدان ایک دفعہ پھر پوری توجہ سے حلقہ حلقہ اپنے تجربات میں مصروف ہو گئے ۔
سائنسدانوں کی اس تجربہ گاہ میں تجربات کا یہ سلسلہ کئی ماہ چلتا رہا۔ کئی مہینوں کی محنت شاقہ کے باوجود سائنسدانوں کو کچھ تجربات میں کامیابی حاصل ہو گئی تھی۔ سنہری محلول کی جادوئی کرامات کی بدولت میز پر بچھے نقشے میں بلوچستان کا زیادہ ترحصہ سبز ہو گیا تھا۔لیکن کہیں کہیں سنہری محلول والے بیکر کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تھے۔ ایسے حلقوں کی امتحانی نلکی میں سنہرا محلول ڈالنے سے منحل سیاہ رنگ کا ہو گیا تھا اور اس میں پھلجڑیاں سی چلنے لگی تھیں۔ ان حلقوں میں مزید تجربات سے پرہیز کیا گیا اور سائنسدانوں نے اپنا قیمتی وقت دوسرے حلقوں پر صرف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اندورن سندھ میں سنہرا محلول اپنا طلسماتی اثر دکھانے میں کامیاب رہا تھا۔جبکہ سندھ کے شہری علاقوں میں محلول اتنا کارگر ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن چونکہ اس علاقے پر ماضی میں کیئے گئے تمام ہی تجربات کامیاب رہے تھے اس لیے سائنسدانوں کو اس کی اتنی فکر نہیں تھی۔ اصل مسئلہ پنجاب اور کے پی کے تجربات کا تھا۔ یہاں جس بھی حلقے کی امتحانی نلکی میں سنہرا محلول ڈالا جاتا وہیں تجربہ گاہ میں موجود ایک مشین پر خطرے کا سائرن چیخ پڑتا اور محلول سبز کے بجائے سرخ ہو جاتا۔ سائنسدانوں کوکچھ اسی طرح کی صورت حال کاسامنا کے پی کے میں بھی کرنا پڑا تھا۔سائنسدان کے پی کے بارے میں نئے تجربات سے بہت حیران ہوئے تھے اس لئے کہ ماضی میں اسی طرح کے تجربات انہی حلقوں پر کارگر ثابت ہوئے تھے۔ لیکن تازہ تجربات نے بتایا کہ سنہری محلول کے مسلسل استعمال نے اس کے اثر کو زائل کر دیا تھا۔یہ بات بہت تشویشناک تھی۔ سائننسدان سارے ملک کی امتحانی نلکیوں میں سبز رنگ دیکھنا چاہتے تھے مگر جب اپنے سامنے بچھے نقشے پر نظر دوڑاتے تو سبز رنگ خال خال نظر آتا اور زیادہ تر نقشے میں سرخ رنگ نمایاں ہو گیا تھا۔
سائنس دان ان تمام تجربات کی نتائج کی روشنی میں متوشش تو تھے مگر خوفزدہ نہیں تھے۔ اس لئے کہ ابھی حتمی تجربے میں بہت دن باقی تھے اور سائندانوں کی لیبارٹری میں ابھی بہت سے ایسے زود اثر محلول موجود تھے جو بہرحال کارگر ثابت ہو ہی جاتے تھے۔جوں جوں عام انتخابات کا وقت قریب آرہا تھاسائنسدانوں کی محنت میں اضافہ ہو تا جا رہا تھا۔ وہ صبح سے رات گئے تک مختلف تجربات میں مگن نظر آتے تھے۔تجربہ گاہ کے باہر لگی بتی زیادہ تر سرخ ہی رہتی تھے۔ کسی شخص کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ نہ ہی کسی کو اس تجربہ گاہ کے محل وقوع کی کوئی خبر نہ ہی سائنسدانوں کے چہرے سے کوئی واقف تھا۔ یہ سب تجربات خاموشی سے ایک خفیہ مقام پر ہو رہے تھے اور اس مقام کے بارے میں کسی کو خبر نہیں تھی۔صرف ایک بوڑھاملازم تھا کہ جس کو اس لیبارٹری میں رسائی نصیب تھی وہ بھی خاموشی سے سائنسدانوں کے لیے چائے پانی کا انتظام کرتا ، برتن سمیٹتا اور تجربہ گاہ کے باہر اپنی کرسی پر اس وقت تک بیٹھا رہتا جب تک تمام سائنسدان چھٹی نہ کرجاتے۔نہ کبھی میلی شلوار قمیص والے ملازم سے کبھی کسی نے گفتگو کی ضرورت سمجھی نہ اس مدقوق ملازم کو کبھی انکی کوئی بات سمجھ آئی۔لیکن اتنے برس تجربہ گاہ میں ملازمت کرتے کرتے بوڑھے ملازم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ سب سائنسدان بہت اہم لوگ ہیں اور کوئی اہم کام کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز رات کو تجربہ گاہ کی صفائی کرتا اس کو تالہ لگاتا اور اپنے گھر کی راہ لیتا۔ ایک دن بوڑھے ملازم کے دل میں جانے کیا آئی کہ سب سائنسدانوں کی چھٹی کے بعد اس نے تجربہ گاہ کا دروازہ کھولا اور اجڈ لوگوں کی طرح اس میز کا جائزہ لینے لگا جس پر پاکستان کا نقشہ مختلف حلقوں میں تقسیم تھا ۔ ہر حلقے کا رنگ اس کے مستقبل کے بارے میں بتا رہا تھا۔ تھوڑی سی سوچ بچار کے بعد بوڑھے ملازم کو سمجھ آگئی کہ یہ تجربات الیکشن کے سلسلے میں ہو رہے ۔بات سمجھ آتے ہی بوڑھے ملازم نے دل ہی دل میں بڑبڑانا شروع کر دیا ”کہ عجیب سائنسدان ہیں انہیں یہ نہیں معلوم کہ الیکشن تجربات سے نہیں نظریات سے جیتے جاتے ہیں“۔بوڑھے ملازم اور سائنسدانوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ سائنسدانوں کے سامنے میز پر نقشہ سجا ہوا تھا اور بوڑھے ملازم کی میلی وردی کے سینے پر پاکستان کا جھنڈا جگمگا رہا تھا۔
نوٹ ۔ یہ ایک فرضی کہانی ہے اس کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔ اس کا پاکستان اور 2018 کے انتخابات سے  دور دور کاکوئی تعلق نہیں۔ خود سوچئے کبھی سائنسدان بھی لیبارٹری میں کسی ملک کے الیکشن کے فیصلے کرتے ہیں؟ کبھی تجربات کو بھی نظریات پر فوقیت رہی ہے؟ اور کیا کہیں خلائی مخلوق بھی سیاسی جماعتوں کے مدمقابل  آئی ہے؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s