ایک پاکستانی جو ریئلیٹی شو میں حصہ لینے کے لئے امریکہ پہنچ گیا،اورمکیش کا گانا رفیع کی آواز میں سنا کر میلا لوٹ لیا

31073391_1804123676277758_7954629761900328113_n                 ““ میری پہلی کاوش America’s Got Talent 2018 “
—————————————————————-۔
رات عجیب خواب دیکھا ، میں پانچ سالہ “ملٹی پل ویزا” کے بغیرامریکہ کے مشہور زمانہ ریئلیٹی شو” امریکہ گاٹ ٹیلنٹ ” میں شرکت کےلئے سٹیج پر پہنچ گیا ، سارے گورے آنکھیں دیدے پھاڑ پھاڑ کرمیری بوسکی شلوار اور کڑاہی والا کُرتا دیکھ رہے تھے ۔ چاروں ججز نے اپنے اپنے انداز میں انوسٹیگشن شروع کر کے انگلش میں مجھ سے عجیب عجیب سوال کیئے ، جیسے میں خلائی مخلوق ہوں جبکہ وہ نہیں جانتے پاکستان میں خلائی مخلوق بننے کےلئے بہت ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے جو میرے جیسے ناتواں کے بس کا روگ نہیں ،

پھر انہوں نے مجھے اپنا ٹیلنٹ دکھانے کا کہا ، میں نے گانے کی فرمائش کی جو پوری ہوئی
رات چوک چبرچی سے کھٹاس والے دہی بلے کھائے تھے لہذا گلا ذرا خراب ہی تھا ، میں نے نورجہاں کا گانا “” اللہ کرے دونہیاں ترقیاں وے بابوا “” پیش کیا ، اونچا سُر لینے لگا تو آواز بیٹھ گئی میں خاموش ہو گیا ، تسلسل ٹوٹ جانے کے سبب سارے گوروں کا بوجہ گلا خرابی میرے ساتھ ہمدردانہ رویہ میری آنکھیں نم کر گیا ، دیکھا تو بہت سے گورے اپنے سُرخ گالوں سے آنسوں صاف کر رہے تھے ، اس ڈِس ہارٹ انسانیت پر میں بہت دل گیر ہوا ،یوں لگا جیسے وہ میرے ٹیلنٹ سے اُنیست دکھا رہے ہیں ، نورجہاں کا یہ گانا اُن کی رگ رگ میں سما رہا تھا ، جانےکیسے وہ بھانپ گئے کہ دونیاں ترقیاں جیسے لفظ کب بولے جاتے ہیں ، مجھے جج سائمن اور جج حاوی نے ایک اور چانس دیا ، اس بار میں نے شکریہ کے ساتھ ہلکے موڈ اور سُر میں مکیش کا گانا ““ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی ، کاہے کو دنیا بنائی ““ گایا
اس انداز کا ردھم تھا ، کہ سارے گورے جھوم اُٹھے ،گانے میں خدا سے شکایات کا منظر جوں جوں سُروں کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا ماحول دلنواز ہوتا جا رہا تھا ، ہر گورا گوری سر دھن کر اپنے انداز میں مست ہوتے جا رہے تھے ، پھر جیسے ہی گانا ختم ہوا ججز میں بیٹھی کالی ماتا اور سروں کے تیل سے چمکایا ہوا گنجے سر والا کلیون شیو جج حاوی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہو گئے ،
مجھے ڈر تھا کہیں کچھ انگریزی میں اول فول کہہ دیا تو بستی نہ ہو جائے ، لیکن انہوں نے بھی تاڑ لیا تھا کہ گفتگو سے تعریف ممکن نہیں اسلئے دونوں نے متفقہ طور پر اپنا ہاتھ لال رنگ کے چھوٹے سے گھڑے نما پلاسٹک کے بٹن پر ذور دار انداز میں رکھا ، اسے گولڈن بزر کہتے ہیں
سارا ہال تالیوں اور اوچھل کود سے جگمگا اُٹھا ۔۔۔۔ گویا اب میں سیدھا سیمی فائنل راؤنڈ میں پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔ کیا زبردست شاٹ تھی ۔۔ دل ہی دل میں مکیش زندہ باد کے نعرے لگانے لگا ۔۔۔ اور کیوں نہ ہو وہ درد کا بادشاہ تھا اُس کی جے جے کار بنتی تھی ۔
گولڈن بزر ملنے کے بعد مجھے یقین ہو گیا ، کہ گورے کتنے معصوم ہیں کیونکہ میں نے مکیش کا گانا رفیع کی آواز میں شہرہ آفاق ہندی فلم ““ بیجو باورہ ““ کے گانے “ او دنیا کے رکھوالے “ کی طرز پر گایا تھا ۔۔۔۔ جاہلوں کو اتنا بھی پتا نہ چلا اور میری چالاکی کو بھانپ نہ سکے ، ہوئے نہ پھر بدھو کہیں کے😜😂🤣🤣

از قلم شاکرجی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s