پشاور میٹرو پراجیکٹ، حقائق کیا ہیں؟

آپ جب اس منصوبے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ پر پہلا انکشاف یہ ہوتا ہے کہ اس کے گرد وعدوں، دعووں اور یقین دہانیوں کی ایسی چادر تان دی گئی ہے، جس کے پیچھے چھپے حقائق دیکھنا اچھا خاصا مشکل کام بن چکا ہے۔ آئیں، کوشش کر کے دیکھتے ہیں۔

لاگت آپ کو کہیں 41 ارب، کہیں 57 ارب بتائی جاتی ہے۔ اب اجماع 49 ارب پہ ہو چکا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ فگر بھی ادھوری یا غلط ہے۔ پراجیکٹ کی اصل مجموعی لاگت ساٹھ ارب کے لگ بھگ یعنی 59،935،000،000 روپے ہے۔ اس میں ایشین ڈویلپمنٹ بنک تیس سال کی مدت کے لیے 34 ارب 50 کروڑ روپے کا سافٹ لون مہیا کرے گا۔ 7 ارب 50 کروڑ کی مزید فنانسنگ ہے جو ایشین بنک کی زیرنگرانی استعمال ہوگی، یہ خیبرپختونخوا حکومت نے اپنے وسائل سے مہیا کرنی ہے، جبکہ اس کے علاوہ 17 ارب 93 کروڑ 50 لاکھ دیگر ذرائع سے پورے کیے جائیں گے۔ جو 49 ارب کی فگر بار بار دہرائی جا رہی ہے اور ڈیزائن فالٹس اور چینجنگ کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ لاگت 49 ارب سے بڑھنے نہیں پائے گی، اس کی وجہ آپ مدت تکمیل جان کر سمجھیں گے۔

اس پراجیکٹ کی مدتِ تکمیل تین سال ہے، یعنی اسے 31 دسمبر 2021 تک مکمل ہونا ہے۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرانی ہو کیونکہ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر آپ کو مسلسل بتایا جا رہا ہے کہ پراجیکٹ چھ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا، یا زیادہ سے زیادہ ایک دو ماہ مزید لگ جائیں گے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ پراجیکٹ کا صرف کاریڈور والا حصہ، یعنی وہ خصوصی راستہ جس پر بسیں چلنا ہیں، جس کی لاگت کا تخمینہ 42 ارب کے قریب ہے، اسے مکمل کیا جا رہا ہے، مجموعی طور پر پچاس ارب کے دو پروکیورمنٹ پلان منظور ہو چکے، اس لیے لاگت 49 ارب بتا کر 7 ارب کا مارجن بھی رکھ لیا گیا ہے۔ اور عوام کو انتخابات سے پہلے آدھے ادھورے پراجیکٹ کی تکمیل کا مژدہ بھی سنا دیا جائے گا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے پروکیورمنٹ پلان کی مدت 18 ماہ ہے، اس کے بعد ابھی ایک تیسرا پلان آنا باقی ہے۔ کم سے کم وقت میں ہتھیلی پر سرسوں جمائی جائے تو ابھی مزید ایک سال کا کام باقی ہے۔ مگر عام انتخابات میں جھرلو پھیرنے کی غرض سے اوکھا سوکھا کاریڈور بنا کر اس پہ سو پچاس بسیں چلا دی جائیں گی۔ جعلی عکس ڈالنے کا یہ طریقہ بیک فائر بھی کر سکتا ہے کیونکہ عوام کو اس منصوبے کی سیمولیشن دکھا دکھا کر اور اس کی چیدہ چیدہ تفصیلات بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اتنا ایکسائٹڈ کر دیا گیا ہے کہ جب وہ اس ادھوری میٹرو کو دیکھیں گے تو بے ساختہ کہہ اٹھیں گے:
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ میٹرو تو نہیں-

پراجیکٹ کے انجینئرنگ ڈیزائن، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن منیجمنٹ EPCM کا کانٹریکٹ موٹ میکڈونلڈز یعنی MM پاکستان کو ملا۔ اس کانٹریکٹ کی مالیت 43 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔ آپریشنل ڈیزائن اینڈ بزنس ماڈل OBDM کا کانٹریکٹ Logit consulting and Rebel Group USA کو ملا، انہوں نے پاکستان آئے بغیر خیبرپختونخوا اربن موبلٹی اتھارٹی کو کام سمجھا دیا، اس ٹھیکے کی مالیت 29 کروڑ، 43 لاکھ، 89 ہزار، 500 روپے ہے۔ اسی طرح پراجیکٹ منیجمنٹ کوآرڈینیشن اینڈ کپیسٹی بلڈنگ کے نام پر Halcrow Pakistan کو 19 کروڑ 50 لاکھ مالیت کا کانٹریکٹ ملا، جبکہ پراجیکٹ منیجمنٹ اینڈ کنسلٹنٹ سپرویژن کی ذمہ داری بھی MM پاکستان کو 78 کروڑ 18 لاکھ میں دی گئی۔

یہ خشک تفصیلات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ کنسلٹنٹ سروسز پاکستان کو 1 ارب 70 کروڑ سے زائد میں پڑی ہیں۔ اگر انہوں نے یہ پیسہ حلال کیا ہوتا تو 60 ارب کے پراجیکٹ کے لیے اتنی کنسلٹنسی فیس کچھ زیادہ نہیں۔ مگر دکھ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ پونے دو ارب روپے بھر کر بھی ڈیزائن میں اتنے سٹرکچرل اور ڈیزائننگ فالٹس تھے کہ عملدرآمد کا مرحلہ آنے پر تادم تحریر 11 تبدیلیاں عمل میں آ چکی ہیں، جن کا خمیازہ خیبرپختونخوا کو 2.5 ارب کی اضافی لاگت کی شکل میں برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ فالٹس بھی اتنے مضحکہ خیز اور حیران کن ہیں کہ یقین نہیں آتا، اتنی نامور کمپنیوں نے اس پراجیکٹ کی ڈیزائننگ میں حصہ لیا ہے، جہاں نالہ تھا وہاں انڈر پاس بن گیا، اب فلائی اوور بنایا جائے گا۔ جہاں لنک روڈ تھے، ان کا راستہ ہی بند کر دیا گیا، جہاں پہلے سے فلائی اوورز موجود تھے، ان کا مارجن ہی نہیں رکھا گیا۔ اب چند روز قبل منصوبے کو خیبر روڈ تک کھینچ لے جانے کا فیصلہ اندازا” تین سے چار ارب کی مزید لاگت بڑھائے گا۔ یوں ان سب اداروں کی غفلت سے پراجیکٹ کی کاسٹ اپنے بالکل ابتدائی مرحلے ہی میں کم از کم دس فی صد بڑھ چکی ہے۔

اب آ جائیے کانٹریکٹرز کی جانب۔ مقبول ایسوسی ایٹس اور چوہدری عبداللطیف اینڈ سنز یعنی کالسنز دو الگ الگ مگر ایک ہی خاندان کی کمپنیاں ہیں، اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھ آر ون اینڈ دی سیم تھنگ، جہاں کوئی بڑا پراجیکٹ آتا ہے یہ نتھا سنگھ اور پریم سنگھ آپس میں جوائنٹ وینچر کر لیتے ہیں۔ مقبول کالسنز جے وی اورنج لائن میٹرو میں بھی ایک کانٹریکٹر تھی، اس سے قبل وہ پنڈی اور ملتان میٹرو میں بھی حصہ ڈال چکے، گویا میٹرو پراجیکٹس کی تجربہ کار ترین پاکستانی کمپنیوں میں سے ایک ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s