حضرت لوط علیہ السلام کا اُلٹ پلٹ ہوکر تباہ ہو نے والا شہر

یہ حضرت لوط علیہ السلام کا شہر سدوم ہے ۔ جو ملک شام میں صوبہ حمص کا ایک مشہور شہر ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ ، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ یہ لوگ عراق میں شہر بابل کے باشندہ تھےپھر حضرت ابراہیم علیہ السلام

وہاں سے ہجرت کر کے فلسطین تشریف لے گئے اورحضرت لو ط علیہ السلام ملک شام کے ایک شہر اُردن میں مقیم ہو گئے اور اللہ تعالی نے آپ کو نبوب عطا فرما کر شہر سدوم والوں کی ہدایت کے لیے بھیجا۔تباہ ہونے والا شہر سدوم Destroyed City Sodom: شہر سدوم کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں۔ اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے پھل و میوجات بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ شہرکی خوشخالی کے باعث اکثر لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھا نا پڑتا تھا۔ یہ وجہ تھی کہ اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی تنگ ہو چکے تھے۔ مگر مہمانوں کو روکنے اور بھگانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی ۔اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے شخص کی صورت میں نمودار ہوا۔اور ان لوگوں سے کہنے لگا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس تدبیر پر عمل کروکہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے خود ابلیس ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کروائی اس طرح یہ فعل بد لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اس برےکام کے اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں

ے اپنی شہوت پوری کرنے لگے ۔ ( روح البیان)حضرت لوط علیہ السلام کا اپنی قوم کو وعظ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام نے لوگوں کو اس فعل بد سے منع کرتے ہوئے اس طرح وعظ فرمایا کہ : ( پارہ 8، سورۃ الاعراف، آیت نمبر 80،81) ترجمہ قران پاک کنزالایمان:۔اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔ آپ علیہ السلام کی وعظ سن کرآپ علیہ السلام کی قوم نے انتہائی بے باکی اور بے حیائی سے کیا کہا ؟ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ ( پارہ 8سورہ الاعراف آیات نمبر 82) ترجمہ کنزلاایمان : اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکا ل دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔ جب حضر ت لوط علیہ السلام کی قوم نے ہدایت قبول نہ کی تو جب آپ علیہ السلام کی قوم سرکشی اور بد فعلی میں قابل ہدایت نہ رہی تواللہ تعالی کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام چند فرشتوں کو ہمراہ لے کرآسمان سے اتر پڑے۔ پھر یہ فرشتے مہمان بن کر حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور یہ فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن وجمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کرکے حضر ت لوط علیہ السلام بہت فکر مند ہوئے۔

تھوڑی دیر بعد قوم کے بد فعلوں نے آپ علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھانا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کر دیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بے ہودہ جواب اور بر ے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگ دل ہو کر غمگین و رنجیدہ ہو گئے ۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی آپ بالکل فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان بدکاروں پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہذا آپ مومنین اور اپنے اہل وعیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دو ر نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑرکر اس بستی کی طرف نہ دیکھئے ورنہ وہ بھی عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے ۔ پھر حضر ت جبرائیل علیہ السلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چو ر ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگ باری ہوئی کہ قوم لوط کے تمام لوگ مرگئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑےہو کر بکھر گئیں۔ عین اس وقت جب کہ یہ شہر اُلٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی ایک بیوی جس کا نام واعلہ تھا۔اس نے پیچھے مڑکر دیکھ لیا اور یہ کہاکہ ہائے رے میری قوم یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذاب الہیٰ کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی ۔ قرآن پاک میں مجرموں کے انجام کے متعلق ارشاد : ترجمہ کنزالایمان :۔ تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر مینہ برسا یا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔ ( پارہ 8سورۃ الاعراف ،آییت 83،84) جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے ۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔ (تفسیر الصاوی اورعجائب القرآن معہ غرائب القرآن )

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s