ورکشاپ کا چھوٹا

سید طلعت حسین تجزیہ کار

88855.jpg

عمران خان کے پاس تین راستے بچے ہیں۔ یا تو وہ مائی باپ کی سیاسی ورکشاپ میں اسی تنخواہ پر ایک چھوٹے کا کام کرتے رہیں، یا نواز شریف بننے کی کوشش کریں یا پھر سیاست سے منہ موڑنے کا ڈرامہ۔

یہاں سے عمران خان کے پاس تین راستے بچتے ہیں۔ یا تو وہ مائی باپ کی سیاسی ورکشاپ میں اسی تنخواہ پر ایک چھوٹے کا کام کرتے رہیں یعنی گاڑیوں پر کپڑا مار دیں اور کچھ اوزار اِدھر اُدھر رکھ کر عمومی مشقت پر اکتفا کریں۔

دوسرا یہ کہ وہ نواز شریف بننے کی کوشش کریں اور ‘مجھے بھی عزت دو‘ کے نعرے کو بلند کرتے ہوئے اپنے اعمال سے یہ ثابت کریں کہ ان میں تبدیلی آ گئی ہے۔

تیسرا یہ کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی مثال کو اپنے مخصوص انداز سے تاریخی حقائق میں تحریف کرتے ہوئے وقتی طور پر سیاست سے منہ موڑنے کا اشارہ دیں تاکہ ان کو منانے والوں کی دوڑیں لگیں جس سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنے مطالبات ایک مرتبہ پھر دہرائیں کہ نواز شریف کو ہر حال میں پاکستان واپس لا کر موت کا سامنا کروانا ہے۔

آخری دو راستے یقیناً خطرناک ہیں۔ میاں محمد نواز شریف کو اسٹیبلشمنٹ کے بندے سے جمہوریت پرور قد آور سیاست دان بننے میں دہائیاں لگیں ہیں۔ اس سفر میں انہوں نے بے شمار غلطیاں بھی کیں، عروج بھی دیکھا اور سرنگوں بھی ہوئے۔ مگر آخر میں اپنی سمت درست کرنے کے بعد ایک ایسی سیاسی قوت میں تبدیل ہو گئے جو سیاسی مزاحمت کا استعارہ بھی ہے اور جس کے بغیر پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کی کوئی بحث مکمل نہیں ہو سکتی۔

عمران خان کے پاس اتنا طویل عرصہ موجود نہیں اور نہ ہی وہ 40 سال کے سفر کو ڈیڑھ سالوں میں طے کرنے کے اہل ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اگر انہوں نے نواز شریف کے ملک سے جانے والے معاملے پر خفت کو اپنی سیاسی عزت کا مسئلہ بنایا تو جو بچ گئی ہے وہ بھی گنوا بیٹھیں گے۔

تمام تر مقبولیت کے باوجود عمران خان اپنے بہترین لمحوں میں بھی مائی باپوں کا شاہکار ہی تھے۔ پرویز الہیٰ نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس شاہکار کے تخلیق کاروں میں سے چند ایک کے نام لیے ہیں۔ انہوں نے یہ بتایا کہ کس طرح سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا عمران خان کے نمائندے کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور جہانگیر ترین، علیم خان اور ان جیسے بہت سے دوسرے لوگوں کو پاکستان تحریک انصاف میں بغیر فیس کے داخلہ فارم مہیا کیا کرتے تھے۔

یہ تو صرف ایک تخلیق کار تھے۔ عمران خان 90 کی دہائی میں مائی باپوں کے دائیں بازوں کی سوچ کے حاملوں کا سیاسی ‘سوہنا منڈا‘ تھے۔ جنرل حمید گل مرحوم چند ایک بزرگ صحافیوں کے ساتھ مل کر عمران خان کے نام سے تحریریں چھپوا کر ان کا سیاسی قد کاٹھ بڑھاتے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی پرورش کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ کچھ تعطل کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اس شاہکار کی تکمیل کے لیے پینٹ اور برش اٹھا لیا اور اس میں خوب رنگ بھرے۔

ایک محدود صحافتی ملاقات میں جنرل پرویز مشرف نے عمران خان کے ایک قریبی دوست کو کھلے عام طعنہ مارا کہ اس کا یار ‘یعنی عمران خان‘ ناشکرا اور بےصبر ہے۔ اپنے مخصوص گھن گرج والے انداز میں انہوں نے عمران خان کے دوست کو کہا اپنے کرکٹر یار سے پوچھو کہ اس نے میانوالی میں اپنا پہلا انتخاب کیسے جیتا تھا۔

جنرل پرویز مشرف نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان اپنی پہلی بیوی جمائما کے ساتھ کئی بار ان کے پاس ملاقاتوں کے لیے آئے۔ ان کی اس وقت کی خواہش بھی وزیر اعظم بننے کی تھی، لیکن جنرل پرویز مشرف کے بیان کے مطابق وہ چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت سے پہلے ملک کے وزیر اعظم بننا چاہتے تھے۔

اس بات پر اس سیاسی شاہکار کی تکمیل نامکمل رہی اور اس وقت عمران خان نے غصے میں گجرات کے چوہدریوں کے خلاف ایسی مہم شروع کی کہ جیسی آج کل ان کی پارٹی شریف فیملی کے خلاف کرتی ہے۔ وہ جملہ کہ چوہدری پرویزالہیٰ پنجاب کا سب سے بڑا چور ہے، اسی مہم کا حصہ ہے جس کے پیچھے چوہدریوں کی وجہ سے وزیر اعظم نہ بننے کا غصہ تھا۔

جنرل مشرف کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی نے عمران خان کو اس حد تک اہمیت دی کہ پاکستان میں بڑی سیاسی جماعتوں کی ناکامی کے بعد کہیں انتہا پسند قوتیں سیاسی خلا کو پُر کرتے ہوئے اس ملک کی بنیادوں کو نہ ہلا دیں۔

اس دور میں یہ سوچ واضح انداز سے پائی جاتی تھی کہ عمران خان نوجوان نسل میں مقبولیت کے باعث جواں سال لوگوں کو انتہا پسندی کے گمراہ کن راستے سے دور رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

عین ممکن ہے کہ اس سوچ کے تحت عمران خان کے ساتھ مائی باپوں کی انگیجمنٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل پاشا جیسے کرداروں نے اپنا الو بھی سیدھا کیا ہو لیکن اس دور میں عمران خان کو دھکے کے ساتھ طاقت کی چڑھائی چڑھانے کا کوئی خاص بندوبست نہیں کیا گیا۔

جبھی تو عمران خان جنرل پاشا کی تمام تر حمایت کے باوجود جنرل کیانی پر انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگاتے ہیں، جس کی اصل تشریح یہ ہے کہ جنرل موصوف نے عمران خان کو طاقت میں لانے کا کوئی خصوصی بندوبست نہیں کیا۔

جنرل راحیل شریف کے بعد سے لے کر 2018 کے انتخابات تک اس شاہکار کو بڑی تندہی سے مکمل کیا گیا۔ آخری انتخابات وہ تقریب رونمائی تھی جس میں حاضرین کو کرسیوں پر باندھ کر تحسین کے کلمے ادا کرنے پر مجبور کیا گیا اور ہر سرکش کو ٹھڈے مار کر منڈے سر کے ساتھ سر بازار رسوا کیا گیا۔ جس شاہکار کی تخلیق میں اتنے مصورین کا ہاتھ ہو وہ خود میں جان کیسے ڈال سکتا ہے؟

نئی روح کو بیدار ہونے میں جتنا وقت درکار ہے وہ عمران خان کے پاس ہے نہیں۔ تقریباً تمام کابینہ مستعار لی ہوئی ہے۔ چار پانچ ووٹ آگے پیچھے ہونے سے وفاق اور پنجاب میں حکومتیں دھڑام سے گر جائیں گیں اور پھر کس منہ سے اپنے بنانے والوں سے جھگڑا کریں گے۔

مائی باپوں کا یہ کہنا بنتا ہے کہ جتنی مشقت اور محنت انہوں نے اس منصوبے کے حوالے سے کی، اگر اتنی کس اور سمت میں کی ہوتی تو لوگ منڈیروں پر کھڑے ہو کر واہ واہ کر رہے ہوتے، لہذا عمران خان اپنے موجودہ سیاسی غصے کو کسی مزاحمت میں نہ ہی تبدیل کریں تو بہتر ہے۔ ذاتی اور سیاسی نتائج گھمبیر ہو سکتے ہیں۔

اسی طرح روٹھنے کا آپشن بھی فضول سا ہے، روٹھ کر کہاں جائیں گے؟ واپس تو ایک پیج پر ہی آنا ہے۔ وہی پیج جہاں پر ایک طرف آرمی چیف بیٹھتا ہے اور دوسری طرف ڈی جی آئی ایس آئی۔ وہی پیج جس پر معاشی استحکام سے متعلق ایک خبر فوجی سربراہ کی کارکردگی کے حوالے سے لگتی ہے اور دوسری وزیر اعظم کے اس دعوے سے متعلق کہ اصل کارنامہ ان کی ٹیم کا ہے اور مہنگائی ان کی حکومت کے خلاف ایک سازش ہے۔

اس پیج پر روٹھنا یا منہ بسورنا خواہ مخواہ کی ذہنی کوفت کا باعث بنے گا۔ احسان کرنے والوں کا منہ نہیں چڑھایا جاتا اور اگر ایسی کم ظرفی کرنی ہو تو اس کے لیے ایسی طاقت چاہیے جو آئین کو بھی تہس نہس کر سکے۔

تو آخر میں آپشن پرانی تنخواہ پر کام کرنے والی ہی بچتی ہے۔ عمران خان کو شریف خاندان سے ذاتی عناد مہنگا پڑا ہے۔ فروغ نسیم اور شہزاد اکبر جیسے چیلوں اور عاشق اعوان جیسے نمائندوں کے ذریعے انہوں نے خود ہی اپنی خفت اور ہزیمت کا بندوبست کیا ہے۔ علاج کے لیے میاں محمد نواز شریف کا سفر ایک اشد طبی ضرورت بھی تھی اور سیاسی چیلینج بھی۔

اسیری میں نواز شریف کے حوالے سے کوئی بھی سانحہ پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں آگ لگا سکتا تھا۔ اس اہم سیاسی موڑ پر اربوں روپوں کی ضمانتیں مانگنا نامناسب تھا اور ملک میں طویل فساد کی جڑیں گہری کر سکتا تھا۔ نا جانے عمران خان کو یہ بنیادی بات سمجھانے کے لیے اتنے پاپڑ کیوں بیلنے پڑے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے مائی باپوں کی سیاسی ورکشاپ میں ایک اور تجربے کی باتیں شروع ہو چکیں ہیں۔ ورکشاپ کے مالک سوچ رہے ہیں کہ اگر چھوٹا اسی تنخواہ پر کام کرتا بھی ہے تو کیا اس کو رکھنا چاہیے یا نہیں۔ اگر یہ پلاننگ مکمل ہو گئی تو پھر نہ تنخواہ ملے گی اور نہ چھوٹا رہے گا، مگر ورکشاپ میں کام جاری رہے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s