ڈارک ویب کے سرغنہ سہیل ایاز کے کمپیوٹر سے ایک لاکھ بچوں کی تصاویر برآمد،ملزم کا ڈی این اے بھی ایک متاثرہ بچے سے میچ کرگیا

 بچوں سے زیادتی کے ملزم سہیل ایاز کے کمپیوٹر سے ایک لاکھ بچوں کی تصاویر برآمد ہوئی ہیں جب کہ ملزم کا ڈی این اے بھی ایک متاثرہ بچے سے میچ کر گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل راولپنڈی پولیس نے درجنوں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ملزم سہیل ایاز کو گرفتار کیا تھا۔12 نومبر کو گرفتار کیے جانے والا ملزم لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کے سرغنہ سہیل ایاز کو گرفتار کیا تھا۔ایس ایس پی راولپنڈی فیصل خان نے سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ کی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں عالمی گروہ کے سرغنہ سے متعلق بریفنگ دی۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں ہوا،جس میں بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز ڈارک ویب پر اپلوڈ ہونے کا معاملہ زیر غور آیا۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ سہیل ایاز کیس میں ڈی این اے رپورٹس آ گئی ہیں اور ملزم کے گھر سے بازیاب ہونے والے ایک بچے ک ڈی این اے بھی میچ کر گیا ہے۔انہوں نے کہا ملزم کے کمپیوٹرکا ڈیٹا بھی ریکور کیا گیا ہے جس سے ایک لاکھ بچوں کی تصاویر ملی ہیں جب کہ ملزم سہیل ایاز اور متاثرہ بچوں کی ڈرگ رپورٹس بھی مثبت آئی ہیں جب کہ پولی گراف ڈی این اے بلڈ ٹیسٹ بھی میچ کر گیا۔ایس ایس پی راولپنڈی نے کہا کہ اتنے ثبوت ملنے کے بعد یہ کیس بہت مضبوط ہو گیا ہے۔بچوں کو زبردستی نشہ کروایاجاتا تھا ، بچوں کے مطابق چرس اور آئس کا نشہ کروا کر زیادتی کی جاتی تھی ، وہ بات بھی کنفرم ہو گئی ہے، سہیل ایاز خیبر پختونخوا میں تین لاکھ روپے کی تنخواہ پر ملازمت کررہا تھا،چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ وہ دو مرتبہ ڈی پورٹ ہو کر آیا تو کیوں اس کی شناخت نہیں ہوئی خیبرپختونخوا حکومت میں نوکری کیسے کی جس شخص کی لائسنسنگ منسوخ ہوئی ہو تو اس کو نوکری کیسے دی گئی،راولپنڈی پولیس نے اچھا کام کیا ہے ہم اس کو سراہتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں اس کیس کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں ، چاہے کسی کی بھی پشت پناہی ہو اس کو نہیں جانے دینا، ہم ہر چھوٹی بڑی چیزوں پر جے آئی ٹی بنالیتے ہیں،ہم کیوں نہیں ایسے مسئلوں پر جے آئی ٹی بناتے۔

سینیٹر کلثوم پرویز نے کہا کہ بچوں کی غیراخلاقی وڈیوز ڈارک ویب پر ڈالنے کے معاملے میں بروقت اقدامات نا کرنے کے باعث بچوں سے زیادتی کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے اس معاملے پر انٹرپول کے ساتھ مل کر کام کرے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s