چودہ ماہ میں شکر کی قیمت میں50 فیصد اضافہ‘ مل مالکان نے عوام سے 155 ارب روپے اینٹھ لیے

صحافی زاہد گشکوری کے مطابق 14 ماہ میں شکر کی قیمت میں 50 فیصد اضافہ‘شکر مالکان نے عوام سے 155 ارب روپے اینٹھ لیے ہیں۔ اکتوبر،2018 سے دسمبر، 2019 تک شکر کی قیمتیں 53 روپے سے بڑھ کر 80 روپے فی کلو ہوگئی۔

حکومت نے ریکارڈ اضافے کا اعتراف کرلیا، 4مختلف سبسڈیوں کے باوجود ملز مالکان قیمتیں کم کرنا نہیں چاہتے۔

جون 2019 میں اضافی سیلز ٹیکس عائد کیے جانے پر ملز مالکان نے 13 ارب روپے ادا کیے‘مالکان نے اس حوالے سے جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق،پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک شکر کی قیمت میں ریکارڈ 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ جس کے نتیجے میں شوگر ملز مالکان اور مڈل مین نے اکتوبر،2018 سے دسمبر، 2019 تک 155 ارب روپے اضافی کمائے ہیں۔

گزشتہ 14 ماہ کے اندر ریٹیل مارکیٹ میں شکر کی قیمت 53 روپے فی کلو سے 80 روپے فی کلو تک جاپہنچی ہے۔

جب کہ اسی مدت میں شکر کی ہول سیل قیمت 47 روپے کلو سے 68 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ شوگر مینوفیکچررز پر ریگولیٹرز کا کنٹرول کتنا کمزور ہے جنہوں نے اضافی سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 13 ارب روپے ادا کیے ہیں جو کہ 8 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد پر جاپہنچا ہے۔

جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کے پروگرام آسک نے اپنی تحقیق میں ریگولیٹرز اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پسما)کے ریکارڈ اور فائلز کا جائزہ لیا ہے۔

 اس کے علاوہ دودرجن سرکاری افسران، گنا کاشت کاروں کے نمائندگان اور شوگر ملز مالکان کا انٹرویو کیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جاسکیں۔ ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ابراہیم مغل کا کہنا ہے کہ شکر سیزن 2018-19 میں شکر کی قیمتوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ متوقع تھا کیوں کہ سیلز ٹیکس میں اضافہ کیا گیا تھا۔

تاہم حالیہ قیمتوں میں اضافہ درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاد، تیل، بجلی، زرعی ادویات، خام مال، بیج، مشینری اور مزدوروں کے حوالے سے قیمتوں میں 55 سے 60 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ حکومت کی جانب سے سبسڈی کا ختم کیا جانا ہے۔گزشتہ حکومتوں نے مجموعی طور پر 18 ارب روپے سبسڈی اور مال بردار ادائیگی کی مد میں برآمدات پر شکر تیارکرنے والوں کو 2014-15 سے 2018-19 کے درمیان ادا کیے تھے۔

سرفہرست سات ملز جنہیں یہ رعایت دی گئی ان میں میاں فیصل مختار کی فاطمہ شوگر ملز لمیٹڈ کو ڈیڑھ ارب روپے، چوہدری سعید کی ہنزہ شوگر ملز لمیٹڈ کو 1 اعشاریہ 9 ارب روپے، جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کو 1 اعشاریہ 8 ارب روپے، ہارون اختر خان کی ٹنڈیاں والا شوگر ملز لمیٹڈ کو اعشاریہ 8 ارب روپے، خسرو بختیار کی ٹو اسٹار انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ، آر وائی کے شوگر ملز کو 2 اعشاریہ 3 ارب روپے۔

چیمبر شوگر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کو 1 اعشاریہ 39 ارب روپے، نیو ٹھٹھہ شوگر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کو اعشاریہ 13 ارب روپے، لار شوگر ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کو 1 اعشاریہ 43 ارب روپے رعایت دی گئی ۔ جب کہ باقی ماندہ رعایت صوبوں کے دودرجن ملز مالکان کو دی گئی۔

سرفہرست شکر کے برآمدکنندگان میں جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز، ہنزہ شوگر ملز، ال معیز شوگر ملز اور اتحاد شوگر ملز شامل ہیں۔ حاصل کیے گئے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ 14 ماہ کے دوران 6 ایم ایم ٹی شکر استعمال کی گئی اور اگر 27 روپے فی کلو اضافے سے حساب لگایا جائے تو یہ 155 ارب روپے اضافی منافع شکر تیار کرنے والوں کو حاصل ہوا۔شکر تیار کرنے پر فی کلو 17 روپے سے 19 روپے لاگت آتی ہے۔

جب کہ 2008-09 میں شکر 25 روپے سے 28 روپے فی کلو تھی۔شوگر ملز چلانے والوں میں بڑے سیاسی گھرانے شامل ہیں۔ ان میں شریف خاندان، جہانگیر ترین، اختربرادران، مخدوم خسرو بختیار، اومنی گروپ، زرداری گروپ وغیرہ شامل ہیں۔

سی سی پی کی حالیہ دورپورٹیں جو کہ جیو نیوز کے پاس موجود ہیں اس میں بھی کہا گیا ہے کہ رواں سال شکر کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلب کے مقابلے میں شکر کی فراہمی کم ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس طرح ضروری اشیا کی قیمت میں اضافہ شہریوں پر بوجھ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ فنانس کمیٹی نے سی سی پی سے تحقیقات کا کہا ہے۔

سابق چیئرمین پی ایس ایم اے اسکندر خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں مقامی قیمتوں اور پیداوار کی لاگت میں فرق تھا۔

گزشتہ حکومتوں نے 2015-16 میں مالکان کو شکر برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ جب کہ اس وقت اس کی قیمت 550 ڈالرز فی میٹرک ٹن تھی۔ ایسا کرنے کی صورت میں 2 ایم ایم ٹی شکر برآمد کرکے 1 ارب ڈالرز کمایا جاسکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس، ٹرانسپورٹ اخراجات اور کم سے کم اجرت میں اضافے سے یہ اضافہ ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شکر کی کاشت کے حوالے سے بالحاظ رقبہ پاکستان دنیا کا پانچوں بڑا ملک ہے، پیداوار کے لحاظ سے 11 واں، جب کہ شکر کی صنعت دوسری بڑی صنعت ہے جس میں 89 شوگر ملز شامل ہیں۔

جی ڈی پی میں اس صنعت کا حصہ 7 فیصد ہے جب کہ یہ سالانہ 450 ارب روپے کا کاروبار ہے۔

پی ایس ایم اے کے جواب میں اس وقت کے وفاقی وزیرکامرس خرم دستگیرکہتے ہیں کہ جب سے پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی ہے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پیسہ اینٹھا جارہا ہے،ستمبر میں 52 روپئے کلو گرام چینی تھی پھر ستمبر 2018 میں 81 روپئے کلو گرام 53 فیصد چینی کی قیمت میں اضافہ کسی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ یہ ایک کارٹیل ہے جس نے مل ملا کر پیسہ اینٹھا۔

اس میں پی ٹی آئی کے کچھ وزرا اور پارلیمنٹ کے ارکان سرفہرست ہیں جنہوں نے اربو ں روپئے ایکسپورٹ سے کمایااور حکومت سے رعایات وصول کیں،ایک طرف باپی ٹی آئی کے بااثر شخصیات نے اربوں روپیہ کمایا مگر کسانوں کو کسی بھی قسم کے فائدے سے محروم رکھاجیو نیوز کی تحقیقات کے مطابق 89 میں سے 20 شوگر یونٹس،پنجاب 5، جس میں سے 4 شریف خادان ، سندھ 14 زیادہ تر اومنی گروپ ، خیبر پختون خواہ ،1 یہ سب آپریشنل نہیں جس کی وجہ سے 30000 افراد بے روزگار ہیں جیو نیوز نے امیر اشرف خواجہ سیکریٹری انڈسٹریز ایند پروڈکشن نوید کامران سے رابطہ کیا سیکریٹری وزارت فائنانس کامرس سیکریٹری وزارت خوراک وزراعت،سی سی پی،ایف بی آر پرائم منسٹر آفس،اور اس وقت کے قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کےچیرمین اسد عمر، تمام بڑی شوگر ملزکے مالکان سے رابطہ کرکے ان کا موقف لینے کی کوشش کی ۔

وزارت فائنانس کا کہنا تھا کہ شوگرکے نرخ 52 روپئے کلو ہے جب صوبے گنے کی قیمت کا اعلان نہیں کیا،شوگر ملز ایسوسی ایشن 180 روپے فی 40 کلو نہیں دے سکتے۔

خوراک و زراعت اور تجارت کے وزراء نے اپنے جواب میں کہا کہ شوگر ملز گزشتہ سبسڈی اسکیم سے مستفید ہوئیں۔ گزشتہ اسکیموں میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 10.7روپے فی کلو سبسڈی کی اجازت دی جو شوگر ملوں کی جانب سے شکر کی برآمد پر اس شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ مقامی شکرکی قیمت 5 فیصد اضافے کی صورت میں مقامی شکر کی برآمد کی اجازت واپس لے لی جائے گی تاہم یہ شرط واپس لے لی گئی۔

ایس اے بی نے اپنے اجلاس میں سبسڈی کے بغیر شکر برآمد کی اجازت دے دی۔ اس کا کوئی جواز فراہم کیا گیا اور نہ ہی برآمد شکر کی منزل کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں شکر کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

شوگر ملوں نے الکوحل اور بجلی کے پلانٹس لگائے جو کام کی لاگت میں شمار نہیں ہوئے جس سے گنے کی قیمت پر جمود طاری ہوا۔ حکومتی سیاسی ارکان نے صوبائی حکومتوں پر دبائو ڈال کر کسان برادری کے مفاد میں مداخلت سے روکا۔

سرکاری حکام نے مزید انکشاف کیا کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950ء کے تحت صوبوں کو قیمت طے کرنے، مانیٹر کرنے اور ملوں کے لئے کرشنگ سیزن کے اعلان کا اختیار ہے۔

کسانوں کی ایسوسی ایشن کی موثر نمائندگی بھی حکومت پر دبائو ڈالنے کی کمزور کڑی ہے۔ شکر کی قیمت طے کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔

اس حوالے سے شکر سازوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s