ترکی میں ریپ کرنے والے سے شادی کا قانون، میرے والد کی خالہ کو اس شخص کے ساتھ شادی پر مجبور کیا گیا، جس نے انھیں کم عمری میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

اس بات سے قطع نظر کہ صدر رجب طیب اردوغان کے نزدیک ’ریپ کرنے والے سے شادی‘ کےقانون کی اہمیت کیا ہے، یہ حقیقت میں ترکی کے عالمی امیج کو تباہ کر رہا ہے۔

مجھے اس حقیقت پر ہمیشہ دھچکا ہی لگا کہ میرے ترک والد کی خالہ کو اس شخص کے ساتھ شادی پر مجبور کیا گیا، جنھوں نے انھیں کم عمری میں ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

میں اپنے آپ کو اس حقیقت پر یہ سوچ کر تسلی دینے کی کوشش کرتی آئی ہوں کہ وہ 1950 کی دہائی کا ایک ترک گاؤں تھا اور اس وقت سے اب تک بہت کچھ بدل چکا ہے، لیکن اب ’ریپ کرنے والے سے شادی کا بل‘ چند دن بعد ترکی میں متعارف کروانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس پر میں مشکل کا شکار ہوں۔

اس بل کے نتیجے میں متعدد ایسے مردوں کو رہا کر دیا جائے گا جنھیں قانونی اعتبار سے ریپ کا مرتکب ہونے پر سزا ملی تھی۔ ترک اخبار ’حریت‘ کے مطابق اس وقت ایسے مردوں کی تعداد تقریباً چار ہزار ہے، جنھیں اس شرط پر رہا کیا جائے گا کہ وہ ان خواتین سے شادی کریں گے جنھیں انھوں نے ریپ کا نشانہ بنایا۔

اس معاملے میں فریقین کے درمیان عمر کے فرق جیسے مسائل پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی فیصلہ ہوا تو 10 یا 15 برس کی عمر طے کی جائے گی۔ یہ رعایت کم لیکن اس کے باوجود انتہائی قابل نفرت ہوگی۔

یہ پورا بل قابل نفرت ہے۔ حقیقت میں یہ لفظ بھی ترک ورثے کی بہت سی خواتین اور مردوں کی جانب سے محسوس کیا جانے والا غصہ، خوف اور نفرت دوسرے تک پہنچانے میں ناکام ہے۔

وہ دور جس میں خواتین کی جنسی ہراسانی ممنوع ہوتی جا رہی ہے۔ وہ دور جس میں رجعت پسند تہذیب کے حامل ملک ریپ کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے آسانی سے بچ نکلنے کے راستے بند کر رہے ہیں، اس دور میں آپ ایسا قانون کیوں بنائیں گے؟ آپ پیچھے کی طرف کوئی ایسا قدم کیوں اٹھائیں گے؟ اور یہ قانون ترکی کے لیے پیچھے کی جانب اٹھایا جانے والا ایک بڑا قدم ہے۔

2014 میں صدر رجب طیب اردوغان کی اے کے (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ) پارٹی نے بچوں کو زیادتی کا نشانہ والوں کے لیے سزا دگنی کر دی تھی اور وہ قانون ختم کر دیا جسے اب واپس لایا جا رہا ہے۔

اردوغان کے سیاسی خیالات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو میں سمجھتی ہوں کہ یہ قانون لانے کی صرف ایک وجہ ہو سکتی ہے، یہ خیال کہ شادی اور بچے ترکی کو دنیا میں بڑا کردار دلوانے کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔

اردوغان کہتے ہیں کہ ’مضبوط قومیں مضبوط خاندانوں‘ سے بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے وقتاً فوقتاً ترک خاندانوں کے ہاں تین بچوں کی وکالت کی ہے۔ انھوں نے تین سال پہلے اعلان کیا تھا کہ شادی کے بغیر ساتھ رہنا یا بچے ہونا اسلامی اور ترک تہذیب نہیں۔ اس کے باوجود کسی نوجوان لڑکی کو انھیں ریپ کرنے والے سے شادی پر مجبور کرنا بھی آج کے ترک کلچرمیں قبول نہیں کیا جاتا۔ اکثریت اسے جنسی استحصال ہی سمجھتی ہے۔

اردوغان نے گذشتہ ہفتے ہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ دہشت گردی یا ریپ جیسے جرائم کی سزا میں کمی کی اجازت کبھی نہیں دیں گے، اب ’ریپ کرنے والے سے شادی‘ کا بل منظور کروانے کی اجازت دے رہے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنگین خیال نہیں کرتے بلکہ اس کی بجائے وہ اس بل کو اپنے مقاصد کے حصول اور آبادی میں اضافے کا راستہ سمجھتے ہیں۔

ریپ کرنے والے کی متاثرہ نوجوان لڑکی سے شادی کا نہ صرف یہ مطلب ہے کہ ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جائز ہو گا بلکہ وہ لڑکی جو اگلے کئی برس تک بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کی مالک ہو گی وہ مزید بچوں کو جنم دینے کے قابل ہو گی۔

کہا جائے تو یہ ایک چونکا دینے والا بیان ہے جس میں پورا سچ شامل نہیں ہے۔ اس قانون کا بڑا اثر یہ ہے کہ ترکی میں خواتین کی قدر نہ کی جائے۔ وہ صرف بچے پیدا کرنے کے لیے ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ جب صدر اور  قانون یہ پیغام دے رہے ہیں تو معاشرہ اسے جلد ہی قبول کر لے گا اور اس کے بعد بالآخر ملک بھر میں خواتین کے حقوق پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

مرد خود کو خواتین اور نسوانی جسم پر اس سے کہیں زیادہ غالب خیال کریں گے جتنا وہ پہلے کرتے تھے۔ اس سے ریپ اور گھریلو تشدد یا بدسلوکی میں اضافہ ہو گا۔ خواتین کو قتل کرنے کے واقعات بڑھیں گے۔ حالانکہ یہ پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔ ترک خواتین کے ایک پلیٹ فارم کے مطابق 2019 میں تقریباً 474 خواتین کو قتل کیا گیا۔

یہ تعداد برطانیہ میں 2018 میں قتل ہونے والی خواتین سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ خواتین کو مرد اور ان بچوں (جنھیں شاید وہ پیدا نہیں کرنا چاہتی تھیں) کے ساتھ اس طرح گھر میں بند کرنے سے جہاں وہ خوش نہ ہوں، خواتین کی جانب سے خود کو نقصان پہنچانے اور خود کشیوں میں اضافہ ہو گا۔

’ریپ کرنے والے سے شادی‘ کے مجوزہ بل میں صدر اور پارلیمنٹ کی جانب سے اس کے نتائج کو مدنظر نہ رکھنا شرم ناک بات ہے۔ انھیں احساس ہونا چاہیے کہ خاندانوں کو ایک بار پھر مجبور کرنا کہ وہ اپنی نوجوان بیٹیوں کو تکلیف دہ زندگی کی جانب دھکیلیں کیونکہ انھیں ’ٹوٹا ہوا سامان‘ سمجھا جا رہا ہے، قابل مذمت ہے۔

ترکی خواتین کے حقوق کے معاملے میں ترقی پسند خیالات کا مالک ہوا کرتا تھا۔ گذشتہ 20 برس میں ریاستی اداروں یا فوج میں سر ڈھانپنے پر پابندی اٹھائی گئی اور ’بچے کو دودھ پلانے کا وقفہ‘ متعارف کروائے جانے سے ماؤں کو کام کے اعتبار سے ایک متوازن زندگی ملی۔ اس سہولت کے تحت انھیں اپنے نوزائیدہ بچے کو دودھ پلانے کے لیے کام کے اوقات میں ہر روز ڈیڑھ گھنٹے کی چھٹی دی جاتی ہے۔ لیکن یہ نیا قانون اس پیش رفت کو تیزی کے ساتھ تقریباً ختم کر کے رکھ دے گا۔

’ریپ کرنے والے سے شادی‘ کا بل ترکی کو 1950 کی دہائی میں واپس لے جا رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اردوغان کے نزدیک اس قانون کی اہمیت کیا ہے، یہ حقیقت میں ترکی کے عالمی امیج کو تباہ کر رہا ہے۔ اس لیے ان تمام خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہیے جو احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئیں۔ یہ کئی وجوہات کی بنا پر خواتین کے لیے بڑی لڑائی ہے، اب ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s