سوات میں جنسی ہراسانی: ’نوکری کے لیٹرکےلیے پیسےیا جسم کی شرط

خیبرپختونخوا میں ہر ادارے اور ہر کام کرنے کی جگہ پر خواتین کے ساتھ ہراسانی اور جنسی ہراسانی کے کیسز ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہو پاتے۔

jjjjعورت فاؤنڈیشن کی صوبائی مینیجر صائمہ منیر کہتی ہیں کہ ہر جگہ پر خواتین  کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ دفتروں یا کام کرنے کی جگہوں پر مرد موقع ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کب خواتین ان کے ہاتھ آئیں۔ (تصویر: سوشل میڈیا)

’یہ تب کی بات ہے جب میں نے پبلک سروس کمیشن کا ٹیسٹ پاس کیا اور میری پوسٹنگ ہونے ہی والی تھی، تب میرا نکاح بھی ہوچکا تھا۔ سوات میں ایک اعلیٰ دفتر جہاں میں نوکری کے لیے ویکنسی لیٹر لینے کے لیے گئی تھی، وہاں ایک افسر نے بتایا کہ تمہیں پتہ ہے یہ لیٹر کيسے ملے گا؟ میں نے جواب دیا: نہیں، تو کہنے لگا یا تو پیسے دینے ہوں گے یا پھر جسم! میں دنگ رہ گئی اور فوراً وہاں سے نکل گئی‘۔

یہ کہانی جنسی ہراسانی کی شکار خاتون سیما بی بی (فرضی نام) کی ہے، جن کا تعلق سوات سے ہے اور وہ نرسنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’پھر کیا تھا پوسٹنگ تو ہونی ہی تھی، لیکن بات نہ ماننے کی وجہ سے میری پوسٹنگ سوات سے دور ایک دوسرے ضلع دیر میں ہو گئی۔‘

سیما کے مطابق: ’میں خوش تھی کہ چلو پوسٹنگ دور ہی سہی لیکن ہو تو گئی وہ بھی باعزت طریقے سے، مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ وہاں اس سے بھی زیادہ بھوکے بیٹھے ہیں۔‘

سیما نے بتایا کہ ’جب میں نے دیر میں جوائننگ کر لی تو وہاں بھی مجھے جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور ایک کلرک سے لے کر ڈاکٹرز تک کا نشانہ بنی۔ تب میں بہت پریشان تھی کہ کیا کروں اور کس کو بتاؤں تاکہ اس عذاب سے چھٹکارا مل سکے۔‘

سیما کے والد کا تو پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا، بڑا بھائی بھی کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا: ’ماں کو اگر بتاتی بھی تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھیں، تو میں نے سوچا کہ اپنے میاں کو ہی بتا دیتی ہوں شاید کوئی راستہ نکل آئے۔ جب میں نے میاں سے بات کی کہ مجھے یہاں کام کرنے میں تھوڑی سی پریشانی ہے اور کلرک، ڈاکٹرز مجھے تنگ کرتے ہیں تو میاں نے بھی مدد کرنے کی بجائے نوکری چھوڑنے کا کہا اور جب میں نے کہا کہ نوکری چھوڑنا تو اس کا حل نہیں تو انہوں نے مجھے طلاق دے دی۔‘

متاثرہ لڑکی کے مطابق یہ صرف ان کی کہانی نہیں ہے، اس طرح کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے ہیں لیکن لڑکیاں سمجھوتہ کرلیتی ہیں اور انہی کی طرح اب بھی بہت سوں کو نہیں پتہ کہ وہ کس جگہ اپنی شکایت درج کروا سکتی ہیں۔

سرکاری، غیرسرکاری اداروں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، سب کا ماننا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہر ادارے اور ہر کام کرنے کی جگہ پر خواتین کے ساتھ ہراسانی اور جنسی ہراسانی کے کیسز ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہو پاتے۔

ہرچند کہ صوبے میں اس حوالے سے انسداد ہراسانی قانون بھی موجود ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کمیٹیاں بھی بنی ہیں، پھر کیوں یہ مسئلہ سامنے نہیں لایا جاتا؟ اور اس مسئلے کو حل کیوں نہیں کیا جاتا ؟ اس مسئلے کے پیچھے اصل محرکات ہیں کیا؟

جنسی ہراسانی کے دیگر کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں؟

سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کے پاس اعداد وشمار ایک حد تک تو ہیں لیکن غیر سرکاری اداروں کے ساتھ صوبائی محتسب برائے تحفظ انسداد ہراسانی رخشندہ ناز بھی مانتی ہے کہ یہ کیسز ہزاروں میں ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہوتے۔

رخشندہ ناز نے بتایا: ’اگر یونیورسٹیوں، کالجوں اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں بنی ہوئی کمیٹیوں کے ہی کیسز جمع کرنا شروع کریں تو یہ کیسز ہزاروں میں ہیں۔‘

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے نجی اداروں کے مطابق نہ صرف خواتین کے ساتھ ان کے اداروں میں ہراسانی ہوتی ہے بلکہ گھروں کے اندر اور باہر دوسری جگہوں پر بھی مختلف قسم کی ہراسانی ہوتی ہے۔

لیکن صوبائی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2019 سے جنوری 2020 تک ان کے پاس خواتین کی ہراسانی کے کُل 59 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں جنسی ہراسانی کے صرف 22 کیسز ہیں۔

کیسز کو حل کرنے کے حوالے سے صوبائی محتسب کہتی ہیں کہ ان میں سے ایک خاتون نے اپنا کیس واپس لے لیا، دو کیسز معطل کیے گئے کیونکہ درخواست کنندگان نے ایک درخواست ان کے ہاں اور دوسری پشاورہائی کورٹ میں جمع کروائی تھی۔

رخشندہ کے مطابق ایک کیس میں کمیٹی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا اور اس کے ساتھ یہ اضافہ کیا گیا کہ ہراسانی سے متاثرہ جن خاتون کو نوکری سے نکالا گیا تھا، انہیں واپس بحال کردیا گیا۔ اس کے علاوہ دو کیسز انتظامی تھے جو سروس ٹربیونل بھیجے گئے۔

زیادہ ہراسانی کہاں ہوتی ہے؟

خیبرپختونخوا میں ہراسانی کے کیسز کے حوالے سے رخشندہ ناز کہتی ہیں کہ صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی کے پاس آنے والے کُل 59 کیسزمیں سب سے زیادہ کیس محکمہ تعلیم سے، دوسرے نمبر پر محکمہ صحت اور اس کے بعد عام جگہوں اور سائبر کرائم کے حوالے سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

رخشندہ ناز کے مطابق ان کیسز میں سائبر کرائم، گھریلو تشدد اور دوسرے بھی شامل تھے لیکن ان کے ادارے کے دائرہ اختیار میں جنسی ہراسانی کے کیسز صرف 22 آئے۔

ان کے مطابق 22 کیسز میں سے چھ کیسز حل کیے جا چکے ہیں اور باقی پر مختلف مراحل میں کام جاری ہے۔

ناز کہتی ہیں کہ شروع میں ان کے ساتھ مسئلے تھے جیسے کہ خواتین کی رازداری برقرار رکھنا اور متعلقہ افراد کو کئی کئی بار مطلع کرنا لیکن ان کےمطابق اب ان پر بھی تیزی سے کام ہورہا ہے۔

کیسز رپورٹ کیوں نہیں ہوتے؟

’بلو وائنز‘ نامی غیر سرکاری ادارہ خیبرپختونخوا میں خواتین اور خواجہ سراؤں کے حقوق اور ان پر جنسی اور صنفی تشدد کے حوالے سے کام کرتا ہے۔ اس ادارے کے پروگرام کوآرڈینیٹر قمرنسیم کہتے ہیں کہ خواتین کے جنسی ہراسانی کے کیسز ہزاروں کی تعداد میں پیش آتے ہیں۔

تاہم ان کیسز کے حوالے سے بات نہ کیے جانے سے متعلق قمر نسیم نے بتایا: ’یہ مسئلہ نہ صرف قانونی ہے بلکہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے۔ معاشرے میں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ جب کسی خاتون کے حوالے سے ان کے بھائی، شوہر اور بیٹے کو پتہ چلتا ہے تو ان کا بس صرف متاثرہ خاتون پر ہی چلتا ہے۔‘

قمر نسیم کہتے ہیں کہ اس طرح کے کیسز میں انصاف ایک طرف رہ جاتا ہے اور ان خاتون پر پابندیاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اکثر خواتین کے لیے گھر کی طرف سے معاملات خراب ہونے لگتے ہیں، وہ اس ڈر کی وجہ سے یہ بات سامنے نہیں لا سکتیں اور رپورٹ نہیں کرتیں۔

قمر نسیم کے مطابق بہت سی لڑکیاں ان کے ادارے (بلو وائنز) سے رابطہ کرتی ہیں اور ان کے ٹول فری ہیلپ لائن پر بھی لڑکیاں فون کرکے قانونی مدد اور ہراسانی کے حوالے سے بنے محتسب قانون کے بارے میں رہنمائی لیتی ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کی صوبائی مینیجر صائمہ منیر کہتی ہیں کہ ہر جگہ پر خواتین  کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ دفتروں یا کام کرنے کی جگہوں پر مرد موقع ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کب خواتین ان کے ہاتھ آئیں۔

Sexual-Harassment-attorney-spokane

صائمہ منیر کے مطابق: ’لڑکیوں اور خواتین کو سب سے پہلا مسئلہ ان کے ساتھیوں کی جانب سے پیش آتا ہے۔ مثال کے طور پر اگرکوئی خاتون کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ ہراسانی ہوئی ہے تو دوسرے ساتھی پوچھے بغیر کہتے ہیں کہ ہم اتنے عرصے سے یہاں کام کرتے ہیں، آج تک ہمیں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہے۔ الٹا ہراساں کی جانے والی خاتون کے اوپر الزامات لگنا شروع ہوجاتے ہیں کہ شاید ان کا اس بندے سے کوئی ذاتی اختلاف ہے اور اسی وجہ سے یہ ہراساں کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ اس لیے زیادہ تر خواتین دفاتر میں چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیرسرکاری، خاموشی میں ہی بہتری سجھتی ہیں۔‘

یونیورسٹیوں ميں اگر پروفیسر کے خلاف شکایت کی جاتی ہے تو لڑکیاں انہی وجوہات کی بنا پر سیمسٹرز میں بار بار فیل ہوتی ہیں۔

خود رخشندہ ناز کہتی ہیں کہ شروع میں جب ادارہ بنا تو ان کے سامنے بہت سے مسائل تھے، جیسا کہ کمیٹیاں بنانا اور اس حوالے سے تربیت اور سب سے بڑی بات آگاہی کا نہ ہونا تھی۔

انسداد ہراسانی کا قانون ہے کیا؟

پاکستان میں 2010 میں وفاقی سطح پر خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراسانی سے تحفظ  دینے کے لیے ایک ایکٹ بنا تھا، خیبرپختونخوا میں یہ قانون بننے میں تقریباً نو سال لگے اور 2019 میں یہاں کابینہ کے منظوری کے بعد صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی کا تقرر کیا گیا۔

اس قانون کے بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اگر خواتین کام کی جگہوں پر ہراسانی کی شکایت کرنا چاہیں تو وہ اس قانون کے تحت اپنے متعلقہ ادارے میں بنی کمیٹی میں شکایت درج کروا سکیں۔ صوبائی محتسب کے مطابق کافی اداروں میں کمیٹیاں بن بھی چکی ہے۔

رخشندہ کہتی ہیں کہ ’کمیٹیاں بنانا سب اداروں کی ذمہ داری ہے اور ان کمیٹیوں کی نگرانی متعلقہ اداروں کا کام ہے۔ محتسب ادارہ قانون کو عملی جامہ پہناتا ہے۔ سارے حکومتی اداروں میں کمیٹیاں بنی ہيں، کیونکہ ہم نے کافی ٹائم دیا ہے اور اگر اب بھی کہیں کمیٹی نہیں ہے تو وہاں 25 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ لگایا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون یا تو اس کمیٹی میں شکایت درج کروائیں اور اگر وہاں ان کی بات نہیں سنی گئی تو پھر وہ براہ راست محتسب کے دفتر میں شکایت درج کروا سکتی ہیں۔

رخشندہ ناز نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا: ’اس قانون کے مطابق ایک تو یہ کہ ہر سرکاری اور غیرسرکاری ادارے میں تین اراکین پر مشتمل کمیٹی بنے گی جس میں خاتون کا ہونا لازمی ہے اور جتنے بھی جنسی ہراسانی کے کیسز آئیں گے، وہ کمیٹی میں رپورٹ ہوں گے۔ تاہم اگر کمیٹی نے مسئلہ حل نہ کیا تو متاثرہ خاتون صوبائی محتسب کے دفتر میں شکایت کریں اور اگر وہاں بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس سے آگے گورنر کو شکایت کی جائے گی جبکہ پورٹل کے ذریعے بھی شکایت کی جاسکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’دوسرا یہ کہ یہ قانون مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ تیسرا یہ کہ ہر ادارے میں قواعد و ضوابط ہوں گے، جس کے تحت ادارے میں کسی قسم کی ہراسانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کو کمیٹی ممبر کے خلاف شکایت ہے تو اس کے خلاف سینیئرز کو یا صوبائی محتسب کے دفتر میں شکایت کی جائے۔

قانون بننے کے بعد خواتین شکایت کیوں نہیں کرتیں؟

صائمہ منیر کہتی ہیں کہ اسمبلی سب سے مقدس ادارہ سجھا جاتا ہے، جہاں اس قانون کے قواعد و ضوابط کو چسپاں کیا جانا چاہیے، لیکن ایک تو اسمبلی میں یہ ہے نہیں، دوسرا یہ کہ اس قانون کو کسی نے اتنا سنجیدہ لیا ہی نہیں ہے۔

تاہم خیبرپختونخوا کے وزیر قانون سلطان خان کہتے ہیں کہ یہ اچھی تجویز ہے کہ نہ صرف اسمبلی ميں بلکہ ہر ادارے میں جنسی ہراسانی اور دیگر قوانین کے بارے میں بھی آگاہی ہونی چاہیے۔

صائمہ منیر کہتی ہیں کہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’یہ قانون ناقص ہے کیونکہ یہ پریکٹیکل نہیں ہے۔ وہ مثال دیتی ہیں کہ اگر چترال میں کوئی لڑکی ہراساں ہوتی ہے اور متعلقہ کمیٹی اس کے خلاف فیصلہ دیتی ہے کہ یہ ہراسانی نہیں ہے تو پھر ان کو پشاور آنا پڑتا ہے کہ صوبائی محتسب کے دفتر میں شکایت کریں اور انصاف حاصل کریں۔ اس قانون میں ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ اگر رخشندہ چاہیں بھی تو اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکتیں۔‘

قمر نسیم کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ اس قانون کے حوالے سے اگاہی نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی حساسیت بھی کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں اتنی گنجائش ہے کہ لڑکیاں اس قسم کے رویوں کو رپورٹ کریں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہراسانی کے حوالے سے بننے والے قانون کے تحت اکثر لڑکیاں اداروں کے اندر کمیٹیوں کو رپورٹ کرتی ہیں، جو پھر فیصلے کرتی ہيں، لیکن اکثر صورتوں میں یہ کیسز باہر نہیں آتے اور ان کے مطابق آنے بھی نہیں چاہییں لیکن اب ان کے پاس قانون موجود ہے اور وہ رپورٹ کر سکتی ہیں۔

ہراسانی کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟

صائمہ منیر نے بتایا: پہلا تو یہ کہ جو قانون بنا ہے اگر اس کو آسان کرکے اس کے تحت سزائیں شروع ہوجائیں۔ دوسرا یہ کہ اپنے لوگ خواتین کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کو حقوق دیں اور تیسری سب سے اہم بات ہے کہ معاشرتی سطح پر لوگ اس بارے میں لڑکوں اور مردوں کو بھی سمجھائیں کہ گھر سے باہر نکلنے والی لڑکی ان کے لیے نہیں نکلی ہے، ان کی عزت کریں نہ کہ ہراساں کیا جائے۔‘

قمر نسیم کہتے ہیں کہ اس قانون بننے سے خواتین کو کچھ حوصلہ ملا ہے لیکن قانون کو عمل میں لانا ہوگا اور اس قانون کو شفاف طریقے سے چلایا جانا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں کہ اداروں میں جو کمیٹیاں بنی ہیں، اس کے حوالے سے شکایات کی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں پھر محتسب کے دفتر کا کردار اہم ہے کہ اس مسئلے کو دیکھے اور یہ کمیٹیاں بنانا پہلا قدم تھا جو کہ لیا گیا ہے، ابھی ان کمیٹیوں پر اور اس کی تربیت پر کام کرنا چاہیے۔

صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسانی رخشندہ ناز کہتی ہیں کہ صوبے کے تقریباً ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر دفتر موجود ہیں اور ہر کوئی وہاں شکایت کرسکتا ہے۔ ’سوشل ویلفیئر دفتر میں نہ صرف ان کے دائرہ اختیار میں آنے والے کیسز لیے جاتے ہیں بلکہ خواتین سے متعلق کیسز، جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، انہیں بھی لے کر متعلقہ اداروں کو بھیجا جاتا ہے۔‘

بشکریہ انڈیپینڈینٹ اردو

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s