آپ خوش قسمت ہیں یا بد قسمت؟

فرض کیجیے کہ آپ کسی گلی میں پیدل جا رہے ہیں اور ایک گھر کے سامنے سے گذر رہے ہیں- آپ کو یہ علم نہیں ہے اس گھر میں ڈاکو گھسے ہوئے ہیں اور گھر کو لوٹ رہے ہیں- گھر والے ڈاکوؤں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں- ڈاکو گھر والوں پر فائرنگ شروع کر دیتے ہیں- ان کی ایک گولی گھر کی کھڑکی کے شیشے کو توڑتی ہوئی آتی ہے اور آپ کے بائیں بازو میں پیوست ہو جاتی ہے- آپ کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا جاتا ہے جہاں ڈاکٹر آپ کی مرہم پٹی کرتے ہیں- مرہم پٹی کرنے کے بعد آپ کو گھر بھیج دیا جاتا ہے

سوال یہ ہے کہ اس واقعہ کی رو سے آپ خوش قسمت ہیں یا بد قسمت؟ کچھ لوگ اس سچویشن میں اپنے آپ کو بد قسمت تصور کریں گے کہ بیٹھے بٹھائے ایک مصیبت گلے پڑ گئی- لیکن کچھ لوگ عین اسی سچویشن میں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کریں گے کہ گولی محض بازو میں ہی لگی اور معمولی سا زخم آیا ورنہ اس حادثے میں جان بھی جا سکتی تھی- گویا خوش قسمتی یا بد قسمتی محض مقدر کا کھیل ہی نہیں ہے بلکہ اس میں انسان کی اپنی سوچ اور رویے کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے

نفسیات کے ماہر ڈاکٹر رچرڈ وائزمین جو کہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کئی سالوں سے اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ لوگوں کی زندگی میں قسمت کا عمل دخل کس حد تک ہوتا ہے- اس تحقیق سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو لوگ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں وہ عموماً زیادہ ہنس مکھ اور خوش مزاج ہوتے ہیں، زندگی میں مثبت رویہ رکھتے ہیں، اور لوگوں سے آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بات کرتے ہیں جس سے ان کے انداز میں خود اعتمادی جھلکتی ہے- ایسے لوگ اپنی ناکامیوں سے زیادہ پریشان نہیں ہوتے بلکہ ناکامیوں سے سبق سیکھتے ہیں اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں- ان کی خود اعتمادی اور ان کا دوستانہ رویہ ان کے لیے کامیابیوں کی راہیں کھولتا چلا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ زیادہ لوگوں سے ملتے ہیں، لوگوں سے بہتر طور پر کمیونیکیٹ کر سکتے ہیں، اور دیرینہ تعلقات استوار رکھتے ہیں

اس کے برعکس جو لوگ اپنے آپ کو بدقسمت سمجھتے ہیں ان میں عموماً خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے جو ان کی پریشانی کا باعث بنتی ہے- اس پریشانی کی وجہ سے یہ لوگ بہت سے ایسے مواقع ضائع کر دیتے ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا- تجربات سے یہ بات ثابت کی جا چکی ہے کہ جب آپ کسی پریشانی میں گھرے ہوں تو آپ اپنے ماحول پر پوری توجہ نہیں دے پاتے اور بہت سی چیزوں کو نہیں دیکھ پاتے- گویا جو لوگ پریشان ہوتے ہیں اور اپنی پریشانیوں پر ہی فوکس کیے رکھتے ہیں وہ بہت سے مواقع محض اس لیے ضائع کر دیتے ہیں کہ وہ ان مواقع کی طرف توجہ ہی نہیں دے پاتے- اگر ایسے لوگ کسی کام میں ناکام ہو جائیں تو وہ اپنی ناکامیوں کی وجہ تلاش کرنے کے بجائے صرف اپنی ناکامی کے غم میں ہی مبتلا رہتے ہیں

اس مفروضے کو ٹیسٹ کرنے کے لیے پروفیسر وائزمین نے ایک نفسیاتی تجربہ ترتیب دیا- اس تجربے میں پہلے لوگوں کو ایک سروے دیا گیا جس میں انہیں اپنے بارے میں کچھ سوالات کے جواب دینا تھے- ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں یا بدقسمت- اس کے بعد انہیں ایک اخبار دیا گیا جس میں انہیں ایک مقررہ وقت کے اندر اندر اخبار میں موجود تصاویر کو گننا تھا-

اس تجربے کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ اپنے آپ کو بدقسمت کہتے تھے انہوں نے اخبار میں تصاویر کو گننے میں اوسطاً دو منٹ لگائے- اس کے برعکس جو لوگ اپنے آپ کو خوش قسمت کہتے تھے ان کی اوسط ایک منٹ سے بھی کم تھی- اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ اخبار کے دوسرے صفحے پر جلی حروف میں لکھا تھا: ‘گننا بند کر دیجیے- اس اخبار میں 43 تصاویر ہیں’- خوش قسمت افراد نے یہ ‘خبر’ پڑھ لی اور ان کا کام پورا ہو گیا- بدقسمت افراد تصویریں گننے میں اتنے محو تھے کہ انہوں نے اس ‘خبر’ کی طرف دھیان ہی نہیں دیا- گویا خوش قسمت افراد اپنے ارد گرد پر زیادہ توجہ دے رہے تھے

ڈاکٹر وائزمین نے اس تجربے کے بعد ایک پروگرام تشکیل دیا جسے انہوں نے ‘لکی سکول’ کا نام دیا- اس پروگرام میں لوگوں کو مثبت انداز فکر کی تربیت دی جاتی- اس پروگرام کے نتائج حیرت انگیز حد تک مثبت نکلے- اس پروگرام کے مکمل ہونے کے بعد اسی فیصد سے زیادہ شرکاء اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ خوش قسمت اور زندگی سے مطمئن سمجھنے لگے- اس پروگرام میں یہ سکھایا گیا تھا کہ مثبت رویہ کیسے رکھا جائے، مواقع کی تلاش کیسے کی جائے اور ان موقعوں سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے- اس پروگرام میں جو بنیادی اصول سکھائے گئے وہ یہ ہیں:

کشادہ ذہنی: ایک ہی مقصد کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے رہنا درست نہیں ہے- اپنا ذہن کشادہ رکھیے اور راستے میں آنے والے نئے مواقع کو بھی نظر میں رکھیے- یہ مواقع آپ کی قسمت بدل سکتے ہیں

مثبت رویہ: زندگی میں صرف منفی چیزوں پر ہی فوکس کرنا پریشانیوں میں اضافہ کر دیتا ہے- اگر آپ اپنی پریشانیوں میں کمی چاہتے ہیں تو زندگی میں مثبت چیزوں پر فوکس کیجیے، مثبت نتائج کی توقع رکھیے لیکن اگر مثبت نتائج نہ نکل پائیں تو بھی اس پہلو پر نظر رکھیے کہ آپ اس تجربے سے کیا سیکھ سکتے ہیں اور اپنے آپ کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں

معمول کے خلاف کام: روزمرہ کا معمول ایک عادت بن جاتا ہے جسے ہم بغیر سوچے سمجھے سرانجام دینے لگتے ہیں- معمول کو توڑنے اور الگ الگ قسم کے کام کرنے سے ذہن کو کشادگی ملتی ہے- روزانہ ایک ہی راستے پر مت چلیے، راستے بدل بدل کر چلیے- روزانہ ایک سی ہی غذا مت کھائیے، ایک ہی کھیل مت کھیلیے- زندگی میں تنوع پیدا کیجیے- اس تنوع سے سوچ کو بھی تنوع ملے گا اور آپ کے ذہن میں کامیابی کے نئے راستے سوجھنے لگیں گے

چنانچہ آپ خوش قسمت ہیں یا بد قسمت، اس کا تعلق آپ کے مقدر سے کم اور آپ کی سوچ کے انداز سے زیادہ ہے- آپ خواہ کسی بھی حالت میں ہوں، اپنی سوچ کو مثبت رکھنے سے آپ پہلے سے زیادہ خوش قسمت بن سکتے ہیں

 

https://www.inc.com/melissa-chu/want-to-become-luckier-heres-what-you-need-to-do-a.html?fbclid=IwAR3bOrYvx7Ujn_mPqwlRLD85s5ntJ9jsD2H6OORR2DKyX95eHNVneFN84FM

 

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s