سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے والی پانچ شیر بہنیں.پانچ بییٹوں کی پیدائش پر افسوس کرنے والے آج مبارک باد دے رہے ہیں.والد ملک رفیق اعوان

ان پانچوں بہنوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور سے ہے اور ملک رفیق اعوان اور خورشید بیگم کی ان پانچوں بیٹیوں نے راولپنڈی کے کانونٹ سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہ وہی سکول ہے جہاں پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے بھی اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔

سب سے بڑی بہن لیلیٰ ملک شیر نے سنہ 2008 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا تھا اور اس کامیابی نے ان کی چھوٹی بہنوں کو وہ راہ دکھائی کہ ہر دو سے تین سال بعد ایک بہن سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرتی چلی گئیں۔

لیلیٰ ملک شیر اس وقت کراچی میں انکم ٹیکس کے محکمے میں ڈپٹی کمشنر کے فرائض ادا کر رہی ہیں۔

انھوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 21 سال اور کچھ دن کی عمر میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کی سب سے کم عمر سی ایس پی افسر بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

لیلیٰ نے مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد انگریزی ادب میں ایم اے کیا تھا۔

اس کے بعد شیریں ملک شیر کی باری آتی ہے جو آج کل نیشنل ہائی وے اتھارٹی اسلام آباد میں ڈائریکٹر ہیں۔

تیسری بہن سسی ملک شیر ڈپٹی ایگزیکٹو سی ای او چکلالہ کینٹ راولپنڈی ہیں اور پھر ماروی ملک شیر جو بطور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد فرائض ادا کر رہی ہیں۔

ضحیٰ ملک سب سے چھوٹی بہن ہیں اور 17 جون کو جاری کیے جانے والے نتائج کے مطابق وہ آفیسرز مینجمنٹ گروپ میں شمولیت اختیار کریں گی۔

ضحیٰ زمانہ طالب علمی میں کالج نیٹ بال کی کپتان اور سٹوڈنٹس کونسل کی صدر بھی تھیں۔ انھوں نے نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ میں ماسٹرز بھی کیا ہے۔

ضحیٰ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بچپن ہی سے ہمیں ہماری والدہ اور والد نے بتایا تھا کہ ہمیں خودمختار بننا ہے اور ہماری تعلیم و تربیت پر بہت محنت کی۔‘

’جب میری بڑی بہن لیلی ملک شیر نے سی ایس ایس پاس کیا اور انھیں دیکھا تو اس سے مجھے بھی لگا کہ مجھے بھی ایسا بننا ہے۔‘

اس سے قبل، ضحیٰ ریڈیو اسلام آباد کے ایک پروگرام ’رابطہ‘ میں اینکر کے فرائض انجام دیا کرتی تھیں جہاں پر خواتین اور مختلف لوگ انھیں ٹیلی فون کر کے اپنے مسائل بتایا کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت ہی سوچ لیا تھا کہ اگر ایک ریڈیو پروگرام سے اس طرح لوگوں بالخصوص خواتین کے مسائل حل ہوسکتے ہیں تو یقیناً سول سروس میں شمولیت اختیار کر کے میں بہت کچھ کر سکتی ہوں۔

انھوں نے اپنے والدین کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بچپن ہی سے ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہم نے دنیا میں کچھ کرنا ہے۔ کچھ ایسا کرنا ہے جو یاد رہ جائے۔

’خود کو خود مختار بھی بنانا ہے اور ملک وقوم کی بھی خدمت کرنی ہے۔‘

اسی لیے میرے والدین شروع سے یہی کہا کرتے تھے کہ ہم بہنوں کو سی ایس ایس افسر بننا چاہیے کیونکہ اس میں کام کرنے کے بہت مواقع ہیں بلکہ صلاحیتوں کا صحیح طور پر اظہار بھی ہو سکتا ہے۔

ان بچیوں کے والد ملک رفیق اعوان واپڈا سے ایس ڈی او ریٹائرڈ ہیں۔ ان کی آبائی رہائش تو ضلع ہری پور میں ہے مگر ایک عرصے سے وہ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔

kkkkkkkkkop

وہ بتانے لگے کہ ’جب میری پانچویں بیٹی کی پیدائش ہوئی تو اس وقت میرے رشتہ داروں نے ہم لوگوں کو مبارک باد دینے کی جگہ ہم دونوں سے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ اس مرتبہ بھی بیٹا نہیں ہوا ہے۔

’بیٹی پر ہمیں تو کوئی غم نہیں تھا مگر عزیزوں رشتہ داروں کے رویہ پر کچھ افسوس ضرور ہوا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آج جب کئی سال بعد میری پانچویں بیٹی نے بھی سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا ہے تو رشتہ دار مبارک باد دینے کے لیے ٹیلی فون پر ٹیلی فون کر رہے ہیں اور گھر میں مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

’اکثریت وہی لوگ ہیں جو پانچ بیٹیوں پر کھلے یا ڈھکے چھپے انداز میں ہم سے افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے۔‘

ملک رفیق اعوان کو اس رویے کا سامنا ان کی پہلی بیٹی کی پیدائش ہی سے تھا۔ تاہم جب ان کی دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو اس وقت ان کے والد شیر محمد حیات تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس موقع پر کسی نے بڑے عجیب سے لہجے میں کہا کہ رفیق کی دوسری بیٹی پیدا ہوئی ہے تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’یہ بیٹیاں نہیں بیٹے ہیں۔‘

’جس پر اسی وقت میں نے اپنے دونوں بیٹیوں کے نام کے ساتھ اپنے نام کی جگہ پر ان کے دادا شیر کا نام لگایا تھا اور باقی بیٹیوں کے ساتھ بھی اسی طرح کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میری چار بیٹیوں کے نام افسانوی کرداروں لیلیٰ، شیریں، سسی، ماروی کے ناموں پر ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کے پیچھے بھی خواہش تھی کہ میری یہ بیٹیاں ملک و قوم کے لیے ایسا کام کریں گی جس میں ان کی شہرت ہو گی جبکہ پانچویں بیٹی ضحیٰ کا نام قران سے لیا گیا ہے جس کا مطلب روشنی کا آغاز ہے۔

’ایسا شاید اس لیے کیا تھا کہ اس کی پیدائش کے موقع پر لوگوں کا رویہ کچھ زیادہ ہی برا تھا مگر میرے لیے تو وہ بہت قیمتی اور روشنی ہی کی طرح تھی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s